فلم، ویب شو اور ٹی وی اداکارہ کرتیکا کامرا کا کہنا ہے کہ ہم جس انڈسٹری میں کام کرتے ہیں، وہاں کام کی ضمانت نہیں ہے۔ ہمارا کام ۹؍ تا ۵؍ بجے والی دفتری ملازمت نہیں ہے، اسلئے اسے غیر محفوظ کہا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 2:36 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
فلم، ویب شو اور ٹی وی اداکارہ کرتیکا کامرا کا کہنا ہے کہ ہم جس انڈسٹری میں کام کرتے ہیں، وہاں کام کی ضمانت نہیں ہے۔ ہمارا کام ۹؍ تا ۵؍ بجے والی دفتری ملازمت نہیں ہے، اسلئے اسے غیر محفوظ کہا جاتا ہے۔
ٹی وی انڈسٹری میں جگہ بنالینے کے بعد بڑے پردے پر اپنی اداکاری کا جلوہ بکھیرنے والے بہت سے اداکار ہیں۔ انہی میں سے ایک بریلی سے تعلق رکھنے والی کرتیکا کامرا بھی ہیں جنہوں نے حال ہی میں گورو کپور سے شادی کی ہے۔ ان کی فلم ’مٹکا کنگ ‘بھی حال ہی میں ریلیز ہوئی ہےجسے پسند کیا جارہا ہے۔ کرتیکا کامرا نے اپنے کریئر کی شروعات ٹی وی شو ’یہاں کے ہم سکندر ‘ سے کی تھی۔ یہ شو ۲۰۰۷ء میں ٹی وی پر نشر ہوا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف شوز میں مختلف کردار ادا کئے۔ ۲۰۱۵ء میں انہوں نے فلموں کا رخ کیا اور شارٹ فلموں سے اپنی نئی اننگزکا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ ویب شوز میں بھی نظرآتی رہیں۔ اس فلم سے قبل انہوں نے ویب سیریز ’گیارہ گیا رہ‘ میں کام کیااوراو ٹی ٹی پر چھا گئی تھیں۔ کرتیکا نے اپنی اداکاری سے شائقین کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ شوز، ویب شوز اور فلموں میں ان کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتاہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہیں۔ انقلاب سے ہوئی ان کی گفتگو کویہاں پیش کیا جارہا ہے:
شادی کے بعد اپنے کریئر میں کتنی تبدیلیاں محسوس کررہی ہیں ؟
زیادہ تبدیلی کا احساس نہیں ہورہاہے کیونکہ میرا صرف گھر تبدیل ہوا ہے باقی تو میرا کام وہی ہے۔ گورو بھی اپنا کام کرتے رہیں گے۔ شادی سے قبل میں نے اپنے نئے گھر کی سجاوٹ کی ذمہ داری اٹھائی تھی اور پورا ڈیکوریشن کیا تھا۔ میرے خیال میں شادی کے بعد زیادہ تبدیلی نہیں آتی ہے اور جوڑا اپنی زندگی اپنے مطابق گزارتاہے۔
یہ بھی پڑھئے: عامر خان کا اعتراف: دو فلمیں بغیر اسکرپٹ سنے سائن کیں
گورو اور آپ دونوں ایک دوسرے کے کام کی کس طرح قدر کرتے ہیں ؟
ج:گورو اور میں ایک دوسرے کے کام کی بہت قدر کرتے ہیں اس لئے ہم نے شادی سے پہلے اور اس کے بعد زیادہ وقفہ نہیں لیا تھا۔ ہم نے شادی کے ایک ہفتے پہلے کام سے بریک لیا اور ہماری شادی کے بعد آئی پی ایل شروع ہوگئے ، گورو وہاں مصروف ہوگئے اور میں اپنی شوٹنگ میں شرکت کرنے لگی۔ کئی بار ایسا ہوتاہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار پاتے۔ کبھی وہ گھر پر ہوتے ہیں تو میں نہیں ہوتی اور میں رہتی ہوں تو وہی نہیں ہوتے۔بہرحال ہم ایک دوسرے کی مصروفیت کو سمجھتے ہیں اسلئے ایک دوسرے سے شکایت نہیں کرتے۔ ہم دونوں نوجوانی میں ہی ممبئی آگئے تھے اور ہم نے جدوجہد کا وہ دور بھی دیکھااس لئے ہم دونوں کو ایک دوسرے کے کام کی قدر ہے۔
مٹکا کنگ میں اپنے نئے لُک کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گی ؟
ج: میں نے پچھلے جو پروجیکٹ کئے تھے اس میں بالکل فطری نظرآتی تھی اور اس میں میک اپ بھی کم کرنا ہوتا تھا لیکن مٹکا کنگ میںمیرا لُک بہت اچھا ہے اور اس میں بہت گلیمرس لگ رہی ہوں۔ میرا کردار بھی ایک پارسی کا ہے جو کہ ۷۰ء کی دہائی میں ممبئی میں بہت مشہور تھے۔ اس لُک کو اختیار کرنے میں کافی وقت لگتا تھا اور بہت زیادہ میک اپ کا استعمال کرنا ہوتا تھا۔ اس لُک کیلئے میں نے بہت محنت کی تھی اور وہ محنت رنگ لائی ہے کیونکہ میرا رول سبھی کو پسندآرہا ہے۔ مجھے اس دور کی پارسی خواتین کے بارے میں بھی جاننا پڑا تھا۔کافی تحقیق کے بعد میں نے یہ رول نبھایا ہے۔ اس رول کیلئے میں نے اپنی آواز میں بھی تھوڑی تبدیلی کی ہے تاکہ پارسیوں کی طرح معلوم ہو۔
وجے ورما کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا تھا؟
ج:وجے ورما بہت اچھے اداکار ہیں اور میری طرح انہوں نے بھی انڈسٹری میں جدوجہد کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے۔ مٹکا کنگ میں ہم دونوں کے زیادہ مناظر ہیں۔ اسکرین پر ہم دونوں ہی نظرآتےہیں۔ شوٹنگ کے وقت ہم دونوں نے ایک دوسرے کوسمجھنے کی پوری کوشش کی۔ وہ سیٹ پر پوری تیاری کے ساتھ آتے تھے اور اپنے شاٹس کو بہتر انداز میں دینے کیلئے خوب ریہرسل بھی کیا کرتے تھے ۔ وہ ایک پیشہ ور اداکار کی طرح کام کرتے ہیں۔ ان کے اندر کوئی بھی سین کرنے کیلئے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی ہے۔ ہم دونوں کے درمیان بہت اچھی کیمسٹری تھی۔ ان کے ساتھ کام کرکے بہت اچھا لگا اور کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔ آج کی تاریخ میں اگر اچھے اداکاروں کی بات کی جائے تو ان کا نام ضرور لیا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ملازمین کی چھٹنی پرایونجلین للی، ڈزنی پر برہم، اے آئی کے متعلق سخت سوالات پوچھے
امید کے تعلق سے آپ کا کیا کہنا ہے ؟
ج:امید پر ہی دنیا قائم ہے۔ اگر امید نہ ہو تو لوگ ہمت ہار جائیں گے اور غلط قدم اٹھانا شروع کردیں گے۔ میں جب بھی کوئی نیا پروجیکٹ شروع کرتی ہوں تو اس کی کامیابی کی امید کرتی ہوں۔ میں آڈیشن دیتی ہوں تو اسی امیدسے دیتی ہوں کہ مجھے کام ملے گا۔ اگر کام ملے گا تواچھا کرنے کی امید بھی کرتی ہوں۔ میں نے ٹی وی کریئر کو اس وقت چھوڑاتھا جب میں اس پر مشہور ہوچکی تھی۔ کئی افراد نے مجھے کہا تھا کہ ٹی وی انڈسٹری میں اتنے عروج پر ہونے کے باوجود تم اسے کیوں چھوڑ رہی ہو؟ اس وقت مجھے امید تھی کہ میں یہ انڈسٹری چھوڑ کر بڑے پر دے جاؤں گی تو وہاں بھی ضرور کامیاب رہوںگی۔ ایسا ہوا بھی، میں نے اب تک ۳؍ فلموں میں کام کیا ہے اورمیری ۷؍ویب سیریز ریلیز ہوچکی ہیں۔ ہم کبھی بھی امید نہیں ہار سکتے تھے۔ اگرہم اچھے کام کی امید کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو ہمارے کام بھی آسان ہوجائیں گے۔
کیا اب بھی آپ کے سیکھنے کا عمل جاری ہے ؟
ج: جی ہاں ، یہ عمل تو زندگی بھر جاری رہنا چاہئے کیونکہ ہم اس دور میں جی رہے ہیں جس میں روزانہ نئے نئے انقلاب آرہے ہیں۔اسلئے ہمیں خود بھی اپ گریڈ ہونا پڑتا ہے۔ میں خود کو بہتر کرنے کیلئے مسلسل سوچتی رہتی ہوں اور مختلف چیزوں پر تجربہ بھی کرتی رہتی ہوں ۔میں ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی ہوں کہ جہاں اسکرپٹ پڑھ کر یہ طے کروں کہ مجھے یہ فلم یا شو کرنا ہےیا نہیں۔ میں اپنے کردار کو نبھانے سے پہلے کافی ہوم ورک کرتی ہوں ، پھر شوٹنگ کیلئے جاتی ہوں ۔
انڈسٹری میں اتنے برسوں کے بعد بھی کیا آپ خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں؟
ج: ہم جس انڈسٹری میں کام کرتے ہیں وہاں کسی کے کام کی ضمانت نہیں ہے کیونکہ ہمارا کام دفتری نہیں ہے، مطلب ہم ۹؍ سے ۵؍ بجے کی ملازمت نہیں کرتے ہیںبلکہ اگر ہمیں کوئی رول یا کام ملتا ہےتو جب تک اس کی شوٹنگ ہوتی ہے تب تک ہمارا کام محفوظ ہے، اس کے بعد ہمیں دوسرے پروجیکٹ کی طرف توجہ دینی ہوتی ہے۔ لیکن میں نے انڈسٹری میں بہت وقت گزار لیا ہے اورسبھی پروڈکشن ہاؤس اور فلمساز اور ہدایتکاروں نے میرا کام دیکھا ہے تو مجھے موقع ملتا رہتاہے۔میں اپنی طرف سے بھی پوری کوشش کرتی رہتی ہوں کہ اچھے رول مجھے ملتے رہیں اور میں انڈسٹری میں مصروف رہوں۔
یہ بھی پڑھئے: انا اور رنجش کے سبب میرے اور شاہ رخ خان کے درمیان فاصلے آئے: ابھیجیت بھٹاچاریہ
بحیثیت اداکارہ آپ خواتین کے تعلق سے کیا سوچتی ہیں ؟
ج:میں یہی کہنا چاہوں گی کہ ہر خاتون کو مالی طورپر مضبوط ہونا چاہئے کیونکہ اگر آپ کسی پر منحصر رہتے ہیں تو آپ کے استحصال کا اندیشہ بڑھ جاتاہے۔ میرے والد نے مجھے نوجوانی کے دنوں ہی میں یہ بات یہ سکھا دی تھی کہ میں مالی طورپر مضبوط اور آزاد رہوں۔ میں کسی بھی مرحلے پر اپنے باپ، بھائی یا شوہر پر روپے پیسے کیلئے انحصار نہ کروں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ میں سماج میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کروں۔ میں نے اپنے والد کی ان نصیحتوں کو اپنے گرہ میں باندھ لیا ہے۔ ان کی ساری باتیں مجھے آج بھی یاد ہیں، اسلئے میں نے اپنے طورپر ہی کئی چیزیں حاصل کرلی ہیں۔ اگر میں کسی سے رشتہ جوڑتی ہوں تو اس میں برابری دیکھتی ہوں۔ میں یہ نہیں دیکھوں گی کہ وہ کتنا امیر ہے یا غریب۔ اکثر لڑکیوں کو بچپن ہی سے سکھایا جاتا ہے کہ و ہ دوسروں کی خوشی میں خوش رہیں، اپنے بارے میں سوچنے سے پہلے اپنے قریبی اورعزیز کے بارے میں سوچیں۔ اس سوچ کی وجہ سے مسئلہ پیشہ ورانہ زندگی میں آتاہے۔ جب آپ کسی ٹیم کی لیڈر بن جاتی ہیں تو آپ آزادانہ طور پر فیصلے نہیں کرپاتی ہیں۔ آپ کو بارہا سوچنا پڑتاہے کہ میں نے کسی مرد رکن کے سامنے کچھ زیادہ تو نہیں کہہ دیا۔ میرے خیال میں ایک لڑکی کو بچپن ہی سے مالی طورپر آزاد رہنے کی تربیت دی جانی چاہئے۔