• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دسترخوان پر جمع ہونا ہماری روایت، ملت کے مسائل پر جمع ہونا ہماری ذمہ داری

Updated: November 06, 2026, 4:55 PM IST | Muhammad Aamir Afaq | Kamthi, Nagpur District

مسلمانوں کی اجتماعیت کا ذکر ہو تو ذہن میں اتحاد، اتفاق، اخوت، بھائی چارہ اور باہمی تعاون جیسے خوب صورت تصورات ابھرتے ہیں۔ لیکن ہماری اجتماعی زندگی کا عملی مشاہدہ کرنا ہو تو کسی شادی کی تقریب یا دعوتِ طعام میں تشریف لے جائیے۔ وہاں ملت کی ایسی بے مثال شیرازہ بندی دکھائی دے گی کہ بڑے بڑے سماجی مفکرین بھی ہماری اجتماعی قوت کے معترف ہو جائیں۔

Islam has not limited the concept of collectivity merely to outward social interaction or gathering in one place; rather, it has linked it to brotherhood, selflessness, and a sense of responsibility. Image: INN
اسلام نے اجتماعیت کو محض ظاہری میل جول یا ایک جگہ جمع ہونے تک محدود نہیں رکھا، اسے اخوت، ایثاراور احساسِ ذمہ داری سے وابستہ کیا ہے۔ تصویر: آئی این این

مسلمانوں کی اجتماعیت کا ذکر ہو تو ذہن میں اتحاد، اتفاق، اخوت، بھائی چارہ اور باہمی تعاون جیسے خوب صورت تصورات ابھرتے ہیں۔ لیکن ہماری اجتماعی زندگی کا عملی مشاہدہ کرنا ہو تو کسی شادی کی تقریب یا دعوتِ طعام میں تشریف لے جائیے۔ وہاں ملت کی ایسی بے مثال شیرازہ بندی دکھائی دے گی کہ بڑے بڑے سماجی مفکرین بھی ہماری اجتماعی قوت کے معترف ہو جائیں۔

کسی ملی، تعلیمی یا سماجی مسئلے پر اجلاس طلب کیجئے تو ہر شخص اپنی مصروفیت کی فہرست لے کر حاضر ہوتا ہے۔ کسی کو ضروری کام درپیش ہے، کوئی شہر سے باہر ہے، کسی کا فون مصروف ہے اور کوئی پیغام دیکھ کر بھی خاموش رہنے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اطلاع ملتی ہے کہ فلاں مقام پر دعوتِ طعام کا اہتمام ہے، تمام مصروفیت یکایک غیر اہم ہو جاتی ہیں۔ جو حضرات مہینوں سے ملاقات کے لئے وقت نہیں نکال پا رہے تھے، وہ بھی وقت سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملت کو متحد کرنے کے لئے کسی انقلابی تحریک، مؤثر قیادت یا جامع منشور کی نہیں، صرف ایک دیگ عمدہ بریانی کی ضرورت ہے۔

دعوت کے دسترخوان پر ہماری اجتماعیت اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ امیر و غریب، چھوٹے بڑے، صاحبِ منصب اور عام آدمی، سب ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں۔ یہاں طبقاتی تفریق بھی بظاہر دم توڑ دیتی ہے۔ البتہ جب بریانی کی بوٹیوں کی تقسیم کا مرحلہ آتا ہے تو مساوات کا فلسفہ قدرے آزمائش میں پڑ جاتا ہے۔ ہر شخص کی خاموش خواہش ہوتی ہے کہ اس کی پلیٹ میں چاول کم اور گوشت زیادہ ہو۔ بعض حضرات تو اس معاملے میں ایسی دور اندیشی اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اگر یہی صلاحیت ملی مسائل کے حل میں صرف ہو تو کئی منصوبے کامیابی سے ہم کنار ہو جائیں۔

کھانا شروع ہونے سے پہلے اخلاق، مروت اور ایثار کے حسین مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہر شخص دوسرے کو پہلے کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ کوئی کہتا ہے، آپ تشریف رکھیے، کوئی اصرار کرتا ہے کہ پہلے آپ تناول فرمائیں۔ لیکن جیسے ہی کھانے کا اعلان ہوتا ہے، یہ ساری اخلاقی مشق عملی امتحان میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پھر ایسی پھرتی اور مستعدی دکھائی دیتی ہے کہ اولمپکس کے کھلاڑی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہیں۔ اس لمحے نہ کسی کا عہدہ یاد رہتا ہے، نہ مرتبہ اور نہ ہی کوئی سماجی فاصلہ۔

یہ بھی پڑھئے: کیا اُمت کو اپنے مسائل کے حل کی سنجیدہ فکر ہے؟ اگر ہے تو اُسے کیا کرنا چاہئے؟

دعوت ختم ہونے کے بعد ہماری تنقیدی صلاحیت بھی پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوتی ہے۔ کہیں بریانی میں نمک کی زیادتی زیرِ بحث ہے، کہیں گوشت کی قلت، کہیں میٹھے کا معیار اور کہیں انتظامات کی خامیاں۔ میزبان کے خلوص، محنت اور فراخ دلی کا ذکر نسبتاً کم ہوتا ہے، البتہ کھانے کے معیار پر تبصرے اس تفصیل سے کیے جاتے ہیں جیسے کسی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے باقاعدہ معائنہ رپورٹ تیار کی ہو۔ گویا دعوت میں شرکت کے ساتھ ہر مہمان پر ایک غیر اعلانیہ آڈٹ کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔

طنز و مزاح اپنی جگہ، مگر اس منظر کے پس منظر میں ایک سنجیدہ سوال پوشیدہ ہے: کیا یہی جذبۂ اجتماعیت کسی تعلیمی ادارے کے قیام، کسی مستحق طالبعلم کی کفالت، کسی بے روزگار نوجوان کی رہنمائی، کسی غریب خاندان کی مدد یا کسی اجتماعی مسئلے کے حل کے لئے بھی بیدار ہو سکتا ہے؟ کیا ہم کسی تعمیری مقصد کے لئے بھی اسی ذوق، پابندیٔ وقت اور باہمی دلچسپی کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ اجتماعیت کا اصل امتحان دسترخوان پر نہیں، بلکہ مشترکہ ذمہ داریوں کے وقت ہوتا ہے۔ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا یقیناً محبت بڑھاتا ہے، تعلقات کو مضبوط کرتا ہے اور دلوں کے فاصلے کم کرتاہے، لیکن اگر یہی تعلق کسی کے دکھ میں شریک ہونے، کسی کی ضرورت پوری کرنے اور کسی اجتماعی مقصد کے لئے قدم بڑھانے تک نہ پہنچ سکے تو اس کی معنویت ادھوری رہ جاتی ہے۔اسلام نے اجتماعیت کو محض ظاہری میل جول یا ایک جگہ جمع ہونے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے اخوت، ایثار، عدل، تعاون اور احساسِ ذمہ داری سے وابستہ کیا ہے۔ ایک مسلمان کی تکلیف کو  تمام مسلمانوں کی تکلیف سمجھنا اور اجتماعی بھلائی کے لئے اپنی انفرادی سہولتوں سے آگے بڑھنا ہی اسلامی اخوت کی حقیقی روح ہے۔

افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے پاس دعوتوں میں شرکت کے لئے وقت ہے، طعام کے لئے ذوق ہے، طویل نشستوں کے لئے فرصت ہے اور دسترخوان پر گھنٹوں بیٹھنے کا حوصلہ بھی ہے؛ مگر جب کسی ملی مسئلے پر غور و خوض، کسی تعلیمی منصوبے کی منصوبہ بندی یا کسی اجتماعی ذمہ داری کی ادائیگی کا مرحلہ آتا ہے تو یہی وقت، ذوق اور حوصلہ کہیں گم ہو جاتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ملت کی قوت صرف اس تعداد میں نہیں جو کسی دعوت میں جمع ہو جائے، بلکہ اس کردار میں ہے جو اجتماعی ضرورت کے وقت سامنے آئے۔ قومیں محض تقریبات میں شرکت کرنے سے مضبوط نہیں ہوتیں؛ وہ تب ترقی کرتی ہیں جب ان کے افراد اپنی ذات سے بلند ہو کر مشترکہ مفادات کے لئے سوچتے، وقت دیتے اور عملی جدوجہد کرتے ہیں۔ ایک دیگ بریانی سیکڑوں مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کر سکتی ہے، مگر ایک مشترکہ مقصد انہیں ایک صف میں کھڑا کیوں نہیں کر سکتا؟ یہی وہ سوال ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنےکی ضرورت ہے۔ دسترخوان پر جمع ہونا ہماری روایت ہے، مگر ملت کے مسائل پر جمع ہونا ہماری ذمہ داری ہے۔ بریانی کی دیگ سے اٹھنے والی خوشبو چند گھنٹوں میں ختم ہو جاتی ہے لیکن اتحاد و تعاون سے اٹھنے والی خوشبو آنے والی کئی نسلوں تک باقی رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK