• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک وقت تھا جب گھر گھروندے کا کھیل بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا

Updated: October 18, 2026, 5:37 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

اس کام میں بھی بچوں کے درمیان ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش جاری رہتی۔ کوئی اپنی مٹی کے ڈھیر پر فخر کرتا تو کوئی دوسرے کی مٹی کو ناقص قرار دے کر اپنی کاریگری کی برتری جتاتا۔

Children from the village who have now grown up and settled in cities must surely recall their humble homes back in the village whenever they look at the towering high-rise buildings. Photo: INN
گاؤں کے بچے جو اَب جوان ہوکر شہروں میں آباد ہوگئے ہیں، بلند بالا عمارتیں دیکھنے کے بعد اپنے گھروندوں کو یاد کرتے ہوں گے۔ تصویر: آئی این این

گرمیوں کی چھٹیاں ہوں یا سردیوں کی دھوپ، جب بھی چار چھ بچے ایک جگہ جمع ہو جاتے، ان کے ذہن میں سب سے پہلےگھر گھروندے کا خیال آتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ کھیل گاؤں کے بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ کسی کو اپنے گھر کے کام سے فرصت ملتی، کوئی مویشیوں کے پاس سے بھاگتا ہوا آتا اور کوئی کھیلنے کی آواز سنتے ہی اپنے گھر سے نکل پڑتا۔ پھر دوستوں کی محفل سجتی، کھیل کی جگہ منتخب ہوتی اور سب اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیتے۔ کھیل شروع کرنے سے پہلے سب سے اہم کام ہوتا تھا مٹی جمع کرنا۔ کوئی گھر کے پچھواڑے سے نرم مٹی کھود کر لاتا، کوئی گلی کے کنارے پڑی مٹی کو اکٹھا کرتا اور کوئی اپنے ہاتھوں سے مٹی کے ڈھیلے توڑ کر انہیں باریک کرتا۔ مٹی جتنی نرم اور صاف ہوتی، گھروندے کی تعمیر اتنی ہی اچھی ہوتی۔ 
 اس کام میں بھی بچوں کے درمیان ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش جاری رہتی۔ کوئی اپنی مٹی کے ڈھیر پر فخر کرتا تو کوئی دوسرے کی مٹی کو ناقص قرار دے کر اپنی کاریگری کی برتری جتاتا۔ مٹی جمع ہو جاتی تو اب باری پانی کی ہوتی۔ کسی بچے کو کنویں سے پانی لانے کی ذمہ داری دی جاتی، تو کوئی گاؤں میں لگے ہینڈ پمپ کی طرف دوڑ لگاتا۔ جب مٹی اور پانی جمع ہو جاتے تو سب مل کر گارا تیار کرتے۔ کوئی ہاتھوں سے مٹی کو گوندھتا، کوئی لکڑی کے چھوٹے ٹکڑے سے اسے الٹ پلٹ کرتا اور کوئی اپنے پاؤں سے مٹی کو نرم کرنے لگتا۔ اس دوران بچوں کے ہاتھ پاؤں مٹی سے بھر جاتے، کپڑوں پر داغ لگ جاتے مگر کسی کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی۔ اس حالت میں گھر پہنچنے اور وہاں پڑنے والی ڈانٹ پھٹکار سے بھی وہ بے فکر ہوتے تھے۔ 
 بعض بچے گھاس پھوس بھی جمع کر لاتے، جسے چھت پر اس انداز سے بچھایا جاتا کہ گھروندہ دیکھنے میں بالکل گاؤں کے کسی کچے مکان جیسا معلوم ہونے لگتا۔ گھروندے کی تعمیر میں ہر بچے کی اپنی پسند اور اپنی سوچ ہوتی تھی۔ ننھے ہاتھوں کی کاریگری سے ان کی ذہانت کا بھی پتہ چلتا تھا۔ بچے اصل گھر کی پوری نقل کرتے تھے۔ گھر بناتے وقت وہ مویشیوں کے رہنے کیلئے بھی کمرہ بناتے تھے۔ اُس میں ایک طرف مویشیوں کے باندھنے کی جگہ بھی بنا دی جاتی۔ بکریوں  کیلئے چھپر نما چھوپڑی ہوتی تو وہیں مرغیوں  کیلئے ڈربا تیار کرتے تھے۔ گائوں میں جو گھر سب سے عالیشان ہوتا بچے اُس کی نقل کرکے اپنا گھروندہ بناتے تھے۔ وہ اُسی طرح نقش و نگار بنانے کی بھی کوشش کرتے تھے۔ اُس وقت کچے مکانوں کا جو صدر دروازہ ہوتا تھا اُس میں بڑھئی خوب پھول پتیاں بنایا کرتے تھے۔ بچے اُس کی بھی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ گھروندہ تیار ہو جاتا تو بچوں کی خوشی قابل دید ہوتی تھی۔ پھر گھروندے کی خوبصورتی پر بحث شروع ہو تی تو سب اپنے بنائے ہوئے گھرکی تعریفوں کے پُل باندھتے تھے۔ گھروندہ بن جانے کے بعد کھیل کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا، جس میں گھر بسانے کی باری آتی تو کوئی گھر کا مالک بنتا، کوئی مہمان، کوئی دکاندار۔ مٹی کے برتنوں میں پانی بھر کر کھانا پکانے کی نقل بھی کی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: کنویں کے گرد چھوٹی سی جگہ میں دن میں دو بار محلے کی عورتوں کی محفل سجتی تھی

شام ڈھلے جب اُن بچوں کی مائیں اُنہیں تلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچتیں تو اُن کی حالت دیکھ کر وہ آگ بگولہ ہو جاتی تھیں۔ پھر کسی درخت سے توڑی گئی چھڑی سے اُن کی خوب خاطر داری ہوتی تھی۔ کبھی کبھی غصے میں جھنجھلا کر وہ اُن کے گھروندے توڑنے کیلئے آگے بڑھتی تو بچے بڑی معصومیت سے منت کرتے امی مجھے جو بھی سزا دیں ، لیکن میرے گھر کو نہ توڑیں ۔ ایسا معلوم ہوتا جیسے یہ اُن کا اصلی گھر ہو۔ منت سماجت کرکے وہ اُس وقت تو اپنا گھربچا لیتےلیکن مٹی کے گھروندوں کی عمر بھلا کتنی ہوتی ہے۔ کبھی رات کی بارش انہیں بہا لے جاتی تو کبھی کسی جانور کے پاؤں تلے دب کر وہ مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتے۔ 
موبائل کے اس دور میں اب بچوں  کے کھیلنے کا انداز بدل گیا ہے۔ مٹی میں ہاتھ ڈال کر کچھ بنانے، ہینڈ پمپ سے پانی لانے، سوکھی لکڑیاں جمع کرنے اور دوستوں کے ساتھ مل کر گھروندہ تعمیر کرنے کا وہ منظر اب کہیں دور افتادہ علاقے ہی میں دِکھائی دیتا ہے۔ 
گاؤں کی گلیوں میں وہی مٹی موجود ہے، درخت بھی ہیں، پانی کے ذرائع بھی لیکن ان سب کو کھیل کا حصہ بنانے والی بچوں کی وہ ٹولیاں اب گم ہو گئی ہیں۔ گھروندے کا کھیل بچوں کو صرف مصروف نہیں رکھتا تھا بلکہ انہیں اپنی دنیا خود بنانے کا موقع دیتا تھا۔ وہ مٹی سے گھر بناتے ہوئے خواب دیکھتے، اپنے دوستوں کے ساتھ انہیں بانٹتے اور کبھی دیوار گر جانے پر دوبارہ کوشش کرنا سیکھتے تھے۔ ان گھروندوں کی دیواریں مٹی کی تھیں مگر ان کے اندر آباد خوشیاں بہت قیمتی تھیں۔ مٹی کے وہ گھروندے بنانے والی نسل گائوں میں پکے مکان بنانے کیلئےشہروں میں دن رات محنت کررہی ہے۔ ہر وقت مٹی میں اُلجھے رہنے والے گائوں کے وہ بچے اب جوان ہو کر اپنی زندگی کی ذمہ داریوں  میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ اب جب وہ پردیس میں بلند و بالا عمارتیں دیکھتے ہوں  گے تو اُنہیں اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بنائے ہوئے وہ چھوٹے چھوٹے گھروندے ضرور یاد آتے ہوں  گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK