مالیگاؤں کی ڈپٹی میئر شان ہند کے وکیل نےناسک کورٹ اور دیگر سرکاری اداروں میں ٹیپوکی تصویر ہونے کا حوالہ دیا۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 1:18 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
مالیگاؤں کی ڈپٹی میئر شان ہند کے وکیل نےناسک کورٹ اور دیگر سرکاری اداروں میں ٹیپوکی تصویر ہونے کا حوالہ دیا۔
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی ڈپٹی میئر شانِ ہند نہال احمد نے اپنے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگائے جانے پر جاری کئے گئے نوٹس کے خلاف بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر بروز بدھ کو سماعت ہوئی ۔ دوران سماعت جہاں درخواست گزار نے تصویر نکالنے کے بھیجے گئے نوٹس کو غیر آئینی بتایا اور دیگر مجاہدین آزادی کی تصویریں ہونے کی دلیل پیش کی ، وہیں حکومت نے درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی اپیل کی ۔ چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادوَیت سیٹھانا نے دونوں فریقوں کی جرح سننے کے بعد حکومت کو اس ضمن تین ہفتہ میں حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سعودی عرب اور یمنی حوثیوں کے درمیان مسلسل کشیدگی
درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل ایم ایم واشی اور حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ گورنمنٹ پلیڈر بی وی سمنت نے پیروی کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے شیر میسور ٹیپو سلطان سمیت درخواست گزار کے دفتر میں۱۲؍ مجاہدین آزادی کی تصویریں آویزاں ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن اور قلعہ پولیس کی جانب سے صرف ٹیپو سلطان کی تصویر پر اعتراض کرتے ہوئے اسے نکالنے کا نوٹس دیا گیا ہے جو مناسب نہیں ہے۔
درخواست گزار شان ہند کے وکیل نے اس ضمن میں جاری کئے گئے سرکاری سرکیولرز اور منظور شدہ قرار داد کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر آئین میں یا منظور شدہ قرار داد میں ایسا کوئی قاعدہ نہیں تو صرف ٹیپو سلطان کی تصویر کو ہی کیوں ہٹانے کا نوٹس دیا گیا، اگر مجاہدین آزادی کی تصویر ہٹانے کا ایسا کوئی سرکیولر یا قرارداد ہے تو بقیہ مجاہدین آزادی کی تصویروں کو بھی ہٹانے کا نوٹس جاری کیا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے:جرنگے کی طبیعت بگڑی، منصوبہ تبدیل کرنے کا امکان
سینئرایڈوکیٹ ایم ایم واشی نے چیف جسٹس کے روبرو یہ بھی کہا کہ ان کی موکل کا ٹیپو سلطان کی تصویر لگانے کے پیچھے نہ تو کوئی ایجنڈا ہے اور نہ کوئی منفی ارادہ ۔ وکیل نے اس کے علاوہ ناسک کورٹ اور دیگر سرکاری اداروں میں ٹیپو سلطان کی تصویر ہونے کا بھی حوالہ دیا تھا ۔ اسی درمیان حکومت کا دفاع کرتے ہوئے سرکاری وکیل نے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے درخواست کو مسترد کرنے کی اپیل کی تھی ۔ تاہم کورٹ نے حکومت اور متعلقہ محکمہ کو تین ہفتہ میں اس ضمن میں حلاف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت کو ملتوی کردیا ۔ یاد رہے کہ امسال فروری میں درخواست گزار نے اعتراض کئے جانے کے بعد شیر میسور و مجاہد آزادی ٹیپو سلطان کی تصویر اپنے دفتر سے نکال دی تھی لیکن جب اگست میں تصویر لگانے پر دوبارہ اعتراض کیا گیا تب جاکر ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔