Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھان کی نرسری تیار ہے، لیکن مزدورنہیں ہیں، وہ ریلیوں میں نعرے لگا رہے ہیں

Updated: July 24, 2026, 10:05 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

ٹکٹ کیلئےریلی لے جانے والے امیدوار تو منھ مانگا پیسہ دے رہےہیں ، کیونکہ اُنہیں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے تو اِس لئے وہ ایتھنال نہیں بلکہ پریمیم پٹرول کی قیمت کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں ۔

The fields in the village are full of water, the paddy nursery has been completed, but they are unable to find workers. Photo: INN
گاؤں میں کھیت پانی سے بھرے پڑے ہیں، دھان کی نرسری تیار ہوچکی ہے، لیکن انہیں مزدور نہیں مل پارہے ہیں ۔ تصویر: آئی این این

دھان کی روپائی کیلئے امید سے کم ہی سہی لیکن مانسون مہربان تو ہوا ہے، مختلف اضلاع میں بارش شروع ہو گئی ہے۔ اب دوسرا مسئلہ آن کھڑا ہوا ہے۔ وہ ہے دھان کی روپائی کا، اس کیلئے مزدور نہیں مل رہے ہیں ۔ کھیتوں میں پانی بھرا ہے، مینڈ پر بیٹھے کسان مزدوروں کا انتظار کررہے ہیں ۔ اسمبلی الیکشن قریب ہے، انتخابی ریلیوں کی شروعات ہونے لگی ہے، مزدور بسوں میں بھر بھر کے وہاں پہنچ رہے ہیں ۔ وہاں صرف زندہ باد کا نعرہ لگانے کیلئے دہاڑی کے ساتھ ایک وقت کا کھانا مفت مل رہا ہے ۔ سج دھج کے بس میں سوار ہو کر جارہے ہیں ، باراتیوں کی طرح خاطر تواضع ہو رہی ہے ۔ دوری کے حساب سے پیسہ طے ہوتا ہے ۔ گائوں سے شہر جانے کیلئے بڑی آسانی سے تین سو سے پانچ سو روپے مل جاتے ہیں ۔ راجدھانی کی ریلی کا الگ جلوہ ہے۔ یہاں کیلئے مزدور آٹھ سو، ہزار سے کم میں بات نہیں کرتے۔ بس کے بارے میں بھی پوچھ لیتے ہیں ، بھیا او میں (اُس میں )اے سی لاگ(لگی) ہے کہ ناہیں (نہیں )۔ 
ٹکٹ کیلئےریلی لے جانے والے امیدوار تو منھ مانگا پیسہ دے رہےہیں ، کیونکہ اُنہیں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے تو اِس لئے وہ ایتھنال نہیں بلکہ پریمیم پٹرول کی قیمت کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں ۔ ایک پارٹی کے حامی جو ’ریلی مینجمنٹ‘ کے ایکسپرٹ ہیں کہنے لگے جب مزدور پوچھتے ہیں کہ بھیا بس میں اے سی لگی ہے ... تو اُس قت غصہ تو بہت آتا ہے لیکن بناوٹی مسکراہٹ کے ساتھ اُسے ٹالنا پڑتا ہے، جیسے برسراقتدار جماعت اپنی اتحادی جماعتوں کے ہر نازو نخرے مسکرا کر ٹال جاتی ہے ۔ یہ مزدور بھی کم تھوڑے ہیں ۔ کسان کے کھیت میں سخت دھوپ کے درمیان محض گُڑ اور چنے پر دن بھر کام کر لیں گے اور یہاں پوچھتے ہیں کھانے پینے کا انتظام کس ہوٹل میں ہے۔ اُس بار فلاں بھیا لے گئے رہے لکھنؤ کے ایک بڑے ہوٹل ماں ...ارے صاحب ایسا کھانا تو ہم اپنی پوری جِنگی(زندگی) میں نہ کھاوا رہے ۔ 
ایک مزدورنے اپنی پرانی ریلی کی روداد کچھ یوں بیان کی ...ایک ہمرے (ہمارے) پڑوسی رہے نوا نوا (نئے نئے)نیتا بنے رہے ہم سب کو اڈے والی بس پر بٹھا کر لے گئے، وہاں دن بھر دوپہریا میں زندہ باد کرائے اور شام کو ’دار الشفا‘(لکھنؤ میں واقع ممبر ان اسمبلی کی سرکاری رہائش گاہ کا نام)میں ’چوکھا باٹی ‘ پر ٹال گئے..ہم سے رہا نہیں گیا اور مارے غصے کے بول دیئے ...ہے نیتا جی ’یہ جھوری ہڈی پا کبڈی‘ (سوکھے بد ن سے کبڈی نہیں کھیلی جاتی )نہ ہوئی...جیسی نیت ویسی برکت...تو بھیا ’نیتا جی ‘ ’باٹی‘ لئے ٹہلتے رہ گئے ’چوکھا‘ نصیب نہیں ہوا، مطلب ٹکٹ نہیں مل پایا ۔

یہ بھی پڑھئے: باغ میں تعمیر چھپر ہر کسی کیلئے کھلا رہتا ہے، اس میں کوئی دروازہ نہیں ہوتا

اب ذرا بس کے اندر کا منظر ملاحظہ فرمائیے ...سگریٹ سے دھواں اُڑاتے ہوے مزدوروں کا جتھا بس میں سوار ہوتا ہے ...ای کا (یہ کیا) ڈرائیور صاحب اےسی نہیں چل رہی ہے ...ڈرائیور...بابو جی اے سی چل رہی ہے ...کیا چل رہی ہے اس سے زیادہ تو ٹھنڈی ہوا ہمرے نیم کے ترے (ہمارے نیم کے پیڑ کے نیچے)مِلت (ملتی )ہے ...سیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے، یہ تو ٹھیک ہی ہے...ہے جھینگُر، رام دھنی اورشبراتی ...چلو کھڑکی کی طرف بیٹھو ورنہ جو منھ میں پان اور گٹکھا بھرے ہو...لمبی لبمبی پیک سے ہمارے صاف ستھرے کپڑے کا ستیہ ناس کر دو گے۔ وہ صاحب سیٹ سنبھالتے ہی ایک بار پھر ڈرائیور کو ہدایت دینے لگے...یہ کیا بج رہا ہے باجے میں ...ارے کچھ ’برہا‘، ’آلہا‘ سنائو ...ہم گائوں والوں کے پلّے ای گانا نہ پڑی ...تمہارے پاس نہ ہو تو ہمرے موبائل سے بجادو ... خیر اُن صاحب کی پسند کا گانا بجنے لگا... بس منزل کی طرف رواں دواں تھی کہ... اتنے میں آواز آئی ...اوئے ڈرائیور... وہ جو سڑک کے باجو میں فیمس جلیبی کی دکان ہے نہ اُدھر بس کو روکنے کا...ارے بھیا ریلی میں گیارہ بجے پہنچنا ہے، اس طرح تو ہم بارہ بجے بھی نہیں پہنچ پائیں گے، ڈرائیور لاچاری سے بولا ... نوجوان کرخت آواز سے... میں نے بولا نا...اُدھر بس روکنے کا ...اپن کوجلیبی کھانے کا بس ...ارے ڈرائیور صاحب ...نیا چھورا ہے ...بمبئی سے کما کے لوٹا ہے ...ریلی میں تو پہنچ ہی جائیں گے ...بس روک دو ...دس منٹ کی ہی تو بات ہے ...اتنے میں آکاش نہ پھٹ پڑے(آسمان نہیں گر جائے گا )...ایک بزرگ سگریٹ کی کش لگاتے ہوئے قدرے غصے میں بول پڑے۔ خیر مرتا کیا نہ کرتا ...ڈرائیور نے بس روکی ...گرماگرم جلیبی کھاکر سب بس میں سوار ہوئے اور ریلی کی طرف روانہ ہو گئے ۔ 
اُدھر بے چارے کسان کھیت تیار کرکے دھان کی روپائی کیلئے مزدور ڈھونڈ رہے ہیں ۔ لیکن وہ تو سب ریلیوں میں جا چکے ہیں ۔ اب اُن کے ہاتھوں میں دھان کی نرسری کی جگہ ہرے، نیلے، پیلے اور زعفرانی جھنڈے ہیں ۔ جس پارٹی کی ریلی میں شامل ہو رہے ہیں اس کا نعرہ لگا رہے ہیں نہ کھیتوں جیسا محنت بھرا کام اور نہ کپڑوں میں کیچڑ لگ رہا ہے ۔ یعنی ’ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا‘...
اِدھر کسانوں کی حالت بگڑ رہی ہے... کھیت پانی سے بھرے پڑے ہیں، دھان کی نرسری تیار ہے، لیکن مزدوروں کی قلت ہے ...لیکن کچھ خوددار قسم کے مزدور ہیں جنھوں اپنی اصل ذمہ داریوں سے منھ نہیں موڑا ہے۔ وہ دھان کی روپائی کیلئے کھیتوں میں آرہے ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِس طرح کے نعروں سے وقتی طور پر چند سکے ضرور مل جاتے ہیں ، لیکن یہ علاقے میں ذلت و رسوائی کا سبب بنتے ہیں ۔ اس سے پیٹ تو ضرور بھر جاتا ہے لیکن ضمیر مر جاتا ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK