آج بات کرتے ہیں اُن چراگاہوں کی جہاں نسل نو صرف بکریاں چرانے ہی نہیں جا تی تھی بلکہ یہ اُن کی چلتی پھرتی درسگاہ بھی ہوا کرتی تھی۔ یہاں بزرگ خواتین بچیوں کو وہ طریقہ اور سلیقہ سکھاتی تھیں جو انہیں زندگی بھر کام آتا تھا۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 9:49 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
آج بات کرتے ہیں اُن چراگاہوں کی جہاں نسل نو صرف بکریاں چرانے ہی نہیں جا تی تھی بلکہ یہ اُن کی چلتی پھرتی درسگاہ بھی ہوا کرتی تھی۔ یہاں بزرگ خواتین بچیوں کو وہ طریقہ اور سلیقہ سکھاتی تھیں جو انہیں زندگی بھر کام آتا تھا۔
آج بات کرتے ہیں اُن چراگاہوں کی جہاں نسل نو صرف بکریاں چرانے ہی نہیں جا تی تھی بلکہ یہ اُن کی چلتی پھرتی درسگاہ بھی ہوا کرتی تھی۔ یہاں بزرگ خواتین بچیوں کو وہ طریقہ اور سلیقہ سکھاتی تھیں جو انہیں زندگی بھر کام آتا تھا۔ اس موضوع کی جانب میری توجہ ایک تربیتی پروگرام نے دلائی۔ ہوا یوں کہ جمعیۃ علماء ہند کانپور کی ایک تربیتی مجلس تھی۔ صدارت کیلئے مولانا حکیم الدین قاسمی دہلی سے تشریف لائے تھے۔ بس انہیں کی دیرینہ شفقت و محبت مجھے بھی اُس پروگرام تک کھینچ لے گئی تھی۔ مجلس کو خطاب کرتے ہوئے سیتاپور کے تمبور قصبہ سے آئے مفتی سلمان قاسمی نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے ٹوٹ رہے ہیں لیکن پہلے ایسا نہیں تھا ہماری، دادیاں، نانیاں اور علاقےکی بزرگ خواتین اُن کو پہلے ہی سے سسرال کے مسائل سے آگاہ کر دیتی تھیں۔ چنانچہ وہ سسرال میں آنے والے مسائل کا سامنا کرنے کیلئے پہلے ہی ذہنی طور پر تیار رہتی تھیں ...اُن کی یہ باتیں جب میری سماعت سے ٹکرائیں تو ذہن میں پچیس-تیس سال پہلے اپنے گائوں کے وہ منظر گھوم گئے جہاں گرمیوں کی دوپہریا میں نیم کےٹھنڈے سائے میں گائوں کی بزرگ خواتین ...سوئی دھاگا لے کر بستر، چادر تکیہ اور اس کے غلاف وغیرہ تیار کرتی تھیں ...یہاں گھر اور محلے کی بڑی بچیوں کو اُن کے پاس بھیجا جاتا تھا، جہاں خوبصورت گل بوٹے اُبھرنے کے ساتھ ہی بزرگ خواتین اپنے تجربے کے دھاگوں سے بچیوں کے ذہن و کردار پر ایسے نقش ثبت کرتی تھیں جو عمر بھر ماند نہیں پڑتے تھے۔ ہر ٹانکے کے ساتھ کوئی نصیحت، ہر کڑھائی کے ساتھ کوئی زندگی کا سبق اور اخلاقی قدر بھی سکھائی جاتی تھی۔ ہم بچے خوبصورت پھول پتیاں دیکھ کر آپس میں سر گوشی کرتے تھے کہ یہ دیکھو اَ پیا آڑا ترچھا بنا رہی ہیں ...دادی نےتو چادر کا گوٹا بڑا خوبصورت بنایا ہے ...ہم لوگوں کو آپس میں کانا پھوسی کرتے ہوئے دیکھ کر چچی فوراً حکم صادر کرتیں ...یہ کیا کھڑے کھڑے منھ دیکھ رہے ہو جائو دادی کیلئے گھڑے سے ٹھنڈا ٹھنڈا پانی لائو۔ اس طرح بڑوں کا حکم بجا لانے کا بچوں میں جذبہ پیدا ہوتا تھا۔
اُس وقت کی چرا گاہیں بھی تربیت گاہ سے کم نہیں تھیں۔ وہ زندگی کی ایسی کھلی درسگاہیں تھیں جہاں کوئی باقاعدہ استادنہیں ہوتا تھا، کوئی کتاب نصاب میں شامل نہیں ہوتی تھی، لیکن وہاں سیکھے ہوئے سبق پوری زندگی کام آتے تھے۔ اُن چراگاہوں میں بزرگ خواتین کے ساتھ بچیاں بھی آتی تھیں۔ خواتین بظاہر مویشیوں کی نگرانی کر رہی ہوتی تھیں، لیکن حقیقت میں ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ان بچیوں کی نگرانی اور تربیت ہوتی تھی۔ والدین بڑے اطمینان سے اپنی بچیوں کو اس لئے بھیج دیتے تھے کہ ان کے ساتھ گاؤں کی تجربہ کار اور ذمہ دار خواتین موجود ہیں۔ وہ صرف راستے کی حفاظت نہیں کرتیں تھیں بلکہ اپنی موجودگی سے ایک ایسا اعتماد بھی دیتی تھیں کہ کسی کو ان بچیوں کی طرف بُری نگاہ سے دیکھنے کی ہمت نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: دھان کی نرسری تیار ہے، لیکن مزدورنہیں ہیں، وہ ریلیوں میں نعرے لگا رہے ہیں
بکریاں گھاس چر رہی ہوتیں، کہیں کوئی بکری دور نکل جاتی تو لڑکیاں دوڑ کر اسے واپس لے آتیں، پھر سب ایک درخت کےسائے میں بیٹھ جاتیں۔ یہیں سے باتوں کا ایک سلسلہ شروع ہوتااور اُس کے ساتھ ہی پند و نصیحت کچھ اس طرح کی جاتی کہ بیٹی! سسرال میں زبان ہمیشہ نرم رکھنا۔ غصہ ایک لمحے کا ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات برسوں رہتے ہیں۔ بٹیا گھر بسانا آسان نہیں ہوتا، رشتوں کو مضبوط کرنے اور اُن میں مٹھاس بھرنے کیلئے سب سے پہلے اپنی انا کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ پاس میں بیٹھی دادی منھ میں پان دبائے کچھ یوں گویا ہوتیں : سسرال کی چھوٹی چھوٹی باتیں ماں باپ تک نہیں پہنچائی جاتیں، کچھ باتیں صبر اور حکمت سے بھی حل ہو جاتی ہیں۔
یہ نصیحتیں حکم کے انداز میں نہیں ہوتی تھیں بلکہ قصوں، واقعات، مثالوں اور ہلکی پھلکی ہنسی مذاق کے ساتھ دل میں اتر جایا کرتی تھیں۔ بچیاں شاید اس وقت خاموشی سے سنتی تھیں، مگر وقت آنے پر یہی باتیں ان کے لئےمشعلِ راہ بن جاتی تھی۔ خاص طور پر وہ لڑکیاں جن کی شادی قریب ہوتی، بزرگ خواتین ان پر زیادہ توجہ دیتیں۔ انہیں سسرال کے ماحول، نئے رشتوں، ذمہ داریوں، برداشت، ایثار، صبر اور گھریلو معاملات کو سنبھالنے کے ایسے ایسے گر سکھاتیں جو کسی کتاب میں نہیں ملتے۔ اسی لئے اس دور کی بہت سی خواتین، مشکلات کے باوجود، گھروں کو جوڑ کر رکھتی تھیں۔ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ زندگی صرف خوشیوں کا نام نہیں، آزمائشوں کا بھی نام ہے۔ وہ پہلے ہی ذہنی طور پر تیار رہتی تھیں کہ ہر اختلاف، ہر ناراضگی اور ہر مشکل کا جواب رشتہ توڑ دینا نہیں ہوتا۔
آج حالات بدل گئے ہیں۔ چراگاہیں پہلے جیسی نہیں رہیں، مویشی پالنے کا رواج کم ہو گیا، مشترکہ خاندان بکھر گئے اور وہ بزرگ خواتین بھی آہستہ آہستہ رخصت ہو گئیں جو زندگی کے تجربات نسلوں میں منتقل کیا کرتی تھیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر رشتوں میں دراڑ آ جاتی ہے۔ برداشت کم ہوتی جا رہی ہے، گھروں کی دیواریں اونچی ہوتی جا رہی ہیں مگر دلوں کے فاصلے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔