فلسطینی ایوانِ صدر نے امریکی اقدام پر ”گہرے افسوس اور حیرت“ کا اظہار کیا اور اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔
EPAPER
Updated: August 30, 2025, 8:04 PM IST | Washington/Brussels
فلسطینی ایوانِ صدر نے امریکی اقدام پر ”گہرے افسوس اور حیرت“ کا اظہار کیا اور اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔
امریکہ نے ستمبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے اراکین کو ویزا دینے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد فلسطینی حکام اور دیگر ممالک نے اس فیصلے کی سخت مذمت کی۔ یورپی ملک بیلجیئم نے بھی امریکہ کے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اس پر تنقید کی۔ امریکہ کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب فرانس اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ریاستیں فلسطین کو تسلیم کرنے پر غور کر رہی ہیں، جس نے اقوام متحدہ کے ایک متنازع اجتماع کی راہ ہموار کی ہے جہاں فلسطینی ریاست کا سوال ایک بار پھر عالمی بحث کا مرکز بنے گا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں شہیدوں کی تعداد ۶۳؍ ہزار سے تجاوز کرگئی
جمعہ کو ایک بیان میں، امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ اسٹیٹ سیکریٹری مارکو روبیو نے یہ فیصلہ امریکی قانون کے مطابق کیا ہے۔ انہوں نے پی ایل او اور پی اے پر ”امن کے امکانات کو کمزور کرنے“ اور پہلے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔ بیان میں فلسطینی لیڈران سے ۷ اکتوبر کے حملے سمیت دہشت گردی کی مذمت کرنے، تعلیم میں ”اشتعال انگیزی“ کو ختم کرنے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اور بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی قانونی مہمات کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ امریکی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”پی اے کو ’لاء فیئر‘ (سیاسی مقاصد کیلئے قانونی نظام کا اسٹریٹجک استعمال) کے ذریعے مذاکرات کو نظر انداز کرنے کی کوششیں ترک کرنی چاہئیں، جس نے حماس کی جانب سے یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار اور غزہ جنگ بندی مذاکرات کی ناکامی میں کردار ادا کیا۔“
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج غزہ میں جنگ بندی نہیں کرے گی
اگرچہ اقوام متحدہ میں پی اے کے مشن کو ہیڈ کوارٹر کے معاہدے کے تحت محدود چھوٹ دی جائے گی، لیکن دیگر فلسطینی اہلکاروں کو نیویارک جانے سے روکا جا سکتا ہے۔
فلسطین کا ردعمل
فلسطینی ایوانِ صدر نے امریکی اقدام پر ”گہرے افسوس اور حیرت“ کا اظہار کیا اور اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔ صدارتی آفس نے ایک بیان میں صدر محمود عباس کے امن کیلئے عزم کا اعادہ کیا اور بتایا کہ عالمی لیڈران، بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک باضابطہ خط بھیجا گیا ہے جس میں اس فیصلے کو واپس لینے پر زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی: غزہ میں نسل کشی کےخلاف اسرائیل کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات ختم
اقوام متحدہ میں پی اے کے سفیر ریاض منصور نے بتایا کہ صدر عباس اب بھی ۲۲ ستمبر کو فلسطینی حقوق پر ہونے والے اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی پابندیوں کا اثر ابھی واضح نہیں ہے۔
بیلجیئم نے امریکی فیصلے کی مذمت کی
یورپی ملک بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسیم پریووٹ نے اس فیصلے کو ”سفارت کاری کیلئے ایک دھچکا“ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے لکھا کہ ”فلسطینی نمائندوں کو خارج کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس کے منفی نتائج بھی برآمد ہوں گے۔ امن کیلئے زیادہ گفتگو کی ضرورت ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”اقوام متحدہ میں فلسطین کو خاموش کرانا، ایسے وقت میں کثیرالجہتی کو کمزور کرتا ہے جب دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت میں تیزی آئی ہے۔“