• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہین باغ سے جنترمنتر تک، خواتین کی شکل میں احتجاج کی بلند آواز

Updated: October 25, 2026, 6:20 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

دہلی کے حالیہ مظاہروں میں لڑکیوں بالخصوص طالبات کی نمایاں شرکت کو کسی ایک جماعت، تنظیم یا تحریک سے جوڑ کر محض اُن تنظیموں کی کامیابی تک محدود کرکے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ اس میں ایک وسیع تر سماجی تبدیلی کا اشارہ موجود ہے جس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ یہ بچیاں ان تمام لوگوں کو حوصلہ فراہم کرتی ہیں جو غلط کو غلط تو سمجھتے ہیں مگر اس کے خلاف میدان میں اُترنے اور اپنے خیالات، احساسات و جذبات کی ترجمانی کی جرأت نہیں کرپاتے۔

Gaharmehar Kaur and Neha Bora. Photo: INN
گہرمہر کور اور نیہا بورا۔ تصویر: آئی این این

دہلی میں حالیہ دنوں ہونے والےمظاہروں کا جائزہ لیجئے تو ایک بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ ہماری لڑکیوں نے نہ صرف ان مظاہروں میں شرکت کی بلکہ کئی مواقع پر احتجاج کی آواز اور اس کی شناخت بھی بنیں۔ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کی تحریک ہو یا الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر کے معاملے پر احتجاج، لڑکیوں نے جس بے خوفی، بے باکی اور بلند عزائم کے ساتھ اپنی بات رکھی، اس نے ثابت کردیا کہ وہ محض تماشائی بن کر حالات کا مشاہدہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ سوال بھی کرنا چاہتی ہیں، جواب بھی مانگتی ہیں اور سماج کی سمت متعین کرنے میں اپنا حصہ بھی چاہتی ہیں۔ ان مظاہروں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہواکہ ہماری نصف آبادی کے خیالات، احساسات اور سیاسی و سماجی شعور کو نمایاں ہونے کا موقع ملا۔ عام طور پر لڑکیوں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت ان کی تعلیم، شادی، گھریلو ذمہ داریوں اور خاندانی زندگی کو موضوع بنایا جاتا ہے، لیکن جب یہی لڑکیاں عوامی مسائل پرگفتگو کرتی ہیں، حکومت سے سوال کرتی ہیں، تعلیمی نظام کی خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور جمہوری حقوق کیلئے آواز بلند کرتی ہیں تو سماج کو ان کی شخصیت کا ایک دوسرا رخ دکھائی دیتا ہے۔ یہ رخ اعتماد، صلاحیت، خودداری اور تبدیلی کی خواہش سے عبارت ہے۔ 
حالیہ مظاہروں میں ’آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن‘ کی سربراہ نیہا بورا، این ایس یو آئی کی قومی سیکریٹری ریتو برالا، سی جے پی کی ترجمان رتنا سنگھ، جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والی اُم حبیبہ اور دیگر خواتین کے چہرے نمایاں ہوئے۔ طلبہ لیڈر دانش علی اور یوتھ کانگریس کی لیڈر گرمہر کور سمیت مختلف نوجوان کارکنوں کی سرگرمیوں نے بھی ان مظاہروں کو پہچان دی۔ ان ناموں کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ یہ لوگ خبروں اور سوشل میڈیا پر دکھائی دیئے بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کے مسائل اور سوالات کو سامنے لانے میں نوجوان خواتین اور طالبات بھی اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ نیہا بورا کی تعلیمی مسائل اور پیپر لیک کے خلاف سرگرمیاں اور بعد کے احتجاجوں میں ان کی شرکت اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ 
یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ موجودہ حکومت کے نشانے پر اول دن سے طلبہ، بالخصوص وہ طلبہ لیڈر رہے ہیں جن کا ضمیر زندہ ہے اور جو ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ اس کا مشاہدہ جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، الہ آباد یونیورسٹی اور بی ایچ یو میں کیا جاتا رہا ہے۔ ان تمام یونیورسٹیوں میں پولیس کے نشانے پر لڑکے خاص طور پر رہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک حکمت عملی کے تحت گزشتہ چند برسوں سے ہماری طالبات نے قیادت کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ پولیس لڑکوں کے ساتھ زیادہ سختی کرے گی اور انہیں طویل عرصے تک مقدمات میں الجھادیا جائے گا یا جیلوں میں ٹھونس دیا جائے گا؟ عمر خالد اور شرجیل امام جیسے نام اس اندیشے کو تقویت بخشتے رہے ہیں۔ ان کی طویل قید نے سیاسی مقدمات اور زیرِ سماعت ملزمین کے حقوق پر ملک گیر بحث کو جنم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں کی احتجاج سے دور رہنے کی حکمت عملی اچھی ہے لیکن حق کیلئے کیا کیا جائے؟

اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہماری نئی نسل بالخصوص طالبات کا سیاسی اور سماجی شعور، تعلیمی مسائل سے ان کی وابستگی اور جمہوری حقوق کے تئیں ان کی آگہی کھل کر سامنے آئی۔ مگر افسوس کہ احتجاج کرنے والی خواتین اور طالبات کو بھی پولیس کے رویے سے متعلق سنگین شکایات کا سامنا کرنا پڑا۔ اکتوبر کے ابتدائی دنوں میں دہلی میں احتجاج کے دوران خواتین صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر جنسی بدسلوکی کے الزامات عائد کئے۔ ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔ تسلیم کہ کسی بھی شخص کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن اس طرح کے سنگین الزامات کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں، خصوصاً جب معاملہ صحافیوں اور احتجاج کرنے والے شہریوں کے تحفظ کا ہو اور ویڈیوز کی صورت میں جس کے واضح ثبوت موجود ہوں۔ 
اس صورت حال کو سمجھنے کیلئے ہمیں شاہین باغ کے تاریخی احتجاج کو یاد کرنا چاہئے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اس احتجاج میں خواتین نے قیادت سنبھالی تھی۔ گھریلو ذمہ داریاں نبھانے والی خواتین نے طویل عرصے تک احتجاجی مقام پر بیٹھ کر دنیا کو واضح پیغام دیا تھا کہ شہری حقوق اور آئینی سوالات صرف سیاسی جماعتوں یا مردوں کا موضوع نہیں ہیں۔ خواتین بھی ان معاملات پر اپنی رائے رکھتی ہیں اور اس کے اظہار کا پورا حق بھی رکھتی ہیں۔ شاہین باغ نے اس تصور کو چیلنج کیا تھا کہ مسلم خواتین صرف گھروں تک محدود رہنا چاہتی ہیں یا انہیں سیاسی و سماجی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ دہلی کے حالیہ مظاہروں میں لڑکیوں کی سرگرم شرکت اسی وسیع تر تبدیلی کی ایک نئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب نئی نسل کے مسائل میں امتحانات کی شفافیت، روزگار، ووٹ کا حق، جمہوری اداروں کی جواب دہی اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے اہم اور سنجیدہ موضوعات بھی پوری قوت کے ساتھ شامل ہیں۔ 
اگر کسی کو یہ غلط فہمی تھی کہ پولیس کی سختی، گرفتاریوں کا خوف یا ذاتی کردار پر حملوں کا اندیشہ لڑکیوں کو خاموش کردے گا تو حالیہ واقعات نے اس تصور کو بھی مٹا دیا ہے۔ خواتین نے اپنی شکایات اور تجربات کو سامنے لاکر یہ واضح کردیاکہ وہ صرف احتجاج میں شرکت کرنے والی نہیں بلکہ اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر جواب طلب کرنے والی شہری بھی ہیں۔ 
اس طرح اپنے عزائم سے ہماری بچیوں نے تحریکِ آزادی کی یادیں تازہ کردیں۔ کون نہیں جانتا کہ ارونا آصف علی نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، سروجنی نائیڈونے قومی تحریک کی قیادت کی تھی، کستوربا گاندھی نے آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا تھا، میڈم بھیکا جی کاما نے بیرونِ ملک ہندوستان کی آزادی کی آواز بلند کی تھی، کیپٹن لکشمی سہگل نے آزاد ہند فوج کی رانی جھانسی رجمنٹ کی قیادت کی تھی، بی اماں نے تحریکِ خلافت اور قومی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا تھا اور اوشا مہتا نے خفیہ کانگریس ریڈیو کے ذریعے آزادی کی تحریک کو آواز دی تھی۔ ان خواتین نے اپنے اپنے عہد کے تقاضوں کے مطابق کردار ادا کیا اور تاریخ میں اپنی مضبوط جگہ بنائی۔ یقینی طور پر ہماری بچیوں کو ان سے تحریک ملی ہے۔ 
اسی کے ساتھ ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے۔ دہلی کے حالیہ مظاہروں میں لڑکیوں کی نمایاں شرکت کو کسی ایک جماعت، تنظیم یا تحریک سے جوڑ کر ان تنظیموں کی کامیابی تک محدود کرکے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ اس میں ایک وسیع ترسماجی تبدیلی کا اشارہ موجود ہے جس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ یہ بچیاں ان تمام لوگوں کو حوصلہ فراہم کرتی ہیں جو غلط کو غلط تو سمجھتے ہیں مگر اس کے خلاف میدان میں اُترنے کی جرأت نہیں کرپاتے۔ یہ اُن بچیوں کی آواز ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد محض ملازمت یا گھریلو زندگی تک محدود نہیں رہنا چاہتیں، بلکہ سماج کی تعمیر، جمہوری اداروں کی جواب دہی اور مستقبل کی تشکیل میں بھی اپنا حصہ چاہتی ہیں۔ اسلئے ان مظاہروں کو محض وقتی ضرورت نہیں بلکہ ایک تحریک اور ایک انقلاب کا پیش خیمہ سمجھنا چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK