گزشتہ دنوں ممبئی کے مضافات میں واقع ایک مشہور سرکاری اسپتال میں ۱ء۶۵؍کروڑ روپے کی ایسی دوائیں برآمد ہوئیں جن کی معیاد ختم ہو چکی تھی۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 10:01 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
گزشتہ دنوں ممبئی کے مضافات میں واقع ایک مشہور سرکاری اسپتال میں ۱ء۶۵؍کروڑ روپے کی ایسی دوائیں برآمد ہوئیں جن کی معیاد ختم ہو چکی تھی۔
وطن عزیز میں طب اور حفظان صحت کا محکمہ بد سے بدترین صورتحال کا آئینہ بنتا جا رہا ہے۔ اس محکمے میں مختلف سطحوں پر بدعنوانی کے معاملات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ گزشتہ دنوں میڈیا میں آیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس محکمے کے ذمہ داران کو عوام کی صحت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ پرائیویٹ اسپتالوں کے مہنگے علاج کی سکت نہ رکھنے والے غریب اور نچلے متوسط طبقے کے افراد بیشتر سرکاری اسپتالوں پر ہی منحصر ہوتے ہیں۔ عام آدمی کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کی غرض سے قائم کئے گئے ان سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی صحت سے بے اعتنائی کا یہ عالم ہے کہ مریضوں میں وہ ادویات بھی تقسیم کر دی جاتی ہیں جن کی میعاد ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ ان ادویات کا استعمال مریض کو شفا تو کیا دے گا الٹے ان ادویات کی وجہ سے امراض میں ایسی پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے جو بعض اوقات مریض کو قریب المرگ کر دیتی ہے۔ ملک کے طول و عرض پر پھیلے ہوئے سرکاری اسپتالوں میں عام آدمی کے علاج کی صورتحال ’درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘ کے مصداق ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال میں اسمبلی الیکشن کا نتیجہ کچھ بھی آئے جمہوریت بری طرح شرمسار ہورہی ہے
گزشتہ دنوں میڈیا میں آئی خبر کے مطابق ممبئی کے نواحی علاقے بھائندر (مغرب) میں واقع پنڈت بھیم سین جوشی سرکاری اسپتال میں ۱ء۶۵؍کروڑ کی ایسی دوائیں برآمد ہوئیں جن کی معیاد ختم ہو چکی تھی۔ ان ادویات کو مبینہ طور پر کسی سماجی تنظیم نے اسپتال کو عطیہ کیا تھا۔ اسپتال کے حکام کے ذریعے معمول کی انوینٹری جانچ میں یہ معاملہ سامنے آیا اور اس مرحلے پر حکام نے فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو اس معاملے کی اطلاع دی۔ ریاستی حکومت اب اگر اس معاملے کی تفتیش کرتی ہے تو اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا اس پر کچھ کہنے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ اکثر ہوتا یہ ہے کہ جب اس طرح کا کوئی معاملہ کسی سرکاری محکمے سے متعلق ہوتا ہے تو تفتیش کے نام پر محض کچھ کاغذی خانہ پری کر کے معاملے کو رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ اس معاملے کا قدرے اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ یہ دوائیں مریضوں میں تقسیم نہیں کی گئی تھیں۔ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی حالت زار کا معاملہ صرف یہی نہیں ہے کہ انھیں دوائیں تقسیم کرنے میں اس طرح کی بدعنوانی کی جاتی ہے بلکہ ان کے ساتھ ڈاکٹروں اور اسپتال کے دیگر ملازمین کا برتاؤ اس طرح کا ہوتا ہے کہ جسمانی مرض میں مبتلا مریض اور اس کے عزیز و اقارب کو اسپتال کے عملے کی سرد مہری اور بے حسی کے سبب ذہنی اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
ملک کے ہر شہری کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری میں عوام کی حفظان صحت کا معاملہ بھی شامل ہے۔ آئین کے ماہرین کا خیال ہے کہ آئین کی دفعہ ۲۱؍ جو عوام کو زندگی اور ذاتی آزادی کا حق دیتی ہے، اس دفعہ کی رو سے زندگی کے حق کا اطلاق ان تمام معاملات پر ہوتا ہے جو عوامی فلاح کے فروغ کیلئے ایک سماجی نظام کے قیام کو یقینی بناتے ہیں اور عوام کو طب اور حفظان صحت کی سہولت فراہم کرنے کا معاملہ بھی اس میں شامل ہے۔ آئین کی اس دفعہ میں زندگی کے جس حق کو عوام کے بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اس کی وسیع تناظر میں تعبیر کی جائے تو اس میں عوام کے ذریعہ معاش، ان کے معیار زندگی میں بہتری اور ان کے لیے حفظان صحت کی سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ آئین کی دفعات ۳۸، ۴۲، ۴۳ اور ۴۷؍ میں بھی کئی ایسے ضوابط ہیں جو بیمار اور معذور انسان کے لئے علاج اور صحت کی سہولت فراہم کرنے کو حکومت کی اولین ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔ عوام کی صحت کو یقینی بنانے کی غرض سے کئے گئے ان آئینی التزامات کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر سرکاری اسپتالوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو جو حقیقت سامنے آئے گی وہ قول و فعل میں زمین و آسمان کے فرق کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کتابوں سے رفاقت اسرار زیست کی آگہی عطا کرتی ہے
گزشتہ کچھ برسوں کے دوران اقتدار نے عوام کے تئیں جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس میں صحت، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی ضرورتوں کے بجائے ان معاملات کو ترجیح حاصل ہو گئی ہے جن کی بنا پر سیاست داں عوام کا جذباتی استحصال کرکے اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اسپتال سمیت عوام کی فلاح اور خوشحالی کیلئے قائم ہونے والے تقریباً سبھی سرکاری اداروں میں برسرکار افراد عوامی مسائل سے بے اعتنائی برتنے لگے ہیں جس کی ایک تازہ مثال بھائندر کے سرکاری اسپتال میں ان ادویات کا برآمد ہونا ہے جن کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ معیار زندگی کو بہتر بنانے میں صحت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے لیکن سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ جو برتاؤ کیا جاتا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ ڈاکٹروں اور اسپتال کے دیگر ملازمین کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ مریض کو شفا ملے اور وہ صحت مند ہو کر واپس جائے۔ سرکاری اسپتالوں کا پورا عملہ بیشتر اس معاملے میں ایسی بیزاری ظاہر کرتا ہے کہ غریب اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے مریض مجبوراً پرائیویٹ اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جہاں معیاری علاج کے نام پر ان کا معاشی استحصال کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جبکہ عوام عارضی اور جذباتی معاملات سے اوپر اٹھ کر اپنے حقوق اور فرائض کا حقیقی ادراک حاصل کریں اور جب تک ایسا نہیں ہوگا وہ اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہوتے رہیں گے اور سیاست داں ان کی محرومی اور بیچارگی پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکتے رہیں گے۔