کوئی صارف کسی اے آئی سے بات کرتا ہے، سوال پوچھتا ہے یا تصویر بنواتا ہے تو اس عمل کے دوران معلومات کو کئی چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اسی کو ٹوکن کہا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 9:18 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
کوئی صارف کسی اے آئی سے بات کرتا ہے، سوال پوچھتا ہے یا تصویر بنواتا ہے تو اس عمل کے دوران معلومات کو کئی چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اسی کو ٹوکن کہا جاتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے دنیا ’وائب کوڈنگ‘ کی اصطلاح سے متعارف ہو رہی تھی۔ پروگرامنگ کی دنیا میں یہ ایک نئی سوچ تھی جہاں لوگ مکمل تکنیکی مہارت کے بغیر صرف اپنی ہدایات لکھ کر سافٹ ویئر تیار کرنے لگے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مصنوعی ذہانت نے تخلیق اور پیداوار کے قواعد بدل دیئے ہیں مگر ٹیکنالوجی کی دنیا شاید ہی کبھی ایک جگہ ٹھہرتی ہے۔ ابھی لوگ وائب کوڈنگ کو سمجھ ہی رہے تھے کہ ایک نئی اصطلاح منظر عام پر آ گئی: ٹوکن میکسنگ(Token maxxing)۔
یہ لفظ پیچیدہ محسوس ہوتا ہے، لیکن یہ مصنوعی ذہانت کی معیشت میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر وائب کوڈنگ نے یہ سوال پیدا کیا تھا کہ ’’کون چیز بنا سکتا ہے؟‘‘ تو ٹوکن میکسنگ یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ ’’مصنوعی ذہانت کی اصل کرنسی کیا ہے؟‘‘ مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور میں سب سے قیمتی شے صرف کمپیوٹر، ڈیٹا سینٹر یا سافٹ ویئر نہیں بلکہ ’’ٹوکن‘‘ ہیں۔ آسان الفاظ میں، جب بھی کوئی صارف کسی اے آئی سے بات کرتا ہے، سوال پوچھتا ہے، مضمون لکھواتا ہے یا تصویر بنواتا ہے تو اس پورے عمل کے دوران معلومات کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ انہی حصوں کو ٹوکن کہا جاتا ہے۔ ہر سوال، ہر جواب اور ہر تجزیہ دراصل ٹوکنز کی شکل میں پروسیس ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ مواد، اتنے زیادہ ٹوکن، اور جتنے زیادہ ٹوکن، اتنی زیادہ لاگت۔
چند سال پہلے تک مصنوعی ذہانت کی دوڑ کا مرکز بہتر ماڈل تیار کرنا تھا۔ کمپنیوں کا مقصد زیادہ ذہین، زیادہ درست اور زیادہ طاقتور نظام بنانا تھا۔ مگر اب منظرنامہ بدل رہا ہے۔ جب مصنوعی ذہانت عام صارف تک پہنچ چکی ہے اور لاکھوں لوگ روزانہ اس کا ’بے دریغ‘ استعمال کر رہے ہیں، تو اصل سوال ذہانت سے زیادہ معاشیات کا بن گیا ہے۔ کمپنیاں اب یہ جاننا چاہتی ہیں کہ کم سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ کام کیسے لیا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ٹوکن میکسنگ کا تصور پیش کیا گیا۔ اس رجحان کی بنیاد اس خیال پر ہے کہ ہر کام کیلئے سب سے طاقتور اور مہنگا مصنوعی ذہانت کا نظام استعمال کرنا ضروری نہیں۔ اگر کوئی صرف مختصر معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے تو نسبتاً سستا نظام کافی ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی پیچیدہ تحقیقی کام درپیش ہو تو زیادہ طاقتور ماڈل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یوں ایک ہی پلیٹ فارم مختلف نوعیت کے کاموں کیلئے مختلف سطح کی مصنوعی ذہانت استعمال کرتا ہے تاکہ لاگت کم اور کارکردگی بہتر رہے۔
اگر اسے عام کاروباری زبان میں سمجھا جائے تو یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ایک بڑی کمپنی ہر کام کیلئے اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کو استعمال نہیں کرتی۔ معمولی کاموں کیلئے جونیئر ملازمین ہوتے ہیں، درمیانی نوعیت کے فیصلوں کیلئے منیجرز اور انتہائی اہم معاملات کیلئے اعلیٰ قیادت۔ مصنوعی ذہانت کی دنیا بھی اسی سمت بڑھ رہی ہے۔ یہ صرف تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ ایک بڑی معاشی تبدیلی ہے۔ اے آئی صنعت میں اب مقابلہ صرف ذہانت پر نہیں بلکہ لاگت پر بھی ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر کے ڈیٹا سینٹر بنانے کے باوجود اپنے نظام کو زیادہ مؤثر اور کم خرچ بنانے پر زور دے رہی ہیں۔
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی ڈجیٹل آبادیوں میں سے ایک ہے، مگر ساتھ ہی یہاں قیمت کا عنصر بھی انتہائی اہم ہے۔ مغربی ممالک کے مقابلے میں ہندوستانی صارفین کم لاگت پر زیادہ خدمات حاصل کرنے کے عادی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو واقعی کروڑوں لوگوں تک پہنچنا ہے تو اسے زیادہ سستا، تیز اور مؤثر بنانا ہوگا۔ ہندوستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور نئے کاروباری ادارے پہلے ہی اس سمت میں سوچ رہے ہیں۔ ان کیلئے مصنوعی ذہانت کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ نظام کتنا ذہین ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ ایک سوال کے جواب پر کتنی لاگت آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سب سے بڑی جدت شاید نئے ماڈل بنانے میں نہیں بلکہ موجودہ ماڈلز کو زیادہ کفایتی بنانے میں نظر آئے۔
آج دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ بڑے ڈیٹا سینٹر، جدید چپس اور توانائی کے وسیع وسائل اس صنعت کا حصہ بن چکے ہیں۔ مگر جوں جوں استعمال بڑھ رہا ہے، ایک نیا سوال بھی جنم لے رہا ہے: کیا دنیا اتنے مہنگے اے آئی کا بوجھ طویل عرصے تک برداشت کر سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ٹوکن میکسنگ کو بعض ماہرین مصنوعی ذہانت کی دنیا کا ’کارکردگی انقلاب‘ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک مستقبل میں کامیاب وہی کمپنیاں ہوں گی جو صرف بہترین مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ سب سے زیادہ معاشی طور پر مؤثر مصنوعی ذہانت فراہم کریں گی۔
ایک اہم پہلو توانائی بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت جتنی طاقتور ہوتی جا رہی ہے، اتنی ہی زیادہ بجلی استعمال کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں ماہرین پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے مراکز آنے والے برسوں میں توانائی کی طلب میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ایسے میں اگر کم ٹوکن استعمال کر کے یا مختلف سطح کے نظاموں کو ملا کر وہی نتائج حاصل کیے جا سکیں تو اس سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ توانائی کی بچت بھی ہوگی۔ خیال رہے کہ ٹوکن میکسنگ کو صرف ایک تکنیکی اصطلاح سمجھنا غلط ہوگا۔ درحقیقت یہ مصنوعی ذہانت کی پختگی کی علامت ہے۔ جب کوئی صنعت اپنی ابتدائی حیرت اور تجربات کے مرحلے سے نکلتی ہے تو اس کی توجہ کارکردگی اور منافع پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی اگلی بڑی جنگ ذہانت کی نہیں، بلکہ کفایت کی جنگ ہوگی۔ اور اس جنگ میں فتح اس کمپنی کی ہوگی جو سب سے طاقتور نہیں بلکہ سب سے کفایتی ثابت ہوگی۔