دیہی علاقوں، چھوٹے بازاروں اور قصبات میں ایک نام آتا ہے ’جھولا چھاپ‘ ڈاکٹر کا۔ ایسے ڈاکٹروں کے پاس ڈگری نہیں ہوتی یہ بڑے ڈاکٹروں کے یہاں کمپائونڈر یا ان کے معاون بن کر ڈاکٹری سیکھ لیتے ہیں، پھر یہ دیہی علاقوں اور چھوٹی بازاروں میں اپنا مطب کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔
گاؤں میں جھولا چھاپ کہے جانے والے ڈاکٹر، پیسہ نہ ہونے پرمریضوں کو اُدھار بھی دوا دے دیتے تھے۔ تصویر:آئی این این
دیہی علاقوں، چھوٹے بازاروں اور قصبات میں ایک نام آتا ہے ’جھولا چھاپ‘ ڈاکٹر کا۔ ایسے ڈاکٹروں کے پاس ڈگری نہیں ہوتی یہ بڑے ڈاکٹروں کے یہاں کمپائونڈر یا ان کے معاون بن کر ڈاکٹری سیکھ لیتے ہیں، پھر یہ دیہی علاقوں اور چھوٹی بازاروں میں اپنا مطب کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ان گاؤں میں وہ غریبوں اور مزدوروں کے طبیب بن جاتے ہیں۔ جی ہاں... دیہی علاقوں کے ان ڈاکٹروں ہی سے گائوں کی بڑی تعداد۲۰؍ سے ۵۰؍ روپے کی پُڑیا سے ٹھیک ہوجاتی ہے۔ یہ ڈاکٹر اپنے علاقوں میں ۲۴؍ گھنٹے خدمات انجام دیتے ہیں۔ دن ہو یا رات یہ اپنے آرام اور نیند کی قربانی دے کر ایک بلاوے پر دوڑے چلے آتے ہیں۔ دیہات کے عوام جو خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں، جو روز مزدوری کو نہ جائیں تو ان کے یہاں شام کا چولہا جلنا مشکل ہوجائے اوراگر وہ بیمار پڑ جائیں تو ان کے پاس علاج کے پیسے بھی نہیں ہوتے ہیں۔ ایسے ہی مریضوں کا علاج یہ جھولا چھاپ کہے جانے والے ڈاکٹر کرتے ہیں۔ پیسہ نہ ہو تو اُدھار بھی دوا دے دیتے ہیں اور وہ پیسہ انہیں کب ملے یا نہ ملے، اس کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا ہے۔ واقعی یہ چھوٹے ڈاکٹر بڑے دل والے ہوتے ہیں، وہ پیسوں کی فکر کئے بغیر علاج کرتے ہیں۔ ورنہ ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کرنے والے ڈاکٹروں کی کم ہی تعداد ایسی ہوگی جو کسی کو اُدھار دوا دے دے یا غریب کیلئے اپنی فیس معاف کردے۔ یہ بڑے ڈاکٹر جب گائوں کے مریض کو دوا کے ساتھ دو چار انجکشن دے دیتے ہیں تو یہی گائوں کے ڈاکٹر وہ انجکشن لگاتے ہیں، ورنہ گائوں کا آدمی انجکشن لگوانے شہر جائے گا تو انجکشن کی قیمت سے زیادہ تو کرائے پر خرچ کر دے گا۔ اسے گائوں کے محاورے میں یوں سمجھیں کہ ’’نوکی لکڑی پر نوے خرچ‘‘۔
گائوں کے یہ غریب مزدور دن بھر میں زیادہ سے زیادہ چار سو سے پانچ سو روپے کماتے ہیں۔ اگر یہ کسی ڈگری والے ڈاکٹر کے پاس علاج کیلئے جاتے ہیں تو ان کے تین سے پانچ سو روپے فیس میں چلے جاتے ہیں۔ ڈگری والا بڑا ڈاکٹر جانچ کے بغیر علاج بھی نہیں کرتا۔ خون پیشاب کی جانچ میں پانچ سو روپے سے ہزار روپے تک خرچ ہوجاتے ہیں، باقی سارے ٹسٹ ہوجانے کے بعد ہزار سے پندرہ سو روپے کی دوا، اس طرح ایک غریب مزدور ڈھائی تین ہزار روپے کہاں سے لائے۔ خدا نہ کرے اگر کسی غریب کے یہاں دو لوگ بیمار ہوگئے تو اس کی تو مہینے بھر کی کمائی چند لمحوں میں چلی جائے گی اور اس ماہ گھر کے خرچ کیلئے قرض لینا پڑے گا۔
پہلے گائوں میں کرانے کی دکان پر بھی دوائیں ملتی تھیں۔ سر درد، پیٹ درد اور نزلہ زکام کی دوا تیل صابن بیچنے والی دکان ہی سے مل جایا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ ملیریا اور پیچش کی دوا بھی لوگ یہیں سے خرید لیا کرتے تھے۔ دکان دار دوا دینے کے ساتھ ہی اس کے استعمال کا طریقہ بھی بتاتا تھا۔ گویا وہ کرانہ کی دکان چلانے والا آج کے فارماسسٹ کے برابر تھا۔ خیر یہ وہ دور تھا جب گائوں کے لوگ فارماسسٹ کسے کہتے ہیں، یہ جانتے بھی نہیں تھے۔ اب گائوں میں جھولا چھاپ ڈاکٹروں کی تعداد کم ہوگئی ہے، اب دھیرے دھیرے گائوں میں بھی ڈگری والے ڈاکٹروں کی کلینک کھلنے لگی ہیں۔
آموں کے موسم میں بچے آم توڑنے کیلئے پیڑوں پر چڑھ جایا کرتے تھے۔ گھر سے پیڑ نہ چڑھنے کی سختی کے ساتھ بچے باغ میں بھیجے جاتے۔ ان کے ساتھی کو بچے کے والدین کی سخت ہدایت ہوتی کی بیٹا اگر یہ پیڑ پر چڑھے تو ہمیں فوراً اطلاع کردینا۔ لیکن وہ اپنے ساتھی کو کچھ آموں کے لالچ میں منا لیتا کہ وہ گھرپر شکایت نہ کرے، اس طرح وہ پیڑ پر آم توڑنے کیلئے چڑھ جاتا، کئی بار زیادہ اونچائی پر چڑھ کر توازن کھو بیٹھتا اور نیچے گر کر زخمی ہوجاتا۔ اس صورت میں جلدی سے گائوں کے ڈاکٹر کو بلایا جاتا، ایسے موقعوں پر یہ جھولا چھاپ ڈاکٹر بڑے کام آتے تھے، فرسٹ ایڈ دے کر زخمی کو آرام پہنچاتے اور حالت ٹھیک نہ ہونے پر اہل خانہ کے ساتھ بڑے اسپتال تک پہنچاتے تھے۔ اسی طرح گیہوں کی مڑائی کے دوران تھریسر سے انگلیاں کٹنے کے واقعات اکثر پیش آجاتے تھے تو ایسے موقعوں پر یہی ڈاکٹر مرہم پٹی کیلئے بلائے جاتے تھے۔ ایسے بھی واقعات پیش آئے ہیں کہ ان کے غلط علاج کے سبب مریض کی جان پر بن آئی ہے، لیکن ہمارے یہاں مریض کی حالت نازک ہونے پر یہ ڈاکٹر فوراً ضلع اسپتال لے جانے کا مشورہ دیتے تھے اور ضرورت پڑنے پر خوداسپتال تک ساتھ جایا کرتے تھے۔ سر اور پیٹ میں درد کرنے کا بہانہ کرنے والے بچوں کو جب کہا جاتا کہ چلو ڈاکٹر کے پاس انجکشن لگوا دیں تو وہ فوراً ٹھیک ہوجاتے تھے۔ بیماری کا بہانہ کر اسکول کی چھٹی کرنے والے بچوں کا علاج بھی یہی انجکشن تھا۔ جیسے ہی گھر کے لوگ کہتے چلو ڈاکٹر کے پاس انجکشن لگواتے ہیں ... توبڑی تیزی سے بچے بستہ لے کر اسکول کی طرف دوڑ لگادیتے تھے۔