• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: Ghost Font:  اے آئی کے دَور میں مشمولات کے تحفظ کی نئی کاروباری دُنیا کی تشکیل

Updated: October 25, 2026, 6:16 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

اسے انٹرنیٹ پر موجود مضامین (ہر چھوٹی بڑی تحریر) کو اے آئی سے ’بچانے‘ کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گھوسٹ فونٹ ٹائپوگرافی تحریر کے نقطوں کو حرکت دیتی ہے تاکہ انسان اسے آسانی سے پڑھ لے لیکن اے آئی کیلئے اسے سمجھنا مشکل ہوجائے۔

A sample of the Ghost font. Inset: Erik Loe. Image: INN
گھوسٹ فونٹ کا ایک نمونہ۔ انسیٹ: ایرک لو۔ تصویر: آئی این این

فونٹس (Fonts) کا استعمال تحریر کو خوبصورت بنانے کیلئے کیا جاتا ہے مگر اے آئی کی بڑھتی طاقت سے نمٹنے کیلئے امریکی سافٹ ویئر ڈیولپر، ڈیزائنر اور ’مکس فونٹ‘ کے شریک بانی ایرک لو نے ایک ایسا فونٹ بنایا ہے جسے صرف انسان پڑھ سکتا ہے، اے آئی نہیں۔ اسے ’اینٹی اے آئی فونٹ‘ کہا جارہا ہے جبکہ ایرک اسے ’’گھوسٹ فونٹ‘‘ (Ghost Font) کہتے ہیں جو فی الحال تجرباتی مرحلے میں ہے۔ اسے انٹرنیٹ پر موجود مضامین (ہر چھوٹی بڑی تحریر) کو اے آئی سے ’بچانے‘ کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گھوسٹ فونٹ ٹائپوگرافی تحریر کے نقطوں کو حرکت دیتی ہے تاکہ انسان اسے آسانی سے پڑھ لے لیکن اے آئی کیلئے اسے سمجھنا مشکل ہوجائے۔ بظاہر یہ ڈیزائن کا معاملہ ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بڑا کاروباری سوال مخفی ہے: اگر انٹرنیٹ پر موجود مواد اے آئی کمپنیوں کیلئے قیمتی خام مال ہے تو اس کے اصل تخلیق کار کی کمائی اور ملکیت کا تحفظ کون کریگا؟ یہ سوال اہم ہے کہ ڈجیٹل معیشت میں مواد صرف پڑھنے یا دیکھنے کی چیز نہیں رہا۔ خبریں، مضامین، تصاویر، ڈیزائن، تحقیقی مقالے اور کتابیں اے آئی نظاموں کو تربیت دینے یا ان کے جوابات بہتر بنانے میں استعمال ہوسکتی ہیں۔ ایک ناشر کسی مضمون پر صحافی، ایڈیٹر اور ادارتی نظام کے ذریعے سرمایہ لگاتا ہے۔ اگر اسی مواد سے کوئی دوسری کمپنی اپنی تجارتی سروس بہتر بنائے تو اصل تخلیق کار کے سامنے معاوضہ، اجازت اور حقوق کا سوال کھڑا ہوتا ہے۔ یہیں گھوسٹ فونٹ کی کہانی دلچسپ ہوجاتی ہے۔ 
یہ تجرباتی فونٹ حروف کے نقطوں کو مسلسل حرکت دیتا ہے۔ انسان جب پورا متن دیکھتا ہے تو اسے الفاظ سمجھ میں آتے ہیں جبکہ اے آئی نظام ہر ویڈیو فریم کا الگ تجزیہ کرتا ہے، اس لئے نقطوں کی حرکت اس کیلئے الفاظ کی شناخت کو مشکل بنادیتی ہے۔ اس کی اہمیت اس لئے ہے کہ مواد کے تحفظ کیلئے اب ٹائپوگرافی بھی ایک ممکنہ تکنیکی ہتھیار بن رہی ہے۔ 
کاروباری لحاظ سے یہ ایک نئی منڈی کا اشارہ ہے۔ ویب سائٹ مالکان، ناشرین، ڈیزائنرز، اور فوٹوگرافرز ایسے حل چاہتے ہیں جو غیر مجاز نقل یا خودکار مواد جمع کرنے کو محدود کرسکیں۔ اس ضرورت سے اینٹی اسکریپنگ سافٹ ویئر، ڈجیٹل واٹر مارکنگ، مواد کی شناخت، حقوق کے انتظام اور لائسنسنگ کی خدمات کیلئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ جو کمپنیاں مواد کے مالک کو یہ سمجھنے میں مدد دیں گی کہ اس کا کام کہاں استعمال ہوا، کس نے استعمال کیا اور اس سے معاوضہ کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے، تو وہ اے آئی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: میچ ختم، اِسکرینیں بند، بزنس جاری: یہ ہے کھیلوں کے میڈیا کی نئی معیشت

گھوسٹ فونٹ کے علاوہ بعض منصوبے ایسے فونٹس کیلئے ہیں جو اسکرین پر معمول کے الفاظ دکھاتے ہیں مگر بنیادی متن میں ایسی تبدیلیاں کرتے ہیں جن سے سادہ اسکریپر کیلئے اسے جمع کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ اسکریپر ایک ایسا خودکار کمپیوٹر ٹول ہے جو انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس سے معلومات اور ڈیٹا خود بخود منتخب کرکے ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ انٹرنیٹ سے ڈیٹا کاپی کرنے والی مشین ہے۔ تاہم ہر طریقے کی اپنی حدود ہیں۔ جدید نظام تصویر سے متن پہچان سکتے ہیں، مختلف فریموں کو جوڑ سکتے ہیں یا دوسری تکنیک استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن جب تحفظ کی ایک نئی تہہ سامنے آتی ہے تو اسے توڑنے کے طریقے بھی تلاش کئے جاتے ہیں۔ یوں یہ معاملہ ایک مسلسل تکنیکی دوڑ بن سکتا ہے۔ اس دوڑ میں اصل تجارتی سوال قیمت کا ہے۔ کیا ہر ویب سائٹ اپنے مواد کی حفاظت کیلئے الگ ٹیکنالوجی خریدیگی؟ کیا ناشرین اجتماعی لائسنسنگ پلیٹ فارم بنائینگے؟ کیا اے آئی کمپنیاں براہِ راست مواد کے مالکان سے معاہدے کریں گی؟ بڑے اداروں کے پاس قانونی ٹیمیں اور تکنیکی وسائل ہوسکتے ہیں لیکن چھوٹے ناشرین اور آزاد تخلیق کاروں کیلئے ہر مضمون یا تصویر کی نگرانی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ یہاں کم قیمت، مشترکہ حقوق کے نظام اور خودکار شناخت کی خدمات ایک قابلِ عمل کاروباری موقع بن سکتی ہیں۔ اس کے باوجود تحفظ کی قیمت بھی ہے۔ اگر فونٹ حرکت کرے، متن کی شناخت مشکل بنائے یا ویب سائٹ پر اضافی تکنیکی رکاوٹیں پیدا کرے تو عام قارئین کا تجربہ متاثر ہوسکتا ہے۔ ناشر کیلئے یہ توازن اہم ہوگا: مواد کی حفاظت اتنی سخت ہو کہ غیر مجاز استعمال محدود ہو، مگر اتنی پیچیدہ نہ ہو کہ حقیقی قارئین ہی دور ہوجائیں۔ تحفظ اگر رسائی ختم کردے تو وہ کاروبار کی حفاظت کرتے ہوئے، کاروبار کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ اس لئے گھوسٹ فونٹ کو اے آئی اسکریپنگ کا حتمی حل سمجھنے کے بجائے ایک بڑے رجحان کی علامت سمجھنا چاہئے۔ 
ڈجیٹل دنیا میں اب صرف مواد تخلیق کرنا کافی نہیں ؛ اس کی شناخت، ملکیت، اجازت اور تجارتی استعمال کے اصول بھی اہم ہیں۔ مستقبل میں کامیاب ناشر وہ ہوسکتا ہے جو صرف زیادہ مواد شائع نہ کرے، بلکہ اپنے مواد کی قدر بھی ثابت کرسکے۔ اسی طرح کامیاب ٹیکنالوجی کمپنی وہ ہوگی جو تخلیق کاروں کے حقوق اور صارفین کی رسائی کے درمیان قابلِ عمل راستہ نکالے۔ اے آئی کے دور میں اصل کاروبار ایک ایسا فونٹ نہیں جو مشین کو دھوکا دے دے۔ اصل کاروبار وہ نظام ہوگا جو یہ طے کرے کہ کس کا مواد استعمال ہورہا ہے، کس کی اجازت سے ہورہا ہے اور اس کی قیمت کس کو ملنی چاہئے۔ جب تحریر بھی مشین کیلئے خام مال بن جائے تو اس کے تحفظ کی ٹیکنالوجی محض ڈیزائن نہیں رہتی؛ وہ دانشورانہ ملکیت کی نئی معیشت کا حصہ بن جاتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK