چیت کے مہینے کی شروعات کے ساتھ بیل بھی پکنے شرو ع ہو جاتے ہیں اور شہتوت پک کر گرنے لگتی ہے۔ اِس وقت کا تو نہیں معلوم کہ بچوں کو بیل کتنا پسند ہے اور باغوں میں شہتوت کتنا تلاش کرتے ہیں، لیکن ایک وقت تھا جب بچے پوری پوری دوپہریا یہ پھل تلاش کرنے کیلئے باغوں میں پھرا کرتے تھے۔
گیہوں کی فصلیں پک کر تیار ہو گئی ہیں اوراب وہ ہری بھری سے سنہری ہو گئی ہیں۔ تصویر: آئی این این
چَیت کا مہینہ شروع ہو گیا ہے۔ اس مہینے میں کسان اپنی محنت کا پھل پاتے ہیں۔ فصلیں پک کر تیار ہو رہی ہیں۔ اب وہ ہری بھری سے سنہری ہو گئی ہیں۔ درختوں میں لگی پُرانی پتیاں نکل گئی ہیں، اب اُن میں نئی نئی پتیاں لگ رہی ہیں، جس سے در خت خوب ہرے بھرے ہو گئے ہیں۔ جیسے بچے نئے کپڑے پہن کر اِدھر اُدھر اِتراتے پھرتے ہیں، دوستوں کو دکھاتے ہیں۔ باغ میں پہنچنے پر محسوس ہوا درخت بھی نئے کپڑے زیب تن کرکے جیسے خوشی سے جھوم رہے ہوں۔ ہوا جب ذرا سی تیز چلتی ہے تو وہ اپنی پتیاں لہرا لہرا کر جیسے کہہ رہے ہوں دیکھو ہم بھی نیا نیا پہنے ہیں، بالکل ننھے بچوں کی طرح۔ باغ میں کہیں نیم کا درخت اپنے ہرے دوپٹے کو سنبھالتا نظر آتا ہے، تو کوئی آم کا پیڑ نئی کونپلوں کو ایسے سجاتا ہے جیسے کسی ماں نے بچے کو پہلی بار عید کے کپڑے پہنائے ہوں۔ پیپل کے درخت کی پتیاں ہلکی سی ہوا پر ایسے ہلتی ہیں جیسے شرما کر چہرہ چھپا رہی ہوں۔ گاؤں کے بچے بھی ان درختوں کے نیچے کھیلتے ہوئے کبھی ان پتوں کو ہاتھ لگا کر کہتے ہیں، دیکھونئے کپڑوں کی طرح کتنے نرم ہیں۔
چیت کے مہینے کی شروعات کے ساتھ بیل بھی پکنے شرو ع ہو جاتے ہیں اور شہتوت پک کر گرنے لگتی ہے۔ اِس وقت کا تو نہیں معلوم کہ بچوں کو بیل کتنا پسند ہے اور باغوں میں شہتوت کتنا تلاش کرتے ہیں، لیکن ایک وقت تھا جب بچے پوری پوری دوپہریا یہ پھل تلاش کرنے کیلئے باغوں میں پھرا کرتے تھے۔ بیل توڑنے کیلئے بچے کئی بار اونچے پیڑ پر چڑھنے کا خطرہ بھی مول لیتے تھے۔ کبھی کبھی بڑی لگّی کی مدد سے نیچے ہی سے توڑ لیا کرتے تھے۔ تمام مشکلات کے بعد جب یہ مرحلہ طے ہو جاتا توآم اورمہوے کی پتیاں جمع کرکے آگ جلائی جاتی اور اُس میں بیل کو بھونا جاتا، بھون کر کھانے میں بچوں کو زیادہ مزہ آتا تھا۔ کچھ بچے کہتے ...بیل بھوننے کا انتظار کون کرے، لاؤ اسے ایسے ہی کھاتے ہیں اور وہ وہیں درختوں کی جڑ پر اسے پھوڑتے اور کھانا شروع ہو جاتے۔ کھانے کے بعد منھ میں بیل کا رَس لگ کر سوکھ جاتا۔ اس درمیان اُنہیں پیاس بھی لگی ہوتی ...اب وہ گائوں کے کنویں کے پاس آکر بیٹھ جاتے ... اُنہیں انتظار ہوتا کہ جلدی کوئی پانی بھرنے والا آئے اور پیاس بجھنے کے ساتھ منھ میں لگے بیل کے رَس کوصاف کیا جائے...پھر دور کہیں بالٹی کے کھنکنے کی آواز آتی ...چچا میاں کو کنویں کی طرف آتا دیکھ کر بچوں کو پیاس بجھنے کی امید ہوتی ....وہ بچوں کو دیکھ کر وہیں سے بولتے کنویں کی جگت سے دور رہنا... کہیں پھسل گئے تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ کنویں کے پاس پہنچ کر بالٹی رسی میں باندھتے اور گراری کی مدد سے کنویں میں ڈال دیتے۔ دو تین بار بالٹی کو پانی میں ڈبونے کے بعدرسی کو باہر کھینچتے ہوئے کچھ یوں بڑ بڑاتے...دوپہر کے وقت گھر میں آرام کرتے نہیں بنتا ...اس طرح گرمی میں پیاسے دوڑو گے کہیں ’کالرا‘ ہو گیا تو بستر پر پڑ جائوگے، ساری مستی ڈھیلی ہو جائے گی ... کھٹی میٹھی ڈانٹ کے ساتھ وہ کنویں سے بالٹی نکالتے اور بچے چُلّو باندھ کر باری باری پانی پیتے تھے۔ اب تو پیاس لگنے پر بچے نل تلاش کرتے ہیں۔ پہلے کنویں ڈھونڈے جاتے تھے۔ آج بھی باغوں کے آس پاس، کھیتوں میں کنویں آپ کو نظر آجائیں گے۔ پہلے یہ کنویں لوگوں کی پیاس بجھانے کے ساتھ ہی فصلوں کو بھی سیراب کیا کرتے تھے۔
بیل کے مقابلے شہتوت توڑنا آسان ہے۔ عام طور سے اِس کا درخت چھوٹا ہوتا ہے اور اس کی شاخیں زمین کی طرف جھکی ہوتی ہیں۔ چنانچہ لمبائی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بچے ہاتھ ہی سے شہتوت توڑ لیتے ہیں۔ اونچے درخت پر چڑھنے کے ماہر بچے بندر کی طرح پھرتی سے اوپر جا کر ٹہنیوں کو ہلاتے اور نیچے کھڑے بچے اپنے دامن پھیلا کر شہتوت سمیٹتے۔ کبھی کبھی کوئی ٹہنی زور سے ہلتی اور ساتھ میں بچے کی چیخ بھی نکل جاتی کہ آہستہ ...ورنہ کالو کاکا جاگ جائیں گے۔ گاؤں کےباہر کالو کاکے ٹیوب ویل پر ایک پرانا شہتوت کا پیڑ تھا اس میں جیسے ہی کالے، رسیلے شہتوت پکنے لگتے، بچوں کی آنکھوں میں چمک آ جاتی، مگر مسئلہ یہ تھا کہ درخت کے پاس کالو کاکا کی سخت پہریداری تھی۔ وہاں تک پہنچنا کسی مہم سے کم نہ تھا۔ کوئی بچہ صبح سویرے ہی چپکے سے نکل جاتا کہ شاید وہ سو رہے ہوں۔ کوئی اپنے دوست کوٹیوب ویل کے پاس اس ہدایت کے ساتھ کھڑا کرا دیتا کہ وہ جیسے ہی نکلیں فوراً آواز دے دینا۔ خیر یہ تمام مہمات کو سر کرکے جب بچے شام کو گھر پہنچتے تو والدہ ایک ہاتھ سے انہیں پکڑتیں اور دوسرے ہاتھ سے پٹائی شروع ہوجاتی اور شہتوت کے کھٹے میٹھے ذائقے کا مزہ پھیکا پڑ جاتا۔ کم و بیش سبھی ساتھیوں کی یہی حالت ہوتی۔ شام کو جب گھر پر پڑھنے بیٹھتے تو وہاں بھی خوب سختی ہوتی۔ عام دنوں میں سبق یاد کرنے کے دوران جہاں رعایت مل جاتی تھی، اُس روز وہاں بھی کَس کے پٹائی ہوتی۔ گویا بچوں پر دُہری مار پڑتی تھی۔
بات ’چَیت‘ کے مہینے سے شروع ہو ئی تھی۔ بتاتا چلوں کہ اس مہینے میں کسان ہی نہیں بلکہ درخت، پودے اور پرندے بھی نئے رنگ میں نظر آتے ہیں۔ وہ فضا میں گنگناتے ہیں ، نئے گیت گاتے ہیں اور گیہوں کی پکی بالیاں لے کر اُڑ جاتے ہیں۔