دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے چارج ڈی افیئرس افسر کو طلب کرکے سخت احتجاج درج کروایا گیا، پاکستانی بحریہ کے رویہ کو غیر پیشہ ورانہ بتایا گیا۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 11:22 AM IST | Agency | New Delhi
دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے چارج ڈی افیئرس افسر کو طلب کرکے سخت احتجاج درج کروایا گیا، پاکستانی بحریہ کے رویہ کو غیر پیشہ ورانہ بتایا گیا۔
سمندر میں پاکستان کی ’ناپاک‘ حرکت دیکھنے کو ملی ہے۔ پاکستان کا بحری جہاز ہندوستانی بحریہ کے جہاز سے ٹکرا گیا جس کے بعد ہندوستان نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن کے چارج ڈی افیئرس افسرکو طلب کیا اور اس واقعہ پر سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری خطہ (بحر عرب) میں پیش آیا ہے، حالانکہ اس میں کسی بڑے نقصان کی خبر نہیں ہے۔ہندوستان نے پاکستانی بحری یونٹ کے رویہ کو ناقابل قبول اور غیر پیشہ ور بتایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:برکس اجلاس میں متبادل عالمی معاشی نظام کی واضح بازگشت
ہندوستان کے مطابق پاکستانی بحریہ کے جہاز کا رویہ بالکل ناقابل قبول تھا کیوں کہ اس نے نہایت تیز رفتار سے ہندوستانی جہاز پر چڑھائی کی کوشش کی اور اسی کوشش میں دونوں جہاز ٹکراگئے۔بحریہ نے کہا کہ یہ حرکت اپریل ۱۹۹۱ءکی ہند-پاک فوجی مشق سے متعلق معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔ وزارت خارجہ نے پاکستان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ سبھی فوجی یونٹ مناسب احتیاط کا مظاہرہ کریں اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں پر عمل کریں۔ہندوستان نے اپنے بیان میں متنبہ کیا ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو، اس کا خیال رکھا جانا چا ہئے۔ اسلام آباد میں ہندوستان کے چارج ڈی افیئرس افسر کو بھی پاکستانی وزارت خارجہ کے سامنے یکساں احتجاج درج کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
غور طلب ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب بحر عرب میں ہندوستانی اور پاکستانی جہاز ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے ۲۰۱۱ء میں بھی ایسی ہی حرکت کی جاچکی ہے۔