• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہرِ خموشاں میں غیرسنجیدہ طرزِ عمل کی گنجائش نہیں، یہ یاددہانی ہوتی ہے کہ ہمیں بھی اسی جگہ آنا ہے

Updated: November 06, 2026, 4:45 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں فطری طور پر حضرتِ انسان کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، کیونکہ وہ مقامات اپنی ہیئت، ماحول اور معنویت کے اعتبار سے خاموشی، وقار اور سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔

While praying for the deceased in the graveyard, also reflect upon your own death and the afterlife. Picture: INN
قبرستان میں مرحومین کے لئے دعا کرنے کے ساتھ اپنی موت اور آخرت کی فکر بھی کرتے رہیں۔ تصویر: آئی این این

کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں فطری طور پر حضرتِ انسان کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، کیونکہ وہ مقامات اپنی ہیئت، ماحول اور معنویت کے اعتبار سے خاموشی، وقار اور سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ مثلاً مساجد، جہاں بندہ اپنے خالق و مالک کے حضور حاضری دیتا ہے؛ بزرگوں کی مجالس، جہاں ادب و احترام انسان کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے؛ اور قبرستان، جہاں ہر قبر انسان کو اس کی آخری منزل کی یاد دلاتی ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں انسان کو اپنے لہجے، گفتگو، حرکات و سکنات اور رویّوں پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے اپنی بے حسی اور غیر سنجیدگی کے ذریعے ان مقدس اور سبق آموز مقامات کی معنویت کو بھی فراموش کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ مقامات بھی ہمیں سنجیدہ نہیں بنا سکتے تو پھر آخر ہم سنجیدہ کیسے ہوں گے؟

آج کے دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ بطورِ خاص قبرستان جیسے مقامات پر بکثرت غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ذرا غور کیجئے! قبرستان وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنی آخری منزل یاد کرکے لرز جانا چاہئے، جہاں ہر قبر خاموش زبان میں یہ پیغام دیتی ہے کہ کل یہاں کوئی اور تھا، آج ہم ہیں اور کل آپ کی  باری بھی آسکتی ہے۔ جہاں انسان کو اپنی زندگی کے گزرے ہوئے لمحات، اعمال و کردار اور آخرت کی جواب دہی کے بارے میں سوچنا چاہئے، وہاں بعض لوگ موقع غنیمت جان کر اپنے جان پہچان کے لوگوں سے غیر ضروری اور غیر سنجیدہ گفتگو میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی سے بات نہ کریں تو اپنے موبائل فون میں لگاتار الجھے رہتے ہیں۔ انہیں نہ ماحول کا احساس ہوتا ہے، نہ موقع کی نزاکت کا۔ گویا موت کا منظر بھی ہمارے دلوں کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی نہیں رہا!

اسلام نے انسان کو اپنی اصل منزل یعنی آخرت پر نگاہ رکھنے اور موت کو کثرت سے یاد کرنے کی خصوصی تعلیم دی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز (موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو۔‘‘ (جامع الترمذی) ایک دوسری حدیث میں آپؐ  نے ارشاد فرمایا :’’دنیا میں اس طرح رہو گویا تم ایک اجنبی یا مسافر ہو۔‘‘ (صحیح البخاری) ان احادیث کا پیغام بالکل واضح ہے کہ دنیا ہماری مستقل قیام گاہ نہیں، بلکہ ایک عارضی پڑاؤ ہے اور ہماری اصل منزل آخرت ہے۔ قبرستان اسی حقیقت کی سب سے بڑی عملی یاد دہانی ہے۔ وہاں جانا محض کسی عزیز کی تدفین میں شرکت کرنا نہیں، بلکہ مستقبل میں اپنے بھی ایسے ہی انجام پر غور کرنے کا ایک روحانی موقع بھی ہے۔ چنانچہ قبرستان میں خاموشی، وقار، دعا اور سنجیدگی اختیار کرنا محض معاشرتی تہذیب نہیں، بلکہ موت کی یاد اور آخرت کی فکر سے جڑا ہوا ایک بامعنی اسلامی طرزِ عمل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشرہ کی اصلاح چاہتے ہیں؟ اپنی ذات سے اصلاح کا عمل شروع کیجئے

کچھ مقامات پر اس باب میں ایک اور غیر سنجیدہ طرزِ عمل بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ قبر پر مٹی ڈالنے کے لئے بعض لوگوں میں ایسی عجلت اور بے صبری نظر آتی ہے کہ وہ دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی پروا کیے بغیر بھیڑ میں گھس کر سب سے پہلے مٹی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی کے آگے سے گزرنا، کسی کو دھکا دینا، کسی کے پاؤں پر پاؤں رکھ دینا،  دوسروں کیلئے راستہ تنگ کرنا اور کبھی کبھی کسی قبر پر پاؤں رکھ دینا عام ہوگیا ہے۔ تھوڑی دیر صبر کر لیا جائے تو دوسروں کو تکلیف پہنچائے بغیر بھی یہ عمل انجام دیا جاسکتا ہے۔ آخر اس قدر جلد بازی کی کیا ضرورت ہے؟ مٹی ڈالنے میں سبقت حاصل کرنا کوئی ایسا مستقل باعث ِ اجر عمل نہیں جس کے لئے دوسروں کے حقوق اور راحت کو پامال کیا جائے۔ اسلام تو ہر موقع پر دوسروں کو تکلیف دینے سے منع کرتا ہے۔ پھر افسوس کہ ایک ایسے موقع پر، جہاں انسان کو عاجزی، انکساری اور احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، وہاں بھی ہم اپنی بے صبری اور خود غرضی کا ثبوت دینے لگتے ہیں۔ 

یہ بات بھی عقل و شعور کے سراسر خلاف ہے کہ آپ کسی شخص کو اسکی دنیاوی زندگی سے رخصت کرنے، اسے آخرت کے سفر پر روانہ کرنے اور اس کیلئے دعائے مغفرت کرنے کےلئے قبرستان جا ئیں لیکن آپ کا طرز عمل کچھ ایسا ہو کہ گویا کسی دنیا داری کی جگہ پر ہوں  اور دنیاجہان کی باتوں میں مشغول ہوں۔ آخر یہ کیسا تضاد ہے؟ کیا کسی کی موت بھی ہمارے دلوں میں آخرت کی فکر پیدا نہیں کرسکتی؟ یاد رکھئے! دوسروں کی آخری رسومات میں شرکت دراصل اپنی آخری منزل کو یاد کرنے کا ایک موقع ہے۔

کسی کی میت میں شرکت کے حوالے سے زمانۂ حال میں ایک بڑی تبدیلی یہ بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ بعض لوگ ایسے مواقع پر بھی لباس کا الگ اہتمام کرتے ہیں، خصوصاً خواتین میں یہ طرز عمل فروغ پا رہا ہے۔ بلاشبہ شریعت نے اس سلسلے میں کوئی ایسی صریح پابندی عائد نہیں کی کہ مخصوص لباس ہی پہن کر میت میں شرکت کی جائے، لیکن اسلامی مزاج اور اخلاقی تقاضوں کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ موقع و محل کی مناسبت، سادگی اور دوسروں کے جذبات کا احترام ایک مہذب اور باشعور انسان کی پہچان ہے۔ 

قبرستان میں داخل ہوتے وقت ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم صرف کسی دوسرے کی قبر پر نہیں کھڑے، بلکہ اپنی آنے والی منزل کے قریب بھی کھڑے ہیں۔ آج ہم کسی کے جنازے کو کندھا دے رہے ہیں، کل شاید ہمارے جنازے کو کندھا دینے والے یہی لوگ ہوں گے۔ آج ہم کسی کے لئے مغفرت کی دعا کر رہے ہیں، کل ہمیں بھی دوسروں کی دعاؤں کی ضرورت ہوگی۔ اس لئے آئیے! اپنی زندگی کے رویّوں کا محاسبہ کریں، مواقع کی نزاکت کو سمجھیں، دوسروں کے جذبات کا احترام کریں اور اپنی آخرت کی فکر کو زندہ رکھیں!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK