Inquilab Logo Happiest Places to Work

سردیوں میں سورج نظرآتے ہی خواتین چار پائی پر گیہوں پھیلا کر بیٹھ جاتی ہیں

Updated: January 04, 2026, 6:00 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

گائوں میں یکم جنوری اور نئے سال کا پہلے تصور ہی نہیں تھا۔ بچپن میں کتنے ہی دسمبر گزرگئے اور جنوری آکر چلی گئی لیکن اس پر کوئی جشن و ہنگامہ نہیں ہوا۔ وہاں تو فصلیں جب کھیتوں سے کٹ کر گھر آتی تھیں تو جشن کا سماں ہوتا تھا۔

It is necessary to dry the wheat in the sun before sending it to the mill for grinding, otherwise the flour will not be made properly. Photo: INN
گیہوں کو پیسنے کیلئے چکی پر بھیجنے سے قبل دھوپ میں سکھانا ضروری ہوتا ہے، ورنہ آٹا ٹھیک نہیں بنتا۔ تصویر: آئی این این

جنوری کی پہلی صبح کہرے کی دبیز چادر میں نہیں لپٹی تھی بلکہ دھوپ کی کرنوں سے چمک رہی تھی۔ ہفتوں سے جاری سرد لہرسے آج راحت نصیب ہو ئی تھی۔ رضائی کے تلے بستر میں دبے بزرگ آج دھوپ دیکھ کر باہر آرہے تھے اور دیوار کے قریب بیٹھ کر دھوپ سینک رہے تھے تاکہ وہ ٹھنڈی ہوائوں سے محفوظ رہیں اوردھوپ کی گرمی ان کے بوڑھے جسم میں نئی توانائی بھر دے۔ گائوں میں جنوری کی پہلی تاریخ یعنی نئے سال پر کوئی شور ہنگامہ نہیں تھا، دھوپ نکلنے پر کسان کھیتوں کا رخ کررہے تھےکہ اس گنگنی دھوپ میں اُس کی حالت معلوم کی جائے کہ وہ کہیں پانی تو نہیں مانگ رہا ہے یعنی اس کی سینچائی ضروری تو نہیں ہو گئی ہے۔ گائوں میں جب کوئی اپنا کھیت دیکھنے جاتا ہے تو آس پاس اپنے پڑوسیوں کے کھیت کا بھی پورا خیال رکھتا ہے۔ واپس آنے پر پڑوسی کو اُس کے کھیت کی صورتحال سے آگاہ کرتا ہے کہ بھیا آپ کا گیہوں پانی مانگ رہا ہے۔ اُس کی بروقت سینچائی ضروری ہو گئی ہے ورنہ بیج کمزور پڑ جائیں گے۔ 
گائوں میں یکم جنوری اور نئے سال کا پہلے تصور ہی نہیں تھا۔ بچپن میں کتنے ہی دسمبر گزرگئے اور جنوری آکر چلی گئی لیکن اس پر کوئی جشن و ہنگامہ نہیں ہوا۔ وہاں تو فصلیں جب کھیتوں سے کٹ کر گھر آتی تھیں تو جشن کا سماں ہوتا تھا۔ جب گنے کٹتے اور رس کی پیرائی ہوتی اور پھر کڑاہ پر رس کو پکا کر گُڑ تیار ہوتا توکیا بچے اور کیا بوڑھے سب تازہ تازہ گُڑ لینے کیلئے بھٹی کے پاس لائن لگا دیتے۔ گائوں میں یہی تو جشن کے دن تھے۔ پھر دیررات تک اُسی بھٹی کے پاس گُڑ کی بھیلیاں باندھی جاتیں اور گھر کے بزرگ بچوں کو قصے کہانیاں سناتے تھے۔ خواتین وہیں بیٹھ کر گھر کا ڈھیر سارا کام قبل از وقت نمٹا لیتی تھیں۔ تازہ تازہ گُڑکھانے اور بھٹی کے پاس بیٹھنے سے سردی کوسوں دور بھاگ جاتی تھی۔ شہروں میں نئے سال پر لوگوں کو پھول پیش کئے جاتے ہیں ۔ گائوں میں سرسوں اور ارہر کے پھول کسان کا خود استقبال کرتے ہیں ۔ ہوا چلنے پرایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسان سے بغل گیر ہو کر کان میں سرگوشیاں کررہے ہوں کہ اس بار پھولوں کی طرح اناج بھی بوریاں بھر بھر کر آئےگا۔ اس طرح جب فصلیں جھومتی ہیں تو کسان کیلئے وہی جشن کا دن ہوتا ہے۔ چند برس پہلے تک تو گائوں میں نئے سال کی کوئی دھوم نہ تھی لیکن اب شہروں کی طرح گائوں میں بھی نیا سال جوش و خروش کے ساتھ منایا جانے لگا ہے۔ گائوں کے لوگ بھی ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکباد دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ورنہ گائوں میں تو عید بقرعید، ہولی دیوالی پر یا پھر سر پر سہرا باندھے نوشہ میاں کو ہی مبارکباد دی جاتی تھی۔ موبائل کے ذریعہ گھر گھر انٹر نیٹ پہنچنے سے سارے فاصلے ختم ہو گئے ہیں۔ واقعی اب دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ گائوں میں ہونے والے معمولی واقعات پڑوس کے لوگوں تک پہنچنے سے پہلے ممبئی اور دہلی والوں تک پہنچ گئے۔ اب تو گائوں کی چھوٹی بڑی سرگرمیاں بسا اوقات لائیو چلنے لگی ہیں۔ غرضیکہ گائوں بھی اب شہر سے پیچھے نہ رہے۔ پرانے رسم و راج ختم ہو رہے ہیں اور نئی نئی خرافات جنم لے رہی ہیں ۔ اس کا سب سے زیادہ اثر شادی بیاہ کی تقریبات پر پڑا ہے۔ نئی رسموں کے چکر میں فضول خرچی حد درجہ بڑھ گئی ہے۔ اس عمل سے غریب اور متوسط طبقہ کافی متاثر ہے۔ ایسی تقریبات پر غیر ضروری اخراجات نے عام آدمی کی زندگی کو دشوار کر دیاہے۔ 
بات جنوری کی گنگنی دھوپ سے نئے سال کے جشن اور شادی بیاہ کے رسم ورواج تک پہنچ گئی۔ ہاں تو اُس روز جب کئی دنوں بعد دھوپ نکلی تو سمجھئے گائوں والوں کو جیسے نعمت غیرمترقبہ مل گئی ہو۔ خواتین کئی دنوں سے گھر میں جمع بچوں کے کپڑے دھلنے کیلئے پمپنگ سیٹ پر بیٹھ گئیں۔ جو لوگ کئی روز سے نہائے نہیں تھے وہ بھی دھوپ دیکھ کر نہانے کی ہمت جٹانے لگے۔ کچھ اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ ابھی دھوپ میں اور شدت آجائے اور گرمی بڑھ جائے تو نہایا جائے۔ دوپہر تک دھوپ کافی سخت ہو گئی لیکن ان کے ارادے نرم پڑ گئے کہ چلو اگلے روز جب دھوپ نکلے گی تب نہایا جائے گا۔ اتنی بھی جلدی کیا ہے ابھی تو نیا سال شروع ہی ہوا ہے۔ 
خواتین کو تو دھوپ دیکھ کر جیسے لالچ سی لگی ہو، وہ دھوپ والے سارے کام نمٹا لینا چاہتی ہیں۔ کپڑے دھوکر جیسے ہی فرصت ملی تو چار پائی پر گیہوں پھیلا کر بیٹھ گئیں تاکہ اس میں دھوپ لگ جائے اور نمی ختم ہو جائے اور چکّی پر گیہوں پیسنے میں آسانی ہو۔ بعض خواتین تو اس قدر صفائی پسند ہوتی ہیں کہ وہ گیہوں دھل کرسکھاتی ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ آٹے کی پاکیزگی ضروری ہے، کیونکہ اس کا تعلق صحت کے ساتھ روح سے بھی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK