Updated: March 03, 2026, 12:58 PM IST
| Karachi
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ میں فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی ناقص کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے داماد کی بولنگ تکنیک اور میچ کے دوران بار بار ہونے والی غلطیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پاکستانی کرکٹ کی مجموعی سوچ پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔
شاہین اور شاہد آفریدی۔ تصویر:آئی این این
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ میں فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی ناقص کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے داماد کی بولنگ تکنیک اور میچ کے دوران بار بار ہونے والی غلطیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پاکستانی کرکٹ کی مجموعی سوچ پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ شاہین کو متعدد بار سمجھانے کے باوجود وہ یہ نہیں سیکھ پائے کہ ڈیتھ اوورز (آخری اوورز) میں کس زاویے سے بولنگ کرنی ہے۔ خاص طور پر دائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف راؤنڈ دا وکٹ بولنگ پر انہوں نے سخت اعتراض کیا۔ شاہد آفریدی نے افسوس کا اظہار کیا کہ کھلاڑی اپنی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں کر رہے اور نہ ہی ان میں بہتری کی کوئی تڑپ دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہماری کرکٹ کی سوچ باقی دنیا سے بہت پیچھے رہ گئی ہے اور کھلاڑیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ میچ جیتنا پوری ٹیم کی ذمہ داری ہے۔ شاہد آفریدی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستانی ٹیم کے اسکواڈ میں بڑی تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کرکٹ مبصرین کا ماننا ہے کہ سینئر کھلاڑیوں کی جانب سے ایسی کھلی تنقید ٹیم کے اندرونی نظم و ضبط اور کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ
آئی سی سی ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور ایونٹ سے جلد باہر ہونے پر پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی ) نے سخت تادیبی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ناقص کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں کو بھاری مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں انفرادی کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں پر۵۰۔۵۰؍ لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
بورڈ ان کھلاڑیوں کی فہرست تیار کر رہا ہے جن کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، جبکہ تسلی بخش کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں کو اس کارروائی سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔حکام نے کھلاڑیوں پر واضح کر دیا کہ لاڈ پیار بہت ہو چکا اب پرفارم کیا تب ہی مالی فوائد حاصل ہوں گے، جب اچھی کارکردگی پر پلیئرز انعام پاتے ہیں تو ناقص کھیل پر جرمانہ بھی بھرنا چاہیے، درحقیقت ہندوستان سے میچ ہارنے کے بعد ہی ٹیم کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:انگلش پریمیئر لیگ: آرسنل کی ۱۹؍ویں فتح، ٹائٹل کی دوڑ میں پوزیشن مزید مستحکم
کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل پی سی بی کے قانونی ماہرین کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ اور دیگر پیچیدگیوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی قانونی تنازع سے بچا جا سکے۔ تفصیلات کے مطابق ٹی ۲۰؍ ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم نیدرلینڈس سے ابتدائی مقابلے میں شکست سے بال بال بچی، پھر امریکہ کو بھی ہرا دیا، سری لنکن کنڈیشنز سے واقفیت اور معیاری اسپن بولرز کی موجودگی میں اس بار ہندوستان کے خلاف بہتر کھیل کی توقع تھی لیکن ناکامی ہی ہاتھ آئی۔
یہ بھی پڑھئے:راجپال یادو نے اپنے خاندان سے ہاتھ جوڑ کر معافی کیوں مانگی؟
اس کے بعد نمیبیا کو زیر کرکے سپر ۸؍ میں تو جگہ بنا لی مگر نیوزی لینڈ سے مقابلہ بارش کی نذر ہوگیا، پھر انگلینڈ کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سیمی فائنل میں رسائی اگر مگر کی محتاج ہوگئی۔پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ مایوس کن کارکردگی کا احتساب ناگزیر ہے۔ ہم مشاورت کر رہے ہیں کہ کس طرح کھلاڑیوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے، تاہم حتمی فیصلہ قانونی رائے کے بعد ہی کیا جائے گا۔