Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیل کی قیمتیں قابو میں نہ آئیں تو مہنگائی بڑھے گی

Updated: May 03, 2026, 1:46 PM IST | New Delhi

شرح نمو میں ۶؍ فیصد کی کمی اور مالی خسارہ میں ۵۰؍ بیسیس پوائنٹس کے اضافے کا اندیشہ،روپے کی قدر بھی گھٹ کر ۹۸؍ تک پہنچ سکتی ہے۔

If the price of crude oil remains above 110 Dollar per barrel, inflation could rise by 5 percent. Photo: INN
اگر خام تیل کی قیمت ۱۱۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی تو مہنگائی ۵؍ فیصد بڑھ سکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

آبنائے ہرمز کی ناکہ  بندی کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ پوری دنیا کی معیشت کیلئے خطرہ بن گیا ہے۔  ہندوستان میں ماہرین نےمتنبہ کیا ہے کہ خام تیل کی قیمتیں اگر قابو میں نہ آئیں تو نہ صرف یہ کہ ملک کی ملک کی معاشی ترقی متاثر ہوگی بلکہ مہنگائی  بھی  ۵؍ فیصد تک  بڑھ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بدترین صورتحال میں   ڈالر کے مقابلے میں روپے  کی  قدر بھی ۹۸؍ تک گر سکتی ہے ۔ 

  خام تیل، کی قیمت اس ہفتے ۱۲۶ء۴؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ مارچ  ۲۰۲۲ء  کے بعد بلند ترین سطح  پرہے۔    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خام تیل کی قیمت طویل مدت تک۱۱۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی تو مالی سال۲۰۲۷؍ میں شرحِ نمو۶؍ فیصد سے نیچے جا سکتی ہے، مالی خسارہ۵۰؍ بیسیس پوائنٹس تک بڑھ سکتا ہے  جبکہ افراطِ زر۵؍فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اب ٹرمپ کا کیوبا پر ’فوری قبضے‘ کی تیاریوں کا اعلان

تیل قیمتوں کی بنیاد پر ۳؍ منظر نامے

’آئی سی آر اے ‘ریٹنگز کی سربراہ، چیف اکانومسٹ ادیتی نائر نے خام تیل کی قیمتوں کی بنیاد  معیشت کے تعلق سے ۳؍ منظرنامے  پیش کئے  ہیں۔  ان کے مطابق بدترین صورتِ حال میں شرحِ نمو تقریباً۵؍  فیصد یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے جبکہ افراطِ زر۵؍ فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔

ادیتی نائر نے ’دی نیو انڈین ایکسپریس‘ سے بات  چیت میں کہا ہے کہ’’ہم نے مالی سال ۲۷ء کیلئے  خام تیل کی اوسط قیمت۸۵،۱۰۵؍ اور  ۱۲۵؍ ڈالر فی بیرل کی بنیاد پر تین منظرنامے تیار کیے ہیں۔ اگر خام تیل کی اوسط قیمت۱۲۵؍ ڈالر فی بیرل رہی تو شرحِ نمو۵؍ فیصد یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے اور افراطِ زر۵؍فیصد سے اوپر چلی جائے گی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ افراطِ زر پر اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا کتنا بوجھ صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے  کیونکہ اس سے کھپت اور ترقی دونوں متاثر ہوں گے۔ انہوں نے طلب پر ممکنہ اثرات کا عددی اندازہ نہیں دیا، جو گزشتہ ستمبر میں  جی ایس ٹی شرحوں میں کمی کے بعد بہتر ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے یورپ سے گاڑیوں کی درآمد پر ۲۵؍ فیصد ٹیرف لگا دیا

معیشت کی موجودہ صورتحال

رواں مالی سال۲۶ء کا اختتام۷ء۵؍ فیصد شرحِ نمو اور۲ء۱؍ فیصد خردہ افراطِ زر کے ساتھ ہونے کا امکان ہے جبکہ تھوک افراطِ زر صرف ۰ء۷؍ فیصد رہی ہے۔ اسی دوران خام تیل کی اوسط قیمت۷۱ء۷؍ ڈالر فی بیرل تھی۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ۰ء۹؍ فیصد اور مالی خسارہ۴ء۵؍ فیصد رہنے کی توقع ہے۔

اس کے مقابلے میں اگر خام تیل کی اوسط قیمت۸۵؍ ڈالر فی بیرل رہی تو مالی سال۲۰۲۷ء میں شرحِ نمو تقریباً۶ء۵؍ فیصد رہ سکتی ہے۔ اگر اوسط قیمت۱۰۵؍ ڈالر رہی تو شرحِ نمو کم ہو کر ۵ء۸؍ فیصد تک آ سکتی ہے۔ ادیتی نائر کے مطابق ان دونوں صورتوں میں افراطِ زر بالترتیب۴ء۵؍ فیصد اور۴ء۸؍ فیصد رہ سکتی ہے، جبکہ تھوک افراطِ زر تینوں منظرناموں میں۳ء۵؍ فیصد،۴ء۲؍ فیصد اور۵؍ فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بالترتیب۱ء۷؍ فیصد،۲ء۴؍ فیصد اور۳ء۱؍ فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ مالی خسارہ جی ڈی پی کا۴ء۶؍ فیصد،۴ء۸؍ فیصد اور۵؍ فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انفورسمنٹ کا ریکارڈ مضبوط، مالی سال ۲۶ء میں۸۱۴۲۲؍ کروڑ روپے کی جائیداد ضبط

 روپیہ کی قدر میں مزید گراوٹ کا اندیشہ

ان کے مطابق بنیادی منظرنامے میں روپے کی اوسط قدر۹۲؍تا۹۳؍ روپے فی ڈالر رہ سکتی ہے، جبکہ بدترین صورت میں یہ تقریباً۹۸؍ روپے فی ڈالر تک گر سکتی ہے۔ایم کے گلوبل کی چیف اکنامسٹ مادھوی اروڑ کے مطابق ’’اگر خام تیل کی قیمت۱۰۰؍ ڈالر سے اوپر رہی اور اس کا پورا بوجھ خوردہ ایندھن کی قیمتوں پر منتقل کیا گیا تو افراطِ زر میں۷۰؍ بیسیس پوائنٹس تک اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ۲۶ءکے مقابلے میں مالی خسارے پر۵۰؍ بیسیس پوائنٹس کا اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK