ہمارے طلبہ کا حال کیا ہے ؟ (الف)بیشترطلبہ رات رات بھر ریلیں دیکھ رہے ہیں (ب) اُن میں سے کئی ریلیں اخلاق سوز بھی ہوتی ہیں (ج) طلبہ کی پڑھائی کو پوری طرح ڈسٹرب (د) نیند پوری نہ ہونے کی بناء پر کلاس روم میں عدم توجہی (و) طلبہ کا فوکس یا ارتکاز نہیں کر رہے ہیں (ہ) طلبہ کے ہدف تبدیل ہورہے ہیں۔
تعریفیں بدل گئیں :
ہمارے ملک کے تعلیمی نظام میں کئی کِردار کی تعریفیں بدل چکی ہیں۔ اُستاد شکشن سیوک بن گئے، تعلیمی اِدارے کے ذمہ دار شکشن سمراٹ بن گئے اور والدین بیچارے اے ٹی ایم بن کے رہ گئے ہیں۔ اب اس کا جائزہ لیجئے : اُستاد کے شکشن سیوک بننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ انگوٹھے چھاپ سیاست دانوں کے جی آر (حکم ناموں ) کی من و عن پیروی کریں گے۔ وہ اساتذہ اپنی عقل کا استعمال نہیں کریں گے، اپنی بات نہیں رکھیں گے اور اَن پڑھ سیاست دانوں کے فرمان بجالائیں گے۔ بعض تعلیمی اِداروں کے ذمہ داران بدمست ہاتھی کی طرح اودھم مچارہے ہیں، وہ آزاد ہوگئے ہیں، اسلئے اب وہ من مانی کر رہے ہیں۔ قانونی چارہ جوئی سے ہرگز نہیں ڈرتے کیوں کہ اُنھیں معلوم ہے کہ ’لفافے‘ اور زیادہ سے زیادہ ’بریف کیس‘ سے کام بن جاتا ہے۔ اِداروں کے یہ شکشن سمراٹ من مانی فیس وصول کرتے ہیں۔ بے تحاشہ خرچ اور کم آمدنی کے جعلی کاغذات بناکر کھلا فراڈ کرتے ہیں۔ کبھی اقلیتی اِدارے کا درجہ حاصل کرکے حکومتی مراعات حاصل کرتے ہیں، اچھے اور ذمہ دار اساتذہ کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں۔ فرضی اساتذہ کے نام بتاکر اُن کی تنخواہیں بھی ہضم کرجاتے ہیں۔ اس نظام میں طلبہ اور والدین کو صرف روپے پیسے اُڑانے والی مشین سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کے محکمۂ تعلیم نے کچھ ایسا جال بُنا ہے کہ کوچنگ کلاس مافیا سارے تعلیمی کیمپس میں گھُس کر تعلیمی نظام پر قبضہ کرچکی ہے۔ تعلیمی نظام کے اِ س دردناک منظر نامے میں طالب علم پوری طرح نظر انداز ہوچکا ہے۔
بدترین غلامی:
پورا برِّ صغیر ۲۰۰؍سال تک انگریزوں کا غلام رہا۔ غلامی کی یہ خونچکاں داستان تاریخ کے صفحات پر درج ہے مگر اب ایک ایسی غلامی کا شکار ہم ہوچکے ہیں جو بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے عرصے میں صرف نئی نسل نہیں بلکہ لگ بھگ تین نسلیں سوشل میڈیا کی غلام بن گئی ہیں۔ دنیا بھر میں کئی جگہوں پر انجینئر اور ٹیکنیشین دن رات نِت نئے ایپ ایجاد کرنے میں مصروف ہیں۔ بدقسمتی سے اُن میں سے اکثر دماغ صرف شیطانی ہیں یعنی وہ صرف شرکو پھیلانے میں مصروف ہیں کیونکہ انسانی فطرت شر کو جلد قبول کرتا ہے۔ والدین نئی نسل کو روکنے میں ناکام ہورہی ہے۔ بڑی مِنّت و سماجت کے بعد والدین یہ کہہ کر ہتھیارڈال رہے ہیں کہ اُنھوں نے روزانہ ۵۔ ۶؍گھنٹے سوشل میڈیا پر لگے رہنے کی اجازت دی ہے، صبح ۲؍گھنٹے، شام ۲؍گھنٹے اور نئی نسل مطالبہ کر رہی ہے کہ رات میں بھی مزید۲؍گھنٹے کا اضافہ کیا جائے یعنی دن کے ساتھ ساتھ رات کی بھی پڑھائی کابھی کوئی ٹھکانہ نہیں۔ اب الیکٹرانی یلغار کا نتیجہ دیکھ لیجئے کہ پہلے کے طلبہ اور اُن کے اُستاد خوش خطی پر کتنی توجہ دیتے تھے۔ اُس زمانے میں ہم پہلے تختی پر لکھتے تھے، پھر لکڑی کے قلم اور دوات کا استعمال کرتے، اُس کے بعد آتی چار لائن کی بیاض، پھر دو لائن کی بیاض، آخر میں سنگل لائن کی بیاض۔ اُس زمانے میں خوش خطی کے مقابلے بھی ہوا کرتے تھے اور اُس خوش خطی کا بڑا خوشگوار اثر پڑتا تھا طلبہ کی شخصیت پر۔ اب طلبہ سیدھے موبائل کی اسکرین پر ٹائپ کر رہے ہیں۔ ایسے میں لکھنے کی عادت ختم، خوش خطی کو خدا حافظ! یہی نہیں ہمارے طلبہ کا حال کیا ہے ؟ (الف)بیشترطلبہ رات رات بھر ریلیں دیکھ رہے ہیں (ب) اُن میں سے کئی ریلیں اخلاق سوز بھی ہوتی ہیں (ج) طلبہ کی پڑھائی کو پوری طرح ڈسٹرب (د) نیند پوری نہ ہونے کی بناء پر کلاس روم میں عدم توجہی (و) طلبہ کا فوکس یا ارتکاز نہیں کر رہے ہیں (ہ) طلبہ کے ہدف تبدیل ہورہے ہیں۔ والدین بے حد پریشان ہیں اور اُن میں سے اکثر ڈپریشن یا سخت قسم کی مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ غرض کہ سماج کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ رہا ہے، بکھر رہا ہے، غرض کہ ہم ٹِک ٹاک، فیس بُک اور انسٹاگرام وغیرہ کے سپہ سالار بن گئے مگر عملی میدان میں صفر سے بس کچھ اوپر ہیں۔
علاج: والدین مثال قائم کریں کہ وہ سوشل میڈیا کے حصار سے باہر نکلیں۔ وہ خود اپنے ریٖل اور ویڈیوز کے دیکھنے کے وقت پر قابو کر لیں۔ وہ ایمانداری سے جائزہ لیں کہ اُن کو اپنا موبائل ایک دن میں تین تین بار رِچارج کیوں کرنا پڑ رہا ہے مطلب وہ خود سوشل میڈیا کی لت لئے بیٹھے ہیں اور اپنے بچّوں کو صرف اُپدیش دے رہے ہیں۔
اسکول غیر قانونی ؟
ملک بھر میں ہر سال نئے تعلیمی سال کے آغاز ہی میں پورا محکمۂ تعلیم حرکت میں آجاتا ہے اور حکومت سے غیر منظور شدہ اسکولوں کو غیر قانونی قرار دے دیتا ہے اور اخبارات، چوراہوں کے علاوہ اُن اسکولوں کے داخلی دروازے پر بھی بورڈ آویزاں کیا جاتا ہے کہ ہوشیار، خبردار یہ اسکول غیر قانونی ہے، یہاں طلبہ داخلہ نہ لیں۔ محکمۂ تعلیم کے ان غیر ذمہ داروں سے ہمارے کچھ سوال ہیں۔
(۱) کسی اسکول میں اگر بچّوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہو تو وہ اسکول اُس علاقے کی ضرورت ہے، اب اگر حکومت کی شرائط کو پورا نہیں کرپاتی اسلئے اُس کو غیر قانونی کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے؟ (۲) بڑے کیمپس کا مطالبہ بڑے شہروں، حتّیٰ کہ قصبوں میں کس طرح کیا جاسکتا ہے؟ (۳) کئی ایکڑ زمین، کھیل کے وسیع میدان کیا یہ سب اسکول کے اصل معیار پر حاوی ہوسکتا ہے؟(۴) ان بظاہر غیر قانونی اسکولوں میں برسہا برس سے زیرِ تعلیم کا کیا ہوگا؟ (۵) جو رقبے یا تعداد کے لحاظ سے بڑے اسکول کہلاتے ہیں وہاں دو دو شفٹ میں اسکول چلتا ہے، کیا ایسے اسکولوں میں اُن غیر قانونی اسکولوں کے بچّوں کو داخلہ دیا جا سکتا ہے ؟ (۶) کیا ان اسکولوں میں زائد ڈویژن کو منظوری دی جاسکتی ہے ؟ (۷) کیا ان نئے ڈویژنوں کو سرکاری مدد یعنی گرانٹ دی جائے گی ؟ (۸) اگر یہ سب نا ممکن ہے تو اُن بظاہر غیر قانونی اسکولوں کے ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیجئے کہ انہوں نے اپنے علاقے میں اسکول قائم کیا۔
ہاں ! ہر اسکول میں لائبریری، تجربہ گاہ ہو، فیس مناسب ہو، اساتذہ تربیت یافتہ ہوں البتہ اگر کسی اسکول کو غیر قانونی قرار دیا جائے تو وہاں کے طلبہ کے لئے حکومت کا کیا منصوبہ ہے؟ یقین جانئے اگر یہ ’غیر قانونی‘ اسکولیں بند ہوجائیں تو کیا ہوگا؟ (الف) اس ملک میں کے جی/ پہلی جماعت میں داخلے کے لئے ۵؍ سے ۱۰؍ لاکھ روپے تک رشوت طلب کی جائے گی (ب)وہ لاکھوں طلبہ جو داخلہ نہیں لے پاتے اُن کو حکومت دو ٹوک ایک ہی جملہ کہے گی :’’ وہ بچّے اسکول میں داخلہ لینے کا خواب ہی نہ دیکھیں ‘‘(ج)پہلی/ دوسری جماعت میں بھی داخلہ نہ پانے والے طلبہ کے مستقبل کے تعلق سے ہماری عدالتوں سے اگر رجوع کیا جائے گا تو جانتے ہیں ان میں سے بیشتر سے کیا جواب ملے گا ؟ یہی کہ وہ طلبہ دو چار سال انتظار کریں اور بعد میں داخلہ لیں۔ پھر بھی اگر اُنھیں داخلہ نہیں ملے تو یہ سمجھ جائیں کہ تعلیم حاصل کرنا اُن کے نصیب ہی میں نہیں لکھا ہے۔ وہ پہلے اعلیٰ ذات کے طلبہ کو پڑھنے کا موقع دیں تاکہ منوسمرتی پر مکمل عمل ہو جائے (د) آج نیٖٹ / جے ای ای کے امتحان میں کوالیفائی ہونے کے لئے خوب خوب محنت و مشقّت کرنی پڑتی ہے، یہ ساری غیر قانونی، اسکولیں اگر بند ہو جائیں تو نرسری، کے جی اور پرائمری اسکولوں میں داخلے کے لئے بھی لاکھوں روپے خرچ کرنا پڑے گا۔ ہمیں تو یہ بھی خدشہ ہے کہ ہمارے سرکاری ماہرینِ تعلیم حکومت کو یہ مشورہ دیں کہ نرسری /کے جی میں داخلے کے لئے چار سال کے بچّوں کا نیٖٹ/ جے ای ای کے طرز پر کوئی داخلہ امتحان لیا جائے اور اُس ۴؍سال کے بچّوں کے داخلہ امتحان کا پرچہ بھی لیک کردیں گے!
کیسا نظام حکومت نے قائم کیا کہ اس ملک میں شراب کی دکان کھولنے کیلئے آزادی ہے لیکن اسکول کھولنے کیلئے ہزاروں مشکل شرائط ہیں۔ آخر میں ہم والدین سے کہنا چاہیں گے کہ ہزار، پانچ ہزار میں اپنا ووٹ نہ بیچیں، گھروں سے باہر آئیں اور اپنے سیاسی نمائندوں سے یہ شرط رکھیں کہ اُن کے علاقے میں اسکول چاہئے، کالج چاہئے اور اُن میں اُن کے بچّوں کو داخلہ ملناضروری ہے۔ اب اگر اتنا سا بنیادی مطالبہ کرنے پر بھی کسی کو ای ڈی / انکم ٹیکس /سی بی آئی کے ذریعے سے جیل جانے کا ڈر لگ رہا ہے ؟ اگر ہاں تو اس دوسری جنگِ آزادی میں ہر ایک کو حصّہ لینا چاہئے۔