Inquilab Logo Happiest Places to Work

آندھی میں گرے درخت پر بیٹھ کر جھولا جھولنے کی روایت اب باقی نہیں رہی

Updated: May 10, 2026, 9:52 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

کوئی بچہ اُس پر چڑھ کر کاروں اور موٹر گاڑیوں والی آوازیں نکالتا۔ کوئی اُس کو ٹیکسی بنا لیتا اور کہتا تین روپے میں چوک جانے والی سواریاں بیٹھیں .. آئیے آئیے بس پانچ منٹ میں پہنچاتا ہوں۔ کوئی شاخوں کے درمیان چور سپاہی والا کھیل کھیلتا۔

Whenever a storm came through the village and a tree in the garden fell, a wave of joy would run through the children. Photo: INN
گاؤں میں آندھی طوفان آتا اور باغ کا کوئی درخت گرجاتا تھا تو بچوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ جاتی تھی۔ تصویر: آئی این این

گاؤں کے وہ پُرانے کھیل اب تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ سائیکل کا خراب پڑا ٹائرلے کر دوڑنا۔ پھٹے پرانے کپڑوں کی گیند بنا کر کھیلنا۔ پولوتھین کو جلا کر گیند بنانا، جو بڑی سخت ہوا کرتی تھی۔ کسی آندھی طوفان میں گرے درخت پر بیٹھ کر گھنٹوں جھولا جھولنا۔ جو بچے پیڑ پر چڑھنے سے ڈرتے تھے، وہ زمین پر گرے پیڑپر بڑی آسانی سےبیٹھ جاتے تھے۔ گرے ہوئے درخت کی اِس شاخ سے اُس شاخ پر دوڑتے اس کی پتیاں توڑتے، شرارتیں کرتے پورا دِن اسی پر گزاردیتے۔ ان کو نہ کھانے فکر ہوتی اور نہ گھر پر آرام کرنےخواہش۔ دن بھر تھکے بغیر اسی درخت کے چکر لگایاکرتے تھے۔ 
گاؤں میں جب کبھی تیز آندھی آتی توایک ہلچل سی مچ جاتی تھی۔ پھوس کے چھپر ہوا میں  اُڑ جاتے اور باغوں میں کچے آم زمین پر بکھر جاتے تھے۔ بوڑھے درخت اِس آندھی کی نذر ہو جاتے اور اوندھے منھ زمین پر آ پڑتے تھے۔ گائوں کے بچوں کو باغ کے اس تناور درخت کے گرنے کا افسوس نہ ہوتا بلکہ وہ اس کے گرنے پر خوشی مناتے۔ دوڑتے ہوئے وہاں پہنچ جاتے اور گرے ہوئے تنے کو جھولا بنا لیتے تھے۔ جیسے ہی ان کو خبر ملتی کہ فلاں باغ کے پاس مہوے کا درخت گر گیا، تالاب کے پاس والا جامن کا پیڑ آندھی میں اُکھڑ گیا۔ پھر کیا تھا ان کیلئے ہر طرف کھیل کود اور تفریح کا سامان مہیا ہو جاتا۔ یوں ان کی گرمی کی چھٹیاں اِنہیں کے گرد اچھل کود کرتے ہوئے گزر جاتیں۔ 
کوئی بچہ اُس پر چڑھ کر کاروں اور موٹر گاڑیوں والی آوازیں نکالتا۔ کوئی اُس کو ٹیکسی بنا لیتا اور کہتا تین روپے میں چوک جانے والی سواریاں بیٹھیں .. آئیے آئیے بس پانچ منٹ میں پہنچاتا ہوں۔ کوئی شاخوں کے درمیان چور سپاہی والا کھیل کھیلتا۔ موٹی شاخوں پر بچے جھولا جھولتے۔ وہ ایک شاخ سے دوسری شاخ پر بڑی تیزی سے چڑھتے اور دوڑتے تھے۔ گرے ہوئے پیڑ سے گرکر زخمی ہونے کا ڈر نہیں تھا۔ بعض بچے تو درخت کے اُلٹے پڑے ہوئے جڑ والے حصے میں بیٹھ کر اسے’غار‘ بنا لیتے۔ گھر کے کاموں سے بچنے کیلئے وہ اسی خفیہ مقام پر آکر چھپ جاتے تھے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں اُن کو تلاش کرپانا مشکل کام ہوتا تھا۔ 
خاص طور پر آم یا جامن کے درخت گرنے پر تو بچوں کی جیسے عید ہو جاتی تھی۔ وہ ٹوکرے، تھیلے اور اپنی جیبوں میں بھر بھر کر پھل جمع کرتے تھے۔ پھر اسی گرے ہوئے پیڑ پر بیٹھ کر نمک مرچ لگا کر کچے آم کھاتے تھے۔ دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اُس ذائقے سے لطف اندوز ہونے والے آج بھی وہ دن یاد کرتے ہوں گے۔ 
بعض اوقات گائوں کے بوڑھے بزرگ بچوں کی دھما چوکڑی پر انہیں ڈانٹتے۔ نیچے اُترو، اُس پتلی شاخ پر کہاں چڑھے جارہے ہو، کہیں گر گئے توٹوٹے ہاتھ میں پلاسٹر باندھے ٹہلنا، پھرساری اچھل کود نکل جائے گی۔ جب بچہ ان کی بات اَن سنی کردیتا تو اُس کے باپ کا نام لے کر غصے میں لال پیلے ہوکر... کہتے کہ ’ہے فلانے کے پوت ...اُتر جا نہیں ...اَبہیں تمہار کان کھرکَرب‘۔ مگر بچوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی۔ ان کیلئے وہ گرا ہوا درخت ایک مہم تھا، ایک کھیل تھا، ایک ایسی خوشی تھی جو صرف گاؤں کے بچپن میں ملتی تھی۔ شام ڈھلنے کے ساتھ بچے تھکے ہارے مگر خوشی خوشی واپس لوٹتے۔ ان کے کپڑوں پر مٹی لگی ہوتی، ہتھیلی جگہ جگہ سے چھِلی ہوتی، مگر چہروں پر ایک عجیب سی چمک ہوتی تھی۔ 
آندھیوں میں ساجھے کے ایسے پیڑ بھی گرتے تھے جو وہیں پڑے پڑے سوکھ کر سڑ جاتے تھے لیکن اُن کے مالکان میں لکڑیوں کا بٹوارہ نہیں ہو پاتا تھا۔ ایسے درختوں سے اُن مالکان کے علاوہ گائوں کے دوسرے لوگ بھی فائدہ اُٹھا لیتے۔ دھیرے دھیرے اُس کی سوکھی لکڑیاں توڑی جاتیں ۔ اُن لکڑیوں سے کسی کے یہاں چولہا جلتا توکوئی اُس سےسردیوں میں الائو تاپتا تھا۔ اِس پر گائوں کی ایک کہاوت بڑی مشہور ہے کہ’ ’ساجھے کی چیز ... سِیار کھائے ‘۔ یعنی کئی لوگوں کی حصے والی مشترکہ چیز آپس میں اتفاق نہ ہونے کے سبب تقسیم نہیں ہوپاتی ہے بلکہ اُس سے دوسرا کوئی فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔ 
گائوں میں اب بڑے اور تناور درختوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔ اب جو قلمی آم لگائے جارہے ہیں وہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ پرانے دیسی آموں کے درخت اتنے تناورہوتے تھے اور اُس میں اس قدر پھل لگتے تھے کہ پورا گائوں کھاتا تھا، رشتہ داروں میں بانٹا جاتا پھر بھی کم نہ پڑتا تھا۔ آم کے درخت اب بھی لوگ لگا رہے ہیں لیکن مہوا، جامن، بیل، املی اورکیتھا وغیر ہ کے درخت اب شاید ہی کوئی لگاتا ہو۔ چنانچہ یہ درخت اب گائوں میں ڈھونڈے نہیں ملتے ہیں۔ آندھی طوفان آنے پر پرانے بوڑھے درخت گر رہے ہیں۔ اُن کی جگہ پر اب نئے درخت نہیں لگائے جارہے ہیں۔ گائوں کے بزرگ بتاتے ہیں کہ پہلے گائوں کا باغ اتنا گھنا ہوتا تھا کہ ایک پیڑسے دوسرے پیڑ پر چڑھتے ہوئے لوگ کلو ڈیڑھ کلو میٹر تک آگے پہنچ جاتے تھے۔ اب گائوں سے باغات ختم ہو رہے ہیں اُن کی جگہ اونچی اونچی عمارتیں کھڑی ہو رہی ہیں۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے مکان کے آس پاس کے پیڑ اِس لئے کاٹ دے رہے ہیں تاکہ اُن کی حویلی دور سے نظر آئے اور علاقے میں اُن کا ’بھوکال‘ بنے۔ 
اب گائوں میں وہ پرانے گھنے پیڑ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ بچوں کے کھیل بھی موبائل کی اسکرینوں میں سمٹ گئے ہیں۔ اب آندھی کے بعد بچے گرے ہوئے درخت پر چڑھنے کیلئے نہیں دوڑتے بلکہ لوگ فوراً مشین بلا کر اسے کٹوا دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے درخت ہی نہیں گرے، بلکہ ان سے جُڑی بچپن کی معصوم خوشیاں بھی کہیں زمین بوس ہو گئی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK