• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلمانوں کی احتجاج سے دور رہنے کی حکمت عملی اچھی ہے لیکن حق کیلئے کیا کیا جائے؟

Updated: October 25, 2026, 6:14 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

اگر یہ قوم معاشی اور تعلیمی طورپرتھوڑا بہت بھی مضبوط ہورہی ہے توپیسے اورتعلیم کے ذریعے ایک دوسرے کی مددکی جائے، ایک دوسرے کیلئے پُل بنا جائے، ایک دوسرےکا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا جائے۔

Given the country`s current political climate, Muslims—following a deliberate strategy—have largely refrained from coming to the forefront in protests and demonstrations over the past few years. Photo: INN
ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں گزشتہ کچھ برسوں سے ایک حکمت عملی کے تحت کسی احتجاج اور مظاہرے میں مسلمان کھل کرسامنے نہیں آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

قومی راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پرجون میں ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اورجین زی کے احتجاج میں محمدجنیدایک ایسے کردار کی شکل میں سامنے آئے تھے جس نے مظاہرین کی خدمت کواپنا شعاربنایا تھا۔ انہوں نے جنتر منتر پر موجودہزاروں مظاہرین کیلئے مفت میں کھانا بنایا ۔ انہوں نے یہ خدمات رضاکارانہ انجام دی اور بعد میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی میں وہ نہ صرف زد میں آئے بلکہ اس طرح خصوصی زد میں آئے کہ پولیس ان کی آنکھ پرپٹی باندھ کر دہلی سے مسوری لے گئی اور انہیں کسی انجان جگہ پر چھوڑ دیا۔ جہاں سے وہ کسی طرح گھر پہنچے۔ احتجاج کے سلسلے میں الزام تھا کہ پولیس نے ان کے گھر والوں سےبھی تفتیش کی اورجنیدکی فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق پوچھ تاچھ کی۔ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبہ کیلئے کیا گیا یہ وہ احتجاج تھا جس سےمسلم نوجوان بھی براہ راست جڑے تھے اور بڑی تعدادمیں جنتر منتر پر پہنچےتھے۔ محمد جنیدان میں نمایاں تھے جو اپنی انسانیت نوازی کےسبب اس وقت سوشل میڈیا پر چھاگئے تھے۔ آئیسا کی صدر نیہا بورا ورسی جے پی لیڈران جنید بھائی کا ذکر کرچکے ہیں اورطلبہ کے احتجاج کے تناظر میں یہ ایسا نام بن چکا ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 
دہلی میں گزشتہ دنو ں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کےخلاف جواحتجاج ہوا ( حالانکہ احتجاج ہونے نہیں دیاگیا لیکن ان کے اور ان کی قیادت میں انجام دی گئیں مبینہ انتخابی بدعنوانیوں کے خلاف آواز اور تحریک مستقل طورپر ریکارڈ پر آگئی)، اس میں براہ راست کوئی ’ محمد جنید ‘نظر نہیں آیا۔ یہاں یہ واضح رہےکہ اگر اس پہلےاحتجاج میں مسلم نوجوان نہ بھی شامل ہوتے تب بھی محمد جنید کی شرکت نے مسلم نمائندگی کا حق ادا کر دیا تھا۔ یعنی تنہا محمد جنید یہ بتانے کیلئے کافی تھے کہ مسلمان پرچہ لیک سے متاثر ہونے والے طلبہ اور نوجوانوں کےساتھ کھڑے ہیں، لیکن ان کے ساتھ پولیس نے جس رویہ کا مظاہرہ کیا وہ عام مظاہرین سے مختلف تھا۔ عام مظاہرین کے خلاف پولیس نے جو کارروائی کی وہ صرف مظاہرے میں شمولیت کی بنیاد پرکی جبکہ محمد جنید کےساتھ جو سلوک کیا گیا اورجو انداز اختیار کیاگیا، اسکے پیچھے بڑا سبب ان کی مسلم شناخت تھا۔ غالباً یہی وجہ ہےکہ ایس آئی آر اور گیانیش کمارکےخلاف احتجاج میں مسلم قیادت نےیہ حکمت عملی اختیار کی کہ مظاہرہ کا براہ راست حصہ نہیں بننا ہےبلکہ ایسا راستہ ا ختیار کرنا ہے کہ احتجا ج کی حمایت بھی جاری رہے اورپولیس و عدالتی کارروائی کی زد میں آنے سے بھی بچا جائے۔ عمر خالد کا معاملہ ہمارے سامنے ہےجو گزشتہ ۶ ؍ سال سے جیل میں ہیں۔ سی اے اے اوراین آر سی کے خلاف وہ ایک جمہوری احتجاج کا حصہ بنے تھے لیکن اس کے بعد پھوٹ پڑنے والے دہلی فسادات کی سازش میں ملوث ہونے کا انہیں ملزم بنادیاگیا۔ آج تک ان کے مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہوسکی ہےاوریہ کہنے کی ضرورت نہیں ہےکہ اس کے پیچھےان کا مسلمان ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ یہ قوم اب کسی عمر خالد جیسے نوجوان کوصرف انصاف کی آواز بلند کرنے پرسلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھنا چاہتی اسلئےاگر اس کی قیادت یہ فیصلہ کرتی ہےکہ اس طرح کے احتجاج کی براہ راست نہیں بلکہ پس پردہ حمایت کرنی ہےتواس میں کوئی قباحت اوراس پر کسی اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن یہ دیکھنا اور سمجھنا ضروری ہےکہ پھراپنے حق کیلئے آواز کیسے اٹھائی جائے، کیا راستے اختیار کئے جائیں، کیا متبادلات ہیں جن پر عمل کیاجاسکتا ہے یا ان سب سے ہٹ کرایسا کیا کیاجاسکتا ہے کہ مسلمان صرف مسلمان ہونے کےسبب نشانہ پر نہ آئیں ۔

یہ بھی پڑھئے: عمر کو غلط کاموں کی جوابدہی سے بچنے کا جواز نہیں ٹھہرایا جا سکتا

یہ دقیق موضوع ہے جس پرآزادی کے بعدسے اب تک گفتگو ہوتی آئی ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہےکہ ہر طرح کے حالات میں یہ موضوع اپنی جگہ مستقل رہتا ہےبلکہ ہر صورتحال میں موزوں بیٹھتا ہے۔ ابھی سرسید کایوم ولادت گزرا۔ اپنے زمانے میں انہوں نے جن مسائل کی نشاندہی کی تھی، بحیثیت قوم، مسلمان جائزہ لیں کہ کیا آج تک وہ ان مسائل سے نکل سکے ہیں ؟مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی آج بھی برقرار ہے، سیاسی بے وقعتی کچھ کم نہیں ہو سکی ہے اورمذہبی و اخلاقی برائیاں اپنی جگہ باقی ہیں ۔ علامہ اقبال کے اس شعر کی روشنی میں کہ ’غدارِ وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن/انگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگر، /دیکھنے کی کوشش کی جائے کہ مسئلےکی جڑ کہاں ہے اورکب تک باقی رہے گی ؟ یہاں کوئی نئی بات نہیں کی جاسکتی کیونکہ جب تک پرانے مسائل ختم نہیں ہوتے، نئے تقاضوں کےساتھ آگے بڑھنا ممکن نہیں ۔ ایسا نہیں ہےکہ عظیم مسلم شخصیات نے ان مسائل کے حل کیلئے جوراستے دکھائے تھے انہیں اپنایانہیں جارہا ہے ، مسائل کے حل کی کوششیں ہورہی ہیں، تعلیم کے تئیں بیداری آئی اورقابل ذکر بیداری ہے، بحیثیت قوم مسلمانوں کا سیاسی شعوربھی پختہ ہوا ہےلیکن صورتحال پوری طرح نہیں بدلی ہے۔ اصل میں ہوا یہ ہےکہ ان برسوں میں مسلمانوں نے جب بھی بحیثیت قوم خود کو بدلا ہے یا بدلنے کی کوشش کی ہے، حالات بگڑنے میں اس سے دو قدم آگے نکل گئے۔ اس لئے لے دے کہ بات مسلمانوں کے پرانے مسائل پر آجاتی ہے۔ جب مسلمان خود کو محب وطن ثابت کرچکا، تب اسے غدار وطن قراردینے کے نئے حالات پیدا ہوگئے، مسلم بچوں کی جانب سے جب تعلیم کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے کا سلسلہ شروع ہوا، تب کوئی نیا تعلیمی مسئلہ آکھڑاہوا، جب مسلمان سیاسی پختگی کا ثبوت دینے لگے تب دائیں بازوکی سیاست غلبہ پانے لگی اور جب مسلمان کچھ مثبت تبدیلی کے جذبے اور مقصد کے ساتھ اٹھے تب انہیں سازشوں میں ملوث قراردے دیا گیا۔ 
ایسے میں یہ اہم سوال ہےکہ کوئی محمد جنیداگراب احتجاج میں شرکت نہ کرےتوکیاکرے۔ کیا وہ یہ غورنہ کرے کہ احتجاج میں شامل ہونے پر اسے کیا ملا یا یہ کہ احتجا ج میں نہیں شامل ہونے پرا س کا کیا چلا جائے گا ؟ یہاں ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے جس کے بعدسب کچھ پس منظر میں چلا جائے گا۔ مسلمانوں کے سامنے اگرسوال یہی ہے کہ اب کیاکیاجائے تو اس کے سامنے یہ بھی ہونا چاہئے اس کا جواب تلاش کہاں کیاجائے!اگر جواب یہ ہےکہ نئے تعلیمی ادارے بنائے جائیں توکہا جاسکتا ہےکہ مسلمانوں کے لاکھوں تعلیمی ادارے ہیں اورمسئلہ بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ ایسے بہت سے تعلیمی ادارے دائیں بازوکی سیاست زد میں ہیں۔ جب یہ کہا جائے گا کہ مسلمان معاشی طورپر مضبوط ہوں تویہ حقیقت ہےکہ مسلمانوں کی معاشی حالت میں اتنے برسوں میں بہتری آئی ہےلیکن ملک میں غربت کے مجموعی مسئلہ میں یہ بہتری قابل ذکر معلوم نہیں ہوتی ۔ اتنا ہے کہ کسی تحریک کا حصہ بننے پراگر جیل بھی جانا پڑے تو عمر خالد کی طرح کسی مسلم نوجوان کو کوئی اعزاز  مل جائے گا لیکن بہت بڑی قربانی تو بہر حال دینی پڑے گی۔ پھر مسلمانوں کیلئےراہ عمل ہے کیا ؟ یہی کہ اگر یہ قوم معاشی اور تعلیمی طورپرتھوڑی بہت مضبوط ہورہی ہے توپیسہ اورتعلیم کے ذریعے ایک دوسرے کی مددکی جائے، ایک دوسرے کیلئے پُل بنا جائے، ایک دوسرےکا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا جائے اور اس کام میں جب غیر آئیں تو انہیں بھی ساتھ لیا جائے۔ اس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ دوسرے یہ کہ قوم کی مجموعی ذہنیت ان خطوط پر پروان چڑھائی جائےکہ اسے ملک کو کچھ دینے والا بننا ہے۔ یہ کام مشکل اور قربانی کا تقاضا کرتا ہےلیکن بڑی پوزیشن اس کے بغیر نہیں ملتی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK