مالیگاؤں کی ووٹر لسٹ میں، مارویل کے سپر ویلن ’’تھینوس‘‘ کی تصویر محمد ابراہیم کے نام کے ساتھ استعمال کی گئی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کررہے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 30, 2025, 10:06 PM IST | Mumbai
مالیگاؤں کی ووٹر لسٹ میں، مارویل کے سپر ویلن ’’تھینوس‘‘ کی تصویر محمد ابراہیم کے نام کے ساتھ استعمال کی گئی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کررہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر مالیگاؤں کا ایک ووٹر کارڈ وائرل ہو گیا ہے جس پر ہالی ووڈ کی مارویل فلموں کے بدنام زمانہ سپر ویلن ’تھینوس‘ کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ اس عجیب و غریب واقعہ نے ہندوستان کی انتخابی فہرستوں کی درستگی پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ یہ ووٹر آئی ڈی کارڈ ’محمد ابراہیم‘ کے نام سے تھا، جس پر عمر بھی غلط لکھی ہوئی تھی اور پتہ بھی نامکمل تھا، ان بے ضابطگیوں نے انتخابی فہرست کی سالمیت کے تئیں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔
مالیگاؤں کے سابق ایم ایل اے آصف شیخ رشید نے حلقے کی ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی فہرست میں ۶۰۰۰ سے زیادہ رائے دہندگان کے پتے درج نہیں تھے، ۳۵۰۲ ووٹر کارڈز میں تبدیل شدہ تصاویر تھیں اور ۱۱ ہزار سے زائد جعلی ووٹ رجسٹر کئے گئے تھے۔ سوشل میڈیا پر آصف شیخ کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ تھینوس کی تصویر والے ووٹر کارڈ کو نمایاں کرکے مہاراشٹر کے مالیگاؤں انتخابی حلقے میں ہوئی بے ضابطگیوں کا پردہ فاش کررہے ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی اس وائرل ویڈیو کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیا اور لکھا: ”بی جے پی کا نیا ووٹر۔“
Even Thanos is a voter in India.
— Mohit Chauhan (@mohitlaws) August 29, 2025
Largest democracy for a reason.💀 pic.twitter.com/fd9jgQR3o7
اس ووٹر کارڈ نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی جنہوں نے مزاحیہ تبصروں اور میمز کے ذریعے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صارفین نے کمیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب ”خلاء سے آنے والے افراد“ کو بھی ہندوستانی ووٹر بننے کی اجازت دے رہا ہے۔ ایک صارف نے طنزاً کہا کہ زمین پر ہونے والے انتخابات بظاہر کائنات کے ویلن کیلئے بھی کھلے ہیں۔
’ووٹ چوری‘ کے الزامات
واضح رہے کہ کانگریس پارٹی نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ میں منظم ہیر پھیر کے الزامات عائد کئے ہیں۔ راہل گاندھی نے بی جے پی کے ذریعے ”ووٹ چوری“ کو ثابت کرنے کیلئے انتخابی فہرستوں میں جعلی اندراجات، غلط ایڈریس اور بڑے پیمانے پر رجسٹریشن کے معاملات کا حوالہ دیا ہے۔ گاندھی نے ۴۸ لوک سبھا حلقوں میں بھی اسی طرح کی بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی بوکھلاگئی ، کانگریس کے دفتر پر حملہ
الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا اور کانگریس لیڈر سے باضابطہ حلف نامہ یا معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں، پارٹی نے بہار میں ایک ملک گیر ”ووٹر ادھیکار یاترا“ کا آغاز کیا تاکہ ووٹروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جا سکے۔ دوسری طرف بی جے پی لیڈر اور وزیر داخلہ امت شاہ نے کانگریس کی مہم کو ”گھس پیٹھیا بچاؤ یاترا“ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر انتخابی سالمیت کی حفاظت کے بجائے غیر قانونی ووٹروں کی حفاظت کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔