انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں خاندان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وہ ابتدائی ادارہ ہے جہاں محبت، اعتماد، ایثار، تعاون اور باہمی احترام جیسی اعلیٰ انسانی اقدار پروان چڑھتی ہیں۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 5:00 PM IST | Sheikh Mustafa Al-Rahman | Mumbai
انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں خاندان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وہ ابتدائی ادارہ ہے جہاں محبت، اعتماد، ایثار، تعاون اور باہمی احترام جیسی اعلیٰ انسانی اقدار پروان چڑھتی ہیں۔
انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں خاندان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وہ ابتدائی ادارہ ہے جہاں محبت، اعتماد، ایثار، تعاون اور باہمی احترام جیسی اعلیٰ انسانی اقدار پروان چڑھتی ہیں۔ تاہم خاندان کا استحکام صرف جذباتی وابستگی اور خونی رشتوں سے قائم نہیں رہتا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور کسی کو اس کے جائز مقام سے محروم نہ رکھا جائے۔ اسلام نے انسانی زندگی کے ان تمام پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی ہے جو معاشرتی عدل، خاندانی استحکام اور انسانی حقوق کے تحفظ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہی اہم پہلوؤں میں نظامِ وراثت بھی شامل ہے، جسے اسلام نے محض مال و دولت کی تقسیم کا ایک طریقہ نہیں بنایا، بلکہ اسے حقوق کی ادائیگی، معاشرتی توازن اور خاندانی انصاف کا ایک جامع ذریعہ قرار دیا ہے۔
وراثت بظاہر ایک مالی معاملہ ہے، لیکن اس کے اثرات انسانی زندگی کے کئی اہم شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کسی انسان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اس کا چھوڑا ہوا مال صرف چند اثاثوں اور جائیدادوں کا مجموعہ نہیں رہتا، بلکہ اس سے مختلف افراد کے حقوق وابستہ ہوجاتے ہیں۔ ایسے موقع پر انصاف، دیانت اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا جائے تو یہی مال خاندانی اختلافات، بداعتمادی اور حق تلفی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام نے وراثت کے معاملے کو انسانی خواہشات، خاندانی روایات اور ذاتی ترجیحات کے بجائے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں کے تابع کیا ہے، تاکہ ہر حق دار کو اس کا جائز حق ملے اور کسی کی محرومی دوسرے کی خوش حالی کی بنیاد نہ بنے۔
یہ بھی پڑھئے: دسترخوان پر جمع ہونا ہماری روایت، ملت کے مسائل پر جمع ہونا ہماری ذمہ داری
اسلامی نظامِ وراثت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کی بنیاد براہِ راست قرآنِ کریم کی تعلیمات پر قائم ہے۔ سورۂ نساء میں وراثت کے احکام کو جس وضاحت اور اہتمام کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، وہ اس معاملے کی دینی اور معاشرتی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے مردوں کے ساتھ عورتوں کے لئے بھی وراثت میں حق تسلیم کیا اور واضح کیا کہ والدین اور قریبی رشتہ داروں کے چھوڑے ہوئے مال میں مردوں اور عورتوں دونوں کا حصہ ہے، خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ۔ یہ تعلیم اپنے اندر ایک اہم معاشرتی پیغام رکھتی ہے کہ کسی انسان کا حق اس کی سماجی حیثیت، معاشی کمزوری یا خاندانی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔
اسلامی نظامِ وراثت کا ایک بنیادی مقصد معاشرے میں عدل و انصاف کو فروغ دینا اور ہر فرد کے جائز حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان صرف اس کی معاشی ترقی یا قوانین کی کثرت سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہاں کمزور اور بے اثر افراد کے حقوق کس حد تک محفوظ ہیں۔ اسلام نے اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے وراثت کے معاملے میں کسی کی قوت، اثر و رسوخ یا خاندانی برتری کو حق تلفی کا جواز تسلیم نہیں کیا۔ ہر مستحق کے حق کی ادائیگی کو ضروری قرار دیا اور اس بات کی تعلیم دی کہ کسی کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس کے حقوق سلب نہ کیے جائیں۔
اسلامی نظامِ وراثت کا ایک اہم اور قابلِ توجہ پہلو عورت کے مالی حقوق کا تحفظ ہے۔ انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں عورت کو معاشی اعتبار سے نظر انداز کیا جاتا رہا اور بعض معاشرتی روایات میں اسے خاندانی جائیداد میں کسی حق کا مستحق بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے اس تصور کی اصلاح کرتے ہوئے عورت کو مستقل حق دار کی حیثیت عطا کی۔ بیٹی، ماں، بیوی اور بہن کی حیثیت سے اس کے حقوق کو تسلیم کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلامی تعلیمات میں عورت کی عزت و تکریم کے ساتھ اس کی معاشی حیثیت اور مالی تحفظ کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔