Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران۔ امریکہ جنگ بندی اور اُدھو پارٹی کی پھوٹ اس ہفتے کے اداریوں کا موضوع رہی

Updated: June 26, 2026, 9:21 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ذرائع ابلاغ میں اس پیش رفت پر تبصروں اور اداریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

After another coup, Uddhav has started trying to unite the party, but the damage is done. Photo: INN
ایک اور بغاوت کے بعد ادھونے حالانکہ پارٹی کو متحد کرنے کی کوشش شروع کردی ہے لیکن نقصان تو بہرحال ہوچکا ہے۔ تصویر: آئی این این

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ذرائع ابلاغ میں اس پیش رفت پر تبصروں اور اداریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ متعدد اخبارات نے اس مفاہمت کو خطے میں ایران کی سفارتی و سیاسی برتری اور امریکہ کی پسپائی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے عالمی طاقتوں کے توازن میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ملک کے اندر بھی کئی متنازع حکومتی فیصلے اخباری اداریوں اور کالموں کا موضوع بنے رہے۔ ادھوکی شیوسینا کے چھ اراکین پارلیمنٹ کو اپنے خیمے میں شامل کرنے کی کوشش پر حکمراں جماعت کو شدید تنقید کا سامنا ہے جبکہ مہاراشٹر میں اسمارٹ میٹروں کی تنصیب کے خلاف بڑھتی عوامی ناراضگی کو حکومت کی من مانی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح نیٹ امتحان سے قبل ٹیلی گرام کو عارضی طور پر بند کرنے کے فیصلے پر بھی مختلف حلقوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے اسے طلبہ اور عام شہریوں کے حقوق سے جوڑ کر بحث کا موضوع بنایا ہے۔ 
یہ معاہدہ امریکہ کیلئے صرف نکلنے کا ایک راستہ ہے 
لوک مت( مراٹھی، ۱۹؍جون)
’’اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت سے عالمی سطح پر ایک عارضی سکون کا سانس لیا گیا ہے تاہم اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کی ضمانت قرار دینا زمینی حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ فرانس میں منعقدہ جی ۷؍ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس معاہدے کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن سفارتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ امریکہ کی واضح ناکامی ہے۔ امریکہ نے اس تنازع میں ۳۰؍ ارب ڈالر سے زائد کے اخرات کئے اور اپنی بین الاقوامی ساکھ کو داؤ پر لگایا مگر حاصل کیا ہوا؟ نتیجہ وہی ’جوں کا توں ‘ والی صورتحال ہے جس پر جنگ شروع ہونے سے قبل دونوں ممالک کھڑے تھے۔ امریکی انتظامیہ کے اعلان کردہ ابتدائی اہداف جیسے ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ، موجودہ حکومت کا خاتمہ اور میزائل ذخیروں کی تباہی میں سے ایک بھی ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ رپورٹ کے مطابق ایران کا ۷۰؍ فیصد میزائل ذخیرہ آج بھی ویسا ہی برقرار ہے۔ مزید برآں سخت گیر قیادت کا اقتدار میں آنا ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کی حکمت عملی ایران کو کمزور کرنے کے بجائےاسے مزید سخت گیر بنانے کا باعث بنی ہے۔ آئندہ ۶۰؍ دنوں پر محیط بات چیت امریکہ کیلئے صرف نکلنے کا ایک راستہ ہے۔ یہ پسپائی دراصل امریکہ میں ہونے والےانتخابات کے پیشِ نظر ہے تاکہ ووٹروں کے ممکنہ غیظ و غضب سے بچا جا سکے۔ ‘‘
اسمارٹ میٹر کی تنصیب سہولت نہیں ’بلڈزور‘ ہے
مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۱۷؍جون)
’’بجلی کے شعبے میں جدت لانا یقیناً ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن جب یہی جدت عوام پر زبردستی مسلط کی جائے تو وہ سہولت کے بجائے ایک ’بلڈوزر‘بن کر سامنے آتی ہے۔ بجلی کمپنی’مہاوترن‘کی جانب سے اسمارٹ میٹر کی تنصیب کا موجودہ عمل اسی قسم کے عوامی ردعمل اورعدم اعتماد کا شکار ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب حکومت کا دعویٰ صارفین کو اعتماد میں لینے کا ہے۔ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔ اس پورے عمل میں حکومت اور متعلقہ ادارے کی دوغلی پالیسی سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران متضاد بیانات نے عوام کو ایک عجیب و غریب تذبذب میں مبتلا کر رکھا ہے کہ آیا یہ تنصیب لازمی ہے یا اختیاری۔ اس الجھن میں مزید آگ تب لگی جب صارفین کو واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے کہ ۴۸؍ گھنٹوں میں میٹر تبدیل کر دیا جائے گا۔ یہ طریقہ کار کسی جمہوری حکومت کے شایان شان نہیں بلکہ یہ آمرانہ طرز عمل کی غمازی کرتا ہے۔ حکومت کا استدلال ہے کہ یہ میٹر شفافیت لائیں گے، انسانی مداخلت کو ختم کریں گے اور صارفین کو بجلی کے استعمال پر قابو پانے میں مدد دیں گے۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی کا مقصد یہی ہونا چاہئے لیکن کیا اس ٹیکنالوجی نے عوام کیلئے آسانی پیدا کی؟ مہاراشٹر میں اڈانی گروپ جیسی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کو ہی ان میٹر کی تنصیب کے ٹھیکے ملنا عوامی حلقوں میں شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ ‘‘
نظریات اور اصول محض دکھاوے کی چیز رہ گئے ہیں 
جن ستہ(ہندی، ۱۸؍ جون)
’’مغربی بنگال سے شروع ہونے والی سیاسی جوڑ توڑ اور وفاداری بدلنے کا جو سلسلہ مہاراشٹر کی سیاست تک آن پہنچا ہے جو جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔ مہاراشٹر میں جاری حالیہ سیاسی ہلچل اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے اندر بغاوت کی گونج اس تلخ حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ اب سیاست میں نظریات اور اصول محض دکھاوے کی چیز رہ گئے ہیں۔ آخر وہ کیا محرکات ہیں جو ایک پارٹی کے نظریے کے تحت منتخب ہونے والے اور اسی کے انتخابی نشان پر جیت کر اسمبلی یا پارلیمنٹ پہنچنے والے لیڈروں کو اپنی پارٹی سے منحرف ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں ؟ کیا عوامی مینڈیٹ کی اتنی ہی وقعت رہ گئی ہے کہ اسے ذاتی مفاد اور اقتدار کی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا جائے؟ یہ صورتحال نہ صرف سیاسی اخلاقیات کے زوال کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ان لاکھوں ووٹروں کے اعتماد کا بھی مذاق اڑاتی ہے جنہوں نے ان نمائندوں کو اس امید پر ووٹ دیا تھا کہ وہ ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ یہ انتہائی مایوس کن رجحان ہے کہ جب کوئی سیاسی پارٹی اقتدار کے ایوانوں میں کمزور پڑتی ہے تو اس کے لیڈر اسے سہارا دینے کے بجائے اپنی سہولت کی سیاست تلاش کرنے لگتے ہیں۔ حال ہی میں عام آدمی پارٹی کے کچھ اراکین کا حکمراں جماعت میں انضمام اس بات کا ثبوت ہے کہ اب’اصول‘ صرف زبان کی حد تک رہ گئے ہیں۔ آج جو لیڈر اصولوں کی دہائی دیتے نہیں تھکتے کل وہی کسی اور کشتی میں سوار دکھائی دیتے ہیں۔ شیو سینا کا موجودہ بحران جس کی جڑیں تقریباً چار سال قبل ایک ناتھ شندے کی بغاوت میں پیوست ہیں، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اقتدار کی ہوس کسی بھی بڑی سے بڑی تنظیم کو توڑ سکتی ہے۔ ‘‘
ٹیلی گرام پر پابندی، دراصل سطحی ردعمل کی عکاسی کرتا ہے
دی انڈین ایکسپریس( انگریزی، ۱۸؍جون)
’’نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ( نیٹ)کے دوبارہ انعقاد کے اعلان کے ساتھ ہی حکومت کا ٹیلی گرام کو عارضی طور پر بلاک کرنے کا فیصلہ ایک ایسے اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے جس کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگرچہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کا یہ مؤقف ہے کہ مذکورہ پلیٹ فارم کو غلط معلومات پھیلانے اور پرچے لیک کرنے کے جعلی ثبوت تیار کرنےکیلئے استعمال کیا جا رہا تھا تاہم حکومت کا یہ فیصلہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے سطحی ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ۳؍مئی کو پیش آنے والا امتحانی بحران محض ایک ایپ کے استعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس چین آف کسٹڈی کی ناکامی ہے جس کے تحت نیٹ کے پرچوں کی ترتیب، پرنٹنگ، نقل و حمل اور تقسیم کا عمل انجام پاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب غیر قانونی سرگرمیوں کی جڑیں ان ادارہ جاتی مراحل میں پیوست ہیں تو محض ایک میسجنگ پلیٹ فارم پر پابندی لگا کر ان بنیادی کمزوریوں کا تدارک کیسے ممکن ہے؟ ۱۵۰؍ ملین صارفین پر مشتمل ایک پلیٹ فارم کو نشانہ بنانا بلاشبہ ایک غیر متوازن اور انتظامی زیادتی پر مبنی اقدام ہے جو عوامی سہولت اور تناسب کے اصولوں سے میل نہیں کھاتا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں امتحانی نظام کی ساکھ جس طرح مجروح ہوئی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کا دوسری بار تنازعات کی زد میں آنا نظام کے اندر موجود گہرے سوراخوں کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK