Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیس سلنڈر کا بحران ، اپوزیشن حکومت پر حملہ آور

Updated: March 10, 2026, 11:37 PM IST | New Delhi

دہلی، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اتر پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ سمیت کئی ریاستوں نے تجارتی سلنڈر کی سپلائی محدود کردی ،اپوزیشن کا حکومت پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام

Citizens stand in queue to book cylinders in Lucknow. (PTI)
لکھنؤ میں شہری سلنڈر بک کرنے کیلئے قطارمیں کھڑے ہیں۔(پی ٹی آئی)

ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے راستے گیس کی سپلائی میں خلل پڑنے پرہندوستان میں گیس سلنڈرکا بحران پیدا ہوگیا ہے۔  ملک میں گھریلو گیس کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔دہلی، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اتر پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ سمیت کئی ریاستوں نے تجارتی گیس کی سپلائی  محدود کر دی ہے۔ اس صورتحال کے باعث کئی شہروں میں ریستوراں اور ہوٹل مالکان کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں ۔ دریں اثنا، مرکزی حکومت نے گیس سمیت ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کو روکنے کیلئے ضروری اشیاء ایکٹ۱۹۵۵ء کو پورے ملک میں نافذ کیا ہے۔ چھوٹے ہوٹلوں اور ریستورانوں کے کاروباری مالکان نے حکومت سے سپلائی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
  ملک کے کئی بڑے شہروں میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت کی خبروں کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے لیڈروں نے حکومت کی توانائی پالیسیوں اور اس کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کرنے کے بجائے گمراہ کر رہی ہے ۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے ممبئی اور بنگلور کے بعض ریستورانوں میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے   اس کیلئے مرکزی حکومت اور پیٹرولیم کی وزارت کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے گھریلو اور کمرشیل ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور اب کئی علاقوں میں گیس سلنڈر کی فراہمی میں تاخیر کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
 پرمود تیواری کے مطابق بعض مقامات پر گھریلو گیس سلنڈر کی بکنگ۲۵؍ دن سے پہلے ممکن نہیں ہو رہی جو حکو مت کی پالیسی ناکامی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان توانائی کے وسائل کیلئے بیرونی ممالک پر انحصار کر رہا ہے تو حکومت کو اس حوالے سے واضح حکمت عملی پیش کرنی چاہئے اور ملک میں گیس کی مسلسل اور منظم فراہمی کو یقینی بنانا چاہئے۔
 سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے متعدد شہروں میںہوٹلوں میں ایل پی جی سلنڈر کی کمی کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں توانائی کے وسائل کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے لیکن حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ملک میں ایل پی جی اور پیٹرول و ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں استعمال ہونے والے پیٹرول، ڈیزل اور کچے تیل کا تقریباً ۸۰؍ فیصد حصہ بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہونے کا اثر ملک پر بھی پڑنا فطری ہے۔ رام گوپال یادو نے الزام لگایا کہ خام تیل کی فراہمی میں کمی کے باوجود مرکزی حکومت مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
 اسی معاملے پر سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نیرج کشواہا موریہ نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی پالیسیوں کے سبب عام لوگوں پر پہلے ہی مہنگائی کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب گیس کی قلت کی خبریں سامنے آنا انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور جنگ جیسے حالات توانائی کی عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب دستیابی یقینی بنائے۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK