• Mon, 26 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کھیتوں میں پیلے پیلے سرسوں کے پھول، ایسا لگتا ہے جیسے سنہری چادر تنی ہو

Updated: January 25, 2026, 12:00 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

اِس وقت کھیتوں میں دور تک سرسوں کے پھول ہی پھول نظر آرہے ہیں ۔ دائیں بائیں ہر طرف پیلے پیلے پھول گویا کھیتوں میں ایسا معلوم ہورہا ہے جیسے سنہری چادر تنی ہو ۔ سرسوں اور ارہر کے پھولوں پر دن بھر شہد کی مکھیاں منڈلا رہی ہیں۔

The villagers are not very aware of the importance of this beauty of mustard flowers or do not appreciate it much, but when they see heroes and heroines dancing around these flowers in movies, they say wow. Photo: INN
گاؤں والے سرسوں کے پھولوں کی اس خوبصورتی کی اہمیت سے زیادہ واقف نہیں ہوتے یا اس کی زیادہ قدر نہیں کرتے لیکن جب فلموں میں ان پھولوں کے اطراف ہیرو ہیروئنوں کو رقص کرتے دیکھتے ہیں تو واہ واہ کہتےہیں ۔ تصویر: آئی این این

اِس وقت کھیتوں میں دور تک سرسوں کے پھول ہی پھول نظر آرہے ہیں ۔ دائیں بائیں ہر طرف پیلے پیلے پھول گویا کھیتوں میں ایسا معلوم ہورہا ہے جیسے سنہری چادر تنی ہو ۔ سرسوں اور ارہر کے پھولوں پر دن بھر شہد کی مکھیاں منڈلا رہی ہیں۔ بھونریں گنگنا رہے ہیں۔ بچے ارہر کے پھول توڑ کر اُس میں سے رس نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔بڑی محنت کے بعد انہیں ایک قطرہ رَس مل پاتا ہے، لیکن اُس کی مٹھاس اور ذائقے کے سامنے بازار کی ساری مٹھائیاں فیل ہیں۔ لیکن ایسا سبھی پھولوں میں نہیں ہوتا ہے، کچھ ہی پھول ایسے ہوتے ہیں جو میٹھے اور خوش ذائقہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اُس پھول کی تلاش میں بچے کئی کئی پھول توڑتے ہیں اور آخر انہیں ان کی پسند کا پھول مل ہی جاتا ہے۔ ارہر کی فصل تیار ہونے میں وقت ضرور لگتا ہے لیکن یہ غریب کسانوں کی فصل ہے ۔  جی ہاں ...اس کی بوائی کے بعد اس کی سینچائی اور کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں تو ایسا ہی ہوتا ہے لیکن بعض علاقوں میں اس فصل کو تھوڑا پانی اور بہت معمولی کھاد دی جاتی ہے ۔ واقعی ارہر غریبوں کی ہی فصل ہے ۔ جب مہنگی قیمتوں کے سبب سبزیاں غریبوں کی دسترس سے باہرہو جاتی ہیں تو ارہر کی دال ہی ان کے دستر خوان پر نظر آتی ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب غربت کے سبب لوگوںکے یہاں دونوں وقت دال ہی پکا کرتی تھی ۔دال کو غریبوں کا ’پروٹین ‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ارہر کی لمبی جڑیں مٹی کے اندر تک جاتی ہیں ، جو زمین کو توڑنے اور اسے مزید زرخیز بنانے میں مدد کرتی ہیں۔ ارہر روایتی فصل ہے اس کی دال ،اس کے ڈنٹھل سب بڑے کام کے ہوتے ہیں ۔ اس پر یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔ جی ہاں... ار ہر کے پودے کا ڈنڈھل جسے ہمارے یہاں ’رہٹھا‘ کہتے ہیں وہ گائوں کے بڑے سے ’دُوار‘ کو  صاف کرنے میں کام آتا ہے ۔ اسی سے بڑا جھاڑو ’کھرہرا‘ بنتا ہے ۔ ارہر کے اُسی رہٹھا اور ڈنٹھل سے بڑے بڑے باسکٹ ’جھوّا‘ ، پلری وغیرہ تیار ہوتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب کچے مکانوں کے کچن میں’جھوّا‘ ہوا کرتا تھا ۔ کھانا پکا کر اسے جھوّے کے نیچے ڈھک دیا جاتا تھا،تاکہ کھانا چوہے ، بلیوں اور پرندوں سے محفوط رہے ۔ اُس وقت گائوں کے گھروں میں بڑا سا آنگن ہوتا تھا، اُس راستے سے گھر میں پرندے داخل ہو جاتے تھے ۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ باہر بیٹھے لوگ دیکھتے کہ کوّا چونچ میں روٹی دبائے لے اُڑا ۔ پھر کسی بچی کو جلدی سے اندر بھیجا جاتا اور وہ فوراً جھوے سےبرتنوں کو ڈھک دیتا تھا ۔ اسی طرح اَرہر کا رہٹھا جھونپڑی تیار کرنے کے کام آتا تھا۔ گھر میں چولہے پر بڑی لکڑیاں جلانے کیلئے پہلے اسی میں آگ لگائی جاتی تاکہ اُن کو آسانی سے جلایا جا سکے۔ روٹی سینکنے میں اسی رہٹھے کی مدد لی جاتی تھی کیونکہ یہ پتلا ہوتا اور اس میں تیزی سے آگ پکڑتی تھی۔ اس طرح فٹا فٹ روٹی پک کر تیا ر ہو جاتی تھی۔لکھنؤ میں تو باقاعدہ  ایک جھوّے والی گلی ہے ۔کسی زمانے میں وہاں جھوّا بیچنے والوں کا بازار لگتا تھا۔ جھوا فروخت کرنے والے اترپردیش کے مختلف مقامات پر اب بھی بازار لگاتے ہیں جہاں اَرہر کے رہٹھے سے تیار ہونے والے جھوے فروخت ہوتے ہیں۔ کئی مقامات پر اب دوسری لکڑیوں  سے تیار ہونے والے جھوے بھی فروخت ہورہے ہیں ۔ جھوّا سازی کرنے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دسمبر میں کیلنڈر اُتار کر رکھ لیا جاتا، بعد میں اس کے صفحات سے پتنگ بنائے جاتے

جنوری کے آخر تک ارہر میں پھول لگنے لگتے ہیں اور فروری ختم ہونے کے ساتھ اُس میں پھلیاں آجاتی ہیں، جو ننھی ننھی انگلیوں جیسی نظر آتی ہیں۔ دانے بھرنے کے ساتھ اس کے نازک پیڑ منکسرالمزاج شخص کی طرح جھکنے لگتے ہیں۔ پھر دانوں سے ہری بھری پھلیاں رنگ بدلنےلگتی ہیں اور جب ہوا چلتی ہے تو اس میں سے چھم چھم کی آواز آتی ہے جیسے دور کہیں گھنگرو بج رہے ہوں۔ ارہر کے کھیت سے اس طرح کی آواز آنے لگے تو سمجھ لیجئے کہ وہ پک کر تیار ہو گئی ہے ۔ پھر اسے کاٹنے کی تیاری ہونے لگتی ہے ۔ 

ارہر کی فصل جب تک کھڑی رہتی ہے ، اسکول نہ جانے والے بچوں کیلئے ڈھال ثابت ہوتی ہے ۔ وہ بچے اس کے گھنے کھیت میں آکر چھپ جاتے ہیں اور اسکول کی چھٹی ہوتے ہی کندھے پر بستہ رکھ کر گھر کیلئے نکل پڑتے ہیں۔اس طرح اسکول جانےوالے بچوں کا امتحان اُس وقت ہوتا جب کوئی درخواست لکھنے کو کہتا تو وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ ایسے بچوں کو گائوں والے کہتے ہیں اچھا تو تم ’ارہریا انٹر کالج‘ میں پڑھے ہو ...جائو تمہارے بس کا کچھ نہیں ہے ۔ ارہر کا کھیت نیل گایوں اور بہت سے جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ ہو اکرتا ہے۔ گیہوں اور چنے کو نشانہ بنا کر نیل گائیں اسی کھیت میں آکر چھپتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: میدانی علاقوں میں مئی جون میں آگ اور دسمبر جنوری میں برف کی بارش ہوتی ہے

ارہر کی دال تو پکائی ہی جاتی ہے۔ پہلے ارہر کے دانوں کی گھگھنی بھی بنائی جاتی تھی جسے لوگ صبح کے ناشتے میں بڑےمزے سے کھاتے تھے ۔ کہیں کہیں اس کی کچی پھلیوں کے دانےنکال کر سبزی بھی پکائی جاتی ہے ۔ گجرات کی مشہور ڈِش’ اُندھیو‘ ارہر کی پھلیوں سے بغیر ادھوری رہتی ہے ۔ مہاراشٹر میں اسے تُور کہتےہیں۔ اَرہر سے دال کیسے بنائی جاتی ہے اس پر تفصیلی گفتگو پھر کبھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK