• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنویں کے گرد چھوٹی سی جگہ میں دن میں دو بار محلے کی عورتوں کی محفل سجتی تھی

Updated: October 11, 2026, 8:01 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

گاؤں میں اُس زمانے میں گھر کے سامنے کنواں ہونا صرف سہولت نہیں، ایک طرح کی امیری کی نشانی بھی سمجھا جاتا تھا۔ جس گھر کے سامنے کنواں ہو، اس گھر کی عورتوں کو دور سے پانی بھر کر لانے کی مشقت نہیں کرنی پڑتی تھی۔

Issues at home that would remain unresolved for days on end were often settled within minutes at the village well. Photo: INN
گھر میں  کئی کئی روز تک جو مسئلہ حل نہیں  ہو پاتا تھا وہ پنگھٹ پر چند منٹوں میں حل ہو جاتا تھا۔ تصویر: آئی این این

گاؤں میں ابھی سورج پوری طرح ڈوبا بھی نہ ہوتا تھا کہ چرا گاہوں کی طرف گئےچرواہے اپنے مویشیوں کو سمیٹنے لگتے، چولہوں سے دھواں اٹھنے لگتا۔ کسان کھیتوں  کی طرف سے دن بھر کی تھکن لئے گھروں کی طرف لوٹنے لگتے۔ لیکن گاؤں کی ایک جگہ ایسی بھی تھی جہاں شام ڈھلنے کا مطلب خاموشی نہیں بلکہ ایک نئی رونق کا آغاز ہوتا تھا۔ کنویں کے گرد بنی ہوئی وہ چھوٹی سی جگہ، جہاں دن میں دو بار محلے کی عورتوں کی محفل سجتی تھی۔ کسی کے ہاتھ میں پیتل کی بالٹی ہوتی، کسی کے سر پر مٹکا، کوئی رسی کھینچ رہی ہوتی اور کوئی کنویں کی ’جگت‘ کو بیٹھنے کیلئے صاف کررہی ہوتی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کنویں پرمحفل جم جاتی... باتوں اور قصے کہانیوں کا دور شروع ہو جاتا۔ کوئی پوچھتا اری وہ مہتو کی بہو ...تیرا بیٹا پردیس جانا تھا کیا ہوا...کیا بتاؤں بہن... باپ کہتا ہے کھیتی سنبھالو اور بیٹا کہتا ہے شہر میں جاکر نوکری کروں  گا۔ آج کل کے لڑکوں کو گاؤں کی مٹی کہاں بھاتی ہے۔ پاس میں  بیٹھی دوسری سہیلی بول اُٹھتی ہے...کیا کرے کھیتی کرے سو مرے ... ابھی دیکھو دھان کی فصل کتنی اچھی جارہی تھی ...اِدھر کئی دنوں کی مسلسل بارش اور ندیوں میں چھوڑے گئے پانی سے پوری فصل تباہ ہو گئی۔ دن رات کی محنت پر دیکھتے ہی دیکھتے پانی پھر گیا۔ کنویں کی جگت پر بیٹھی بزرگ خاتون بولیں ... روزی جہاں لکھی ہو، وہیں ملتی ہے۔ لیکن گھر کی مٹی کو کبھی برا نہیں کہنا چاہئے۔ یہی مٹی آخرکار سب کو اپنی طرف بلاتی ہے۔ بزرگ خاتون کی باتوں  کے آگے بھلاپھر کہنے کو کہاں کچھ باقی رہ جاتا۔ پھر کسی کو اپنا مسئلہ یاد آ جاتا اور بات کا رخ بدل جاتا۔ کوئی اپنے گھر کا مسئلہ چھیڑ دیتا۔ بوڑھی اماں اسے سلجھانے میں  لگ جاتیں۔ یوں گھر میں  کئی کئی روز تک جو مسئلہ حل نہیں  ہو پاتا تھا وہ پنگھٹ پر چند منٹوں میں حل ہو جاتا تھا۔ پنگھٹ واقعی گاؤں کی ایک ایسی خاموش عدالت تھا جہاں نہ کوئی کاغذ بنتا، نہ گواہ بلائے جاتے، نہ فیصلہ لکھا جاتا۔ بس چند تجربہ کار عورتیں بیٹھتیں، مسئلہ سنتیں، دو چار باتیں کرتیں اور فیصلہ صادر ہو جاتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: سورۂ اخلاص: مختصر سورہ، عظیم پیغام

گاؤں میں اُس زمانے میں گھر کے سامنے کنواں ہونا صرف سہولت نہیں، ایک طرح کی امیری کی نشانی بھی سمجھا جاتا تھا۔ جس گھر کے سامنے کنواں ہو، اس گھر کی عورتوں کو دور سے پانی بھر کر لانے کی مشقت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ ورنہ صبح اور شام گھر سے دور جاکر پانی بھرنے کا کام بڑا مشقت بھرا ہوتا تھا۔ ہاں یہ ضرور ہے یہ سکھی سہیلیوں کا آپس میں  ملنے کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ صبح اور شام میں پنگھٹ کا منظر کچھ یوں  ہوتا کہ کنویں کی منڈیر ’جگت‘ پر مٹکے قطار سے رکھے ہوتے۔ رسیاں ایک طرف پڑی رہتیں اور بالٹیاں دوسری طرف۔ کوئی پانی کھینچ رہی ہوتی، کوئی مٹکا بھر رہی ہوتی، کوئی عورت اپنے بچے کو ڈانٹ رہی ہوتی۔ ارے دور ہٹ، کنویں کے پاس مت جا، گر جائے گا تو کون نکالے گا...بچہ ذرا دور ہو جاتا، مگر چند ہی لمحوں بعد پھر وہیں آ جاتا۔ پنگھٹ پر بچوں کی شرارتیں بھی کم نہ ہوتیں۔ کوئی رسی پکڑ کر دوسروں کو تنگ کرتا، کوئی بالٹی میں جھانک کر اپنی شکل دیکھنے کی کوشش کرتا اور کوئی کنویں میں کنکری پھینک کر اس کی آواز سننے لگتا۔ کنویں میں  کنکر پتھر پھینکنے والے بچے پر وہاں موجود سب خواتین برس پڑتی تھیں۔ 
اُس وقت کنواں کھودنابہت بڑا کام تھا۔ زمین کھودنے والے مزدور کئی کئی دن بلکہ بعض اوقات ہفتوں تک زمین کی تہیں کاٹتے جاتے۔ امید ہوتی کہ نیچے پہنچتے ہی میٹھا پانی مل جائے گا، مگر ہر بار قسمت مہربان نہیں ہوتی تھی۔ کبھی اتنی محنت کے بعد پانی نکلتا بھی تو نمکین۔ ایسی صورت میں گاؤں کے بزرگ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے اور کوئی آہ بھر کر کہتا...ساری محنت پر پانی پھر گیا، لیکن جس جگہ میٹھا پانی نکل آتا، وہاں کے لوگوں کا خوشی کا ٹھکانہ نہ رہتا۔ کنویں سے ٹھنڈا اور میٹھا پانی نکلنے کی خبر پورے گاؤں میں ایسے پھیلتی جیسے کسی کے گھر میں بیٹا پیدا ہوا ہو۔ پھر وہ کنواں صرف ایک گھر کا نہیں رہتا تھا۔ آس پاس کے لوگ بھی ضرورت کے وقت وہاں سے پانی لیتے۔ راستوں کے کنارے اور باغوں کے پاس بنے کنویں تو مسافروں کیلئے نعمت ہوتے تھے۔ کنویں کے پاس ایک بالٹی اور مضبوط رسی ہر وقت پڑی رہتی۔ دھوپ میں چلتا کوئی مسافر آتا، پہلے درخت کے سائے میں دم لیتا، پھر رسی سے بالٹی نیچے ڈالتا اور بالٹی اوپر کھینچتا، دونوں ہاتھوں سے پانی پیتا اور چہرے پر چھینٹے مارتا۔ پھر کنواں بنانے والے کو دعائیں دیتے ہوئے اپنی راہ چل دیتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر، احتجاج اور پریشانیاں

گرمی کے دنوں میں پانی بھرنا بھی ایک امتحان ہوا کرتا تھا۔ سورج جیسے زمین کے بالکل قریب آ جاتا۔ پنگھٹ تک پہنچتے پہنچتے ہی پسینہ بہنے لگتا۔ کنویں سے پانی نکالنا، اسے مٹکے میں بھرنا اور پھر سر یا کمر پر رکھ کر گھر تک لے جانا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ گھر میں گائے، بھینس، بکریاں اور دوسرے مویشی بھی ہوتے۔ ان کیلئے پانی کا انتظام الگ کرنا پڑتا تھا۔ 
جن گاؤں کے پاس ندی بہتی تھی، وہاں زندگی کچھ آسان تھی۔ مویشیوں کو گھاٹ تک لے جایا جاتا۔ گائے اور بھینسیں پانی پیتیں اور بچے کنارے پر کھڑے ہو کر شور مچاتے۔ اپنی بھینس کو ندی میں تیرتی دیکھ کر بچےخوش ہوتے۔ جب گھر میں کپڑے زیادہ جمع ہو جاتے تو عورتیں انہیں بھی ندی کے گھاٹ پر لے آتیں اور یہیں اُن کی دھلائی ہوتی تھی۔ کپڑوں کو پتھر پر پٹخنےکی آواز، عورتوں  کی گفتگو اور ندی کا بہتا پانی سب مل کر ایک ایسا دلکش سماں باندھ دیتے تھے کہ گویا فطرت نے اپنی خاموش وادی میں زندگی کا ایک نغمہ چھیڑ دیا ہو۔ اس کام میں  نہ تھکن کا احساس ہوتا اور نہ ہی وقت گزرنے کا پتہ چلتا تھا۔ اب ندی کے وہ گھاٹ ویران پڑے ہیں اور پنگھٹ کی جگت بھی سونی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK