Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہ مشترکہ خاندان کا زمانہ تھا، الگ رہنے کو لوگ عیب سمجھتے تھے

Updated: August 10, 2025, 2:25 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

یہ مشترکہ خاندان کا زمانہ تھا، جب گائوں میں سب بھائی آپس میں مل جل کر رہتے تھے۔ اس وقت بٹوارے اور الگ رہنے کو عیب سمجھا جاتا تھا۔ لوگ والدین اور بھائیوں سے الگ رہنے والے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔

Vegetable vines grown around houses cover not only walls and ceilings but also doors. Photo: INN.
گھروں کے آس پاس اُگائی جانے والی سبزیوں کی بیلیں نہ صرف دیواروں اور چھتوں کو بلکہ دروازوں کو بھی ڈھک لیتی ہیں۔ تصویر: آئی این این۔

بارش شروع ہوتے ہی سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھونے لگتی ہیں۔ تیز بارش سے سب سے زیادہ اثر ترکاری کی کاشت پر ہی ہوتا ہے۔ ایک طرف جہاں دھان کی فصل بارش سے لہلہا اُٹھتی ہے تو وہیں سبزی کی کھیتی زیادہ بارش سے کھیتوں میں سڑنے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں منڈی میں سبزی کی قلت ہوجاتی ہے اور جو سبزیاں دوسری ریاستوں سے آتی بھی ہیں وہ اتنی مہنگی ہوتی ہیں کہ خریدار کا جھولا بھرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کسانوں کی سبزیاں مارکیٹ میں بھلے ہی نہ پہنچ پائیں لیکن عوام کو اپنے لئے سبزیوں کا انتظام تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ ویسے بھی لوکی، کوہڑا (کدو)، کریلا، نینوا، تُرئی اور ستپوتیا وغیرہ اُگانے کیلئے زیادہ زمین کی ضرورت نہیں ہوتی اور انہیں بارش میں ڈوبنے کا بھی خطرہ نہیں ہوتا ہے۔ ان ترکاریوں کو اُگانے کیلئے چھوٹی سی زمین میں ان کے بیج گاڑ دیئے جاتے ہیں اور پھر ڈنڈے کے سہارے یہ دیوار وں اور چھپروں پر چڑھا دی جاتی ہیں جیسے ہی بارش ہوتی ہے، یہ بیج چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور پھر وہ چھت پر چڑھ کر پھل دینے لگتے ہیں۔ دھیرے دھیرے ان سے روزانہ اتنی سبزیاں پیدا ہونے لگتی ہیں کہ وہ خاندان، پڑوسیوں اور رشتہ داروں میں بطور تحفہ تقسیم کی جانے لگتی ہیں۔ 
کئی سال پہلے کی بات ہے۔ موسلا دھار بارش سے کھیتوں میں پانی بھر گیا تھا۔ کھیتوں میں بوئی گئی بھنڈی، بیگن، مرچی اور لوکی جیسی سبزیاں ڈوب کر برباد ہو گئی تھیں۔ گھر کیلئے پوکھر کے کنارے لگائی جانے والی سبزیاں بھی مسلسل ہونے والی بارش کی نذر ہو گئی تھیں، کسی میں پھول نہیں نکل پایا تھا۔ صرف کوہڑا (کدو) ہی بچ پایا تھا۔ اُس سال کدو کی بیل میں ڈھیر سارے پھل لگے تھے۔ یہ مشترکہ خاندان کا زمانہ تھا، جب گائوں میں سب بھائی آپس میں مل جل کر رہتے تھے۔ اس وقت بٹوارے اور الگ رہنے کو عیب سمجھا جاتا تھا۔ لوگ والدین اور بھائیوں سے الگ رہنے والے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ ہاں تو اُس بارش نے سب کے کچن کا بجٹ بگاڑ دیا تھا۔ اُس وقت گائوں میں تقریباً سبھی سبزیاں مسالے، تیل اوردالیں اپنے کھیت میں تیار ہوتی تھیں ۔ اگر ان کی کھیتی کو کسی وجہ سے نقصان پہنچ گیا تو سمجھئے سال بھر مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ اُس وقت بازار سے خرید کر کچن کی اشیاء نہیں آیا کرتی تھی۔ بارش کے سبب گھر میں آلو، پیاز اور لہسن ہی سبزی کے نام پر بچی تھی۔ ہری سبزی کی کھیتیوں کو بارش نے نگل لیا تھا۔ لوگ دونوں وقت آلو کی سبزی کھا کھا کر پریشان ہو گئے تھے۔ سب سے زیادہ مسئلہ بچوں کا تھا وہ آلو کا نام سنتے ہی دستر خوان سے اُٹھ بھاگتے تھے۔ دادیاں اُن کو اگلے روز کسی اچھے پکوان کا وعدہ کرکے مناتی تھیں۔ کچھ گھروں میں دال کے ساتھ آلو پیاز کی بھجیاپک جاتی تھی۔ اُس وقت زیادہ بارش ہونے سے گائوں سے بازار اور شہر جانے والی سڑک بھی تالاب میں تبدیل ہو گئی تھی۔ چنانچہ باہر سے کچھ خرید لانےکی امید بھی معدوم ہو چکی تھی۔ ہاں تو اُس سال گھر کے پاس لگایا گیا کدو خوب کام آیاتھا۔ وہ زمین سے بڑھ کر پتلی ڈنڈیوں کے سہارے چھپر پر چڑھ کر پھیل چکا تھا، اس کی بیل پر پھل لگنا شرو ع ہو گئے تھے۔ دھیرےدھیرے اُس میں کافی پھل لگ گئے۔ اس کی پتلی پتلی نرم و نازک شاخیں ایسی جھکی تھیں جیسے چھپر پر کوئی سبز پردہ پڑ گیا ہو۔ کدو کی اس کثرت پیدوار نے سبزیوں کی کمی کو پورا کر دیا تھا۔ کبھی کدو کی سبزی پکتی اور کبھی یہ چنے کی دال میں ڈال کر اس کا’ لگداوا ‘تیار کیا جاتا تھا جسے بچے بڑے شوق سے کھاتے تھے۔ 
اُس وقت ایک ساگ ہمارےیہاں خوب کھایا جاتا تھا۔ ’ کریموا ‘، یہاں لکھنؤ اور آس پاس میں اسے ’ناری ‘ساگ کہتے ہیں۔ یہ گھرکے پاس کی ’گڑھیا‘ میں کنارے کنارے قدرتی طور پر از خود نکل آتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کی ہری ہری پتیاں بڑھ کر پوری گڑھیا کو گھیر لیتی تھیں ۔ اکثر شام کے وقت اس کو توڑ کر ایک بڑی سی باسکٹ یا ’سوپ‘ میں رکھ کر خواتین آنگن میں لے کر بیٹھ جاتیں اور گھر کے بچوں کے ساتھ اس کی پتیاں توڑ کر ڈنٹھل الگ کر دیتی تھیں ۔ اُس کی پتی کی سوکھی سبزی بھجیا بہت اچھی ہوتی تھی۔ شام کو دال کے ساتھ کھائی جاتی تھی۔ اسی طرح بارش کا موسم ختم ہوتے ہوتے گھر کی کچی دیواروں کے کنارے کنارے چولائی بھی خوب اُگ آتی تھی۔ 
اسی طرح بارش میں از خود اُگنے والی چَکوڑ کی کبھی روٹیاں پکا کرتی تھیں۔ اس میں چھوٹے چھوٹے پیلے پھول نکلتے تھے جس میں پھلیاں لگتی تھیں۔ یہ گائوں میں خالی زمین پر بارش میں  اُگ آتی تھی۔ اب یہ کم نظر آتی ہے۔ نئی نسل کو اس کی روٹی پکانے کا طریقہ بھی نہیں معلوم ہے۔ سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی چَکوڑ کی تینوں پتیاں آپس مل کر سو جاتی تھیں۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے تین بہنیں آپس میں بانہیں ڈال کر سو رہی ہوں۔ اکتوبر، نومبر میں جب اس کے پودے سوکھ جاتے تو اسے کاٹ کر رکھ لیا جاتا تھا اوراسے الائو جلانے میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کی نرم و نازک پتیوں سے بچے کھیلا کرتے تھے اور پھولوں پر تلیاں آکر بیٹھتی تھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK