ہاں تو اس بار سردی کچھ ایسی ہے کہ داداکے زمانے کا پرانا کمبل بھی کام نہیں آرہا ہے۔ گائوں کے ہر گھر میں دادا، دادی کے وقت کا کوئی کمبل یا لحاف ضرور رکھا ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 4:52 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
ہاں تو اس بار سردی کچھ ایسی ہے کہ داداکے زمانے کا پرانا کمبل بھی کام نہیں آرہا ہے۔ گائوں کے ہر گھر میں دادا، دادی کے وقت کا کوئی کمبل یا لحاف ضرور رکھا ہوتا ہے۔
پوس کا مہینہ چل رہا ہے۔ سردی اپنے شباب پر ہے۔ مئی، جون میں میدانی علاقوں میں گرمی ایسی پڑتی ہے جیسے آگ برس رہی ہو جبکہ دسمبر، جنوری میں جیسے برف کی بارش ہو رہی ہو۔ سورج غروب ہونے اور بڑھتی رات کے ساتھ سردی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ پوس کا نام ہی لحاف میں دبکنے کا ہے، الائو کے پاس بیٹھنے کا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہےجب کئی کئی روز تک سورج کا دیدار نہیں ہوتا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پوس صرف ایک موسم ہی نہیں بلکہ ہم سب کا امتحان ہے۔ جی ہاں ! مزدور، کسان، رکشا بان، ڈرائیور اور سبزی فروشوں کیلئے یہ مہینہ آزمائش کا ہوتاہے۔ یومیہ مزدور اگرگھر سے نہ نکلیں ... تو آخر کھائیں گے کیا۔ ہر چند کہ رزق کا ذمہ اللہ کے ہاتھوں ہے لیکن اس کیلئے حرکت تو ضروری ہے۔ ان کے سروں پر ذمہ داریاں ایسی ہیں کہ پوس کی سردی میں بھی بیٹھنا ممکن نہیں ، چاہےسردی سے بدن اکڑ جائے یا نزلہ زکام آ گھیرے۔ سرد ہوائوں کے درمیان رکشاچلانے والے کی نظر جب ایک راج مستری پر پڑتی ہے کہ وہ کیسے کانپتے ہاتھوں سے اینٹیں اُٹھا رہا ہے۔ ایسی صورت میں اُسے اپنی سردی کم نظر آتی ہے، وہ خود کو تسلی دیتاہوا زور سے رکشے کو پیڈل مارتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سردیوں میں سورج نظرآتے ہی خواتین چار پائی پر گیہوں پھیلا کر بیٹھ جاتی ہیں
ہاں تو اس بار سردی کچھ ایسی ہے کہ داداکے زمانے کا پرانا کمبل بھی کام نہیں آرہا ہے۔ گائوں کے ہر گھر میں دادا، دادی کے وقت کا کوئی کمبل یا لحاف ضرور رکھا ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں سردی میں ہمارے دادا نے یہ رضائی تیار کرائی تھی۔ اُس سال بہت سردی پڑی تھی یہاں تک کہ صبح باغوں میں پرندے مردہ پائے گئے تھے۔ یہ کمبل ہمارے دادا نے لدھیانہ سے خاص طور سے منگایا تھا۔ جب سردی حد سے بڑھ جاتی تھی تبھی وہ اسے نکالتے تھے۔ اُس زمانے میں بڑے خاص قسم کے گرم کپڑےاور شال وغیرہ ہوا کرتی تھیں۔ ایک صاحب کے یہاں ایک کمبل تھا اُسے سردیاں ختم ہونے کے بعد نیم کی پتیوں کے ساتھ ’بڑکی پیٹی‘ (بڑا والا صندوق)میں رکھا جاتا تھا۔ اُس کو خاص طریقے سے اِسلئے رکھا جاتا تھا کہ ایسا نہ کیا جائےتو اُسے کیڑے چاٹ جاتے تھے۔ مطلب اُس میں کیڑے لگ جاتے تھے اور کمبل خراب ہو جاتا تھا۔ اُس وقت کسان سردی سےبچنے کیلئے کمبل کا ہی استعمال کرتے تھے۔ اُس کی وجہ یہ تھی اس سے کھیتی کےکام میں بہت آسانی ہوا کرتی تھی۔ معلوم ہوا کھیت کی سینچائی ہو رہی ہے، کمبل کو مینڈ پر رکھا اور اپنے کام میں لگ گئے۔ اس طرح اگر وہ جیکٹ یا سوئٹر پہنے ہوں تو جتنی دیر میں اُسے جسم سے الگ کریں گے، اس وقت تک بڑی مقدار میں پانی دوسرے کے کھیت میں چلا جائے گا۔ اُس وقت پردیس میں رہنے والے اگر گھر کے بزرگوں کو جیکٹ یا سوئٹر بھیجتے تو اُسے وہ بہت کم ہی استعمال کرتے تھے۔ ساتھ میں کام کرنے والے مزدور یا کسی ضرورتمند پڑوسی کو دے دیا کرتے تھے۔ سردی سے بچنے کیلئے ان کی پہلی پسند کمبل ہوا کرتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: دسمبر کی سردی میں زندگی کی تمام تر رونقیں الائو کے پا س جمع ہو جاتی ہیں
کمبل کی بات چھڑی ہے... اِ س وقت بچپن کا وہ دن بڑی شدت سے یاد آرہا ہے جب ہمارے پڑوس کے قاری کلیم اللہ صاحب نےایک اودھی گیت سنائی تھی۔ اُن کی آواز اور اودھی انداز دل کو چھو لینے والا ہے۔ اُس وقت ہمارے چچا جو ممبئی سے بی ایس ٹی کی نوکری سےمستعفی ہو کر فلپس کا ٹیپ ریکارڈر ساتھ لائے تھے، اُس میں وہ گیت ریکارڈ کی گئی تھی۔ اُس میں سخت سردی کا ذکر ہے اور آپؐ سے کس قدر عقیدت کی بات کی گئی تھی، آپ بھی سنئے ....’اب کی سال جاڑا بہتے پڑت با ...تھر تھرپوری دیہیاں کپت با ...وہی کالی کملیا اوڑھائی جاتیا ....چھن بھر کے محمدؐ تو آئی جاتیا تنی آپن موہنی صورتیا دیکھائی جاتیا ‘...اس کا مفہوم یوں ہے کہ ...اب کی سال سردی بہت پڑ رہی ہے، پورا جسم تھر تھر کانپ رہا ہے۔ سرکارِ دو جہاں ؐ وہی اپنی کالی کملی اوڑھا جاتے، اے کاش آپ ایک لمحے کیلئے آجاتے ...آپ کا دیدار ہو جاتا تو اس بلا کی سردی سے نجات مل جاتی۔ مذکورہ نعتیہ گیت طویل ہے یہاں اُس کا ایک بند نقل کیا گیا ہے۔ قاری کلیم اللہ صاحب کو اللہ نے خوبصورتی کے ساتھ بڑی پیاری آواز سے بھی نوازا ہے، وہ پرتاپ گڑھ کی مشہور درسگاہ نور العلوم (ہر ہر پور) میں صدر شعبہ قرأت ہیں۔
’پوس‘ کے ختم ہونے میں ابھی تین دن باقی ہیں ۔ سردی ایسی پڑ رہی ہے کہ رات کو بستر گرم کرتے کرتے گھٹنےسینے کو پہنچ جاتے ہیں لیکن بستر سے سردی ختم نہیں ہوتی ہے۔ پوس کے بعد شروع ہوگا ’ماگھ ‘۔ اس مہینے کے شروع کے ایام تو بہت سرد ہوتے ہیں لیکن آدھا مہینہ ختم ہونے تک سردی کچھ حد تک کم ہو نے لگتی ہے۔ چنانچہ بزرگ کہتے ہیں .....’آدھے ماگھے...کمبل کاندھے‘۔ یعنی آدھا ماگھ گزرنے کے بعد جسم میں لپٹاکمبل کندھے پر آجاتا ہے۔ گو یا یہ ماہ جاتے جاتے سردی کے رخصت ہونے کا احساس بھی کرا جاتا ہے۔