مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کو کئی اخبارات نے الیکشن کمیشن کی حکمت عملی اور انتظامی کردار کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے نتائج کے فوراً بعد بھڑک اٹھنے والے تشدد پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 9:36 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کو کئی اخبارات نے الیکشن کمیشن کی حکمت عملی اور انتظامی کردار کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے نتائج کے فوراً بعد بھڑک اٹھنے والے تشدد پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
ریاستوں کے انتخابی نتائج نے ملک کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ غیر اردو اخبارات مسلسل اداریوں اور تجزیوں کے ذریعے ان نتائج کے دور رس اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کو کئی اخبارات نے الیکشن کمیشن کی حکمت عملی اور انتظامی کردار کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے نتائج کے فوراً بعد بھڑک اٹھنے والے تشدد پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب کیرالا میں بائیں بازو کی کمزور ہوتی گرفت کو ایک سیاسی عہد کے خاتمے سے تعبیر کیا جا رہا ہے جہاں برسوں سے قائم نظریاتی سیاست اب زوال کے آثار دکھا رہی ہے۔ اسی کے ساتھ تمل ناڈو میں تھلا پتی وجے کی شاندار کامیابی کو عوامی امیدوں کی نئی کرن اور جنوبی ہند کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
مغربی بنگال کی جیت کیا واقعی شفاف ہے؟
سامنا( مراٹھی، ۶؍مئی)
’’بی جے پی نے ۵؍ میں سے ۳؍ ریاستوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں جن میں مغربی بنگال کی فتح کو بی جے پی کیلئے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ بنگال محض ایک ریاست نہیں بلکہ جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کا مسکن ہے اور یہی وجہ ہے کہ مودی، شاہ جوڑی کیلئے اس سرزمین پر بھگوا پرچم لہرانا ایک جنونی خواب بن چکا تھا۔ تاریخ گواہ ہےکہ شیاما پرساد مکھرجی نے قیام پاکستان سے قبل بنگال میں مسلم لیگ کی کابینہ میں شمولیت اختیار کی تھی اور’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے دوران انگریزوں کو خط لکھ کر عوامی جدوجہد کو کچلنے کا مشورہ دیا تھا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ بی جے پی کے نزدیک وہی شخصیت مثالی مرد آہن ہے جس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کولکاتا میں جیت کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ بلاشبہ انتخابی جیت پر مبارکباد دینا ایک جمہوری روایت ہے، لیکن کیا یہ جیت واقعی شفاف ہے؟اس فتح کے پیچھے جو بڑا آپریشن کارفرما رہا وہ جمہوری اقدار کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ مودی اور شاہ نے مبینہ طور پر الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیشور کمار کو اپنے مخصوص نظریات کا پابند بنایا۔ جب الیکشن کمیشن مکمل طور پر ہندوتوا کے رنگ میں رنگ گیا تو پہلا وار ووٹر لسٹوں پر کیا گیا اور ۸۰؍ سے ۸۵؍ لاکھ رائے دہندگان کے نام خارج کر دیئے گئے۔ حد تو یہ ہے کہ اس تمام غیر جمہوری عمل کو عدالتی گرفت سے بچانے کیلئے عدالتی نظام کو بھی سسٹم کے شکنجے میں کس لیا گیا۔ انتخابی مہم کے دوران مذہب خطرے میں ہے اور بنگلہ دیشیوں کی آمد جیسے خوفناک بیانیے تخلیق کیے گئے اوروزیرداخہ سے لے کر وزیر اعظم تک نے تمام قومی مسائل کو پسِ پشت ڈال کر مہینوں بنگال میں ڈیرے ڈالے رکھے۔ ‘‘
وجے کی جیت فلمی اسکرپٹ کا منظر معلوم ہوتا ہے
لوک مت( مراٹھی، ۶؍مئی)
’’تمل ناڈو کی سیاست میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلی محض ایک انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ عوامی شعور کے ایک نئے دھارے کا اظہار ہے۔ جب کوئی مقبول فلمی اداکار محض دو سال قبل اپنی سیاسی جماعت تشکیل دے روایتی تنظیمی ڈھانچے کے بجائے اپنے مداحوں کی طاقت پر بھروسہ کرلے اور برسوں سے جڑیں جمائے بیٹھے سیاسی بتوں کو پاش پاش کر دے تو یہ کسی فلمی اسکرپٹ کا منظر معلوم ہوتا ہے، لیکن تمل ناڈو کے عوام نے سپر اسٹار وجے جوزف کی قیادت میں ’ٹی وی کے‘ کو ۱۰۸؍ نشستوں پر فتح دلا کر اس تصور کو ایک ٹھوس حقیقت میں بدل دیا ہے۔ تمل ناڈو کی سیاسی تاریخ ایم جی رام چندرن، جے للتا اور کروناندھی جیسے ناموں سے عبارت رہی ہے جنہوں نے روپہلے پردے سے نکل کر اقتدار کے ایوانوں تک کا سفر طے کیا۔ وجے کی کامیابی نے اس روایت کو ایک نیا رخ عطا کیا ہے۔ ان کی جیت محض’گلیمر‘ کا کرشمہ نہیں بلکہ ان کے سیاسی تدبر اور جرأت مندانہ فیصلوں کا ثمر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ریاست کی سیاست دہائیوں سے ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے گرد گھوم رہی تھی، وجے نے ایک تیسرے اور مضبوط متبادل کے طور پر خود کو پیش کیا۔ وجے کی کامیابی کا ایک اہم پہلو ان کی سیاسی یکسوئی ہے۔ ایک فلم کیلئے ۲۵۰؍ کروڑ روپے کا معاوضہ ٹھکرانے والے اداکار کی یہ قربانی عوام کے دلوں میں گھر کر گئی۔ ‘‘
شوبھندو ادھیکاری کے بیانات لمحہ فکریہ ہیں
دی انڈین ایکسپریس( انگریزی، ۷؍مئی)
’’مغربی بنگال کے حالیہ انتخابی نتائج نے جہاں سیاسی صف بندیوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں اس خطے کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ بھی کیا ہے۔ ۴؍مئی کو انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد اپنی تقریر میں وزیر اعظم مودی نے بی جے پی کی اس کامیابی کو محض ایک انتخابی جیت نہیں بلکہ ریاست کیلئے ایک نقطہ آغاز قرار دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ریاست کو اس سیاسی کلچر سے نجات دلانے کا موقع ہے جو دہائیوں سے خوف اور تشدد کی لپیٹ میں رہا ہے۔ وزیر اعظم کا’بھئے مکت‘ (خوف سے آزاد) بنگال کا ویژن بلاشبہ خوش آئند ہے مگر اس منزل کا حصول محض بیانات سے ممکن نہیں۔ بنگال میں سیاسی تشدد کی جڑیں بہت گہری اور المناک ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں نوآبادیاتی راج کے خلاف مسلح مزاحمت ہو یا قیام آزادی کے وقت کے فرقہ وارانہ فسادات، یہ خطہ ہمیشہ سے سیاسی و سماجی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ بعد ازاں ۱۹۶۰ء کی دہائی میں نکسل ازم کی لہر اور پھر کمیونسٹ پارٹی کے ۳۴؍ سالہ طویل دور اقتدار نے سیاسی تشدد کو ایک ادارہ جاتی شکل دے دی۔ ٹی ایم سی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس بوسیدہ ڈھانچے کو ختم کرنے کے بجائے اسے سنڈیکیٹ کی صورت میں مزید وسعت دی جو بالآخر خود اس کے زوال کا سبب بنی۔ اب جبکہ بی جے پی کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہو چکا ہے اس کے پاس تاریخ کے اس جبر کو ختم کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر سامک بھٹاچاریہ کی یہ بات حقیقت پسندانہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ مینڈیٹ محض اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ سیاست کی نئی لغت وضع کرنے کا تقاضا کرتا ہے لیکن دوسری جانب شوبھندو ادھیکاری جیسے لیڈروں کے تفرقہ انگیز بیانات کہ وہ صرف ایک مخصوص طبقے کیلئے کام کریں گے، اس جمہوری روح کے منافی ہیں جو سب کو ساتھ لے کر چلنے کا درس دیتی ہے۔ ‘‘
کیرالا: ایک عہد کے خاتمے کا پیشہ خیمہ ثابت ہوا
نوبھارت ( ہندی، ۷؍مئی)
’’کیرالا کے حالیہ انتخابی نتائج محض ایک سیاسی شکست نہیں بلکہ ایک عہد کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوئے ہیں۔ کیرالا میں بائیں بازو کے محاذ (ایل ڈی ایف) کی پسپائی کے ساتھ ہی ملک میں کمیونسٹ نظریات کی حامل حکمرانی کا وہ آخری قلعہ بھی زمین بوس ہو گیا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔ آج نصف صدی کے طویل عرصے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کے سیاسی نقشے پر کسی بھی ریاست میں کمیونسٹ حکومت موجود نہیں ہے۔ کمیونزم کی پسپائی کا یہ سفر ۲۰۱۱ء میں بنگال سے شروع ہوا تھا جہاں ۳۴؍ سالہ طویل ترین اقتدار کا سورج غروب ہوگیا تھا۔ جیوتی باسو جیسے قد آورلیڈر کی جگہ لینے والے بدھا دیو بھٹاچاریہ اپنی وراثت کو بکھرنے سے بچا نہ سکے۔ رہی سہی کسر ۲۰۱۸ء میں تریپورہ کے نتائج نے پوری کر دی جہاں بی جےپی نے سرخ پرچم کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں۔ ایک دور تھا جب ہندوستانی سیاست اور ٹریڈ یونین تحریکوں میں کمیونسٹوں کا طوطی بولتا تھااگرچہ پنڈت نہرو نے ۱۹۵۹ء میں نمبودری پد کی منتخب حکومت کو برطرف کرکے سخت گیر رویہ اپنایا مگر بعد ازاں اندرا گاندھی کے دور میں بائیں بازو کے لیڈروں نے نہ صرف اقتدار کے ایوانوں میں رسائی حاصل کی بلکہ قومی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوئے۔ بدقسمتی سے بائیں بازو کے بطن سے جنم لینے والی نکسل ازم نے تشدد کا راستہ اپنایا جسے ریاست نے سختی سے کچل دیا۔ کیرالا کی حالیہ شکست محض ایک انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ بائیں بازو کے وجود پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ‘‘