سب سے بڑا مسئلہ غوروخوض کا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ غوروخوض کے قائل نہیں ہیں۔ دوسروں کی رائے پر اپنی رائے کا انحصار کرنا عام ہے۔ یہ رجحان ختم ہونا چاہئے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 4:50 PM IST | Engineer Ghufran Qazi | Akola
سب سے بڑا مسئلہ غوروخوض کا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ غوروخوض کے قائل نہیں ہیں۔ دوسروں کی رائے پر اپنی رائے کا انحصار کرنا عام ہے۔ یہ رجحان ختم ہونا چاہئے۔
ہندوستان کے موجودہ حالات مسلم امت کو اپنے خول سے باہر نکلنے، اپنے اصل دعوتی منصب کو پہچاننے اور ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگرچہ ایک طرف مسلم امت کے خلاف حکومتی سطح پر نفرت عروج پر پہنچ چکی ہے؛ مساجد کی مسماری کے لئے بلڈوزر متحرک ہیں، بستیوں کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے اور مسلمانوں کو ہر سطح پر ہراساں کر کے معاشی و سماجی طور پر مفلوج کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مزید برآں، سوشل میڈیا کے ذریعے عام ذہنوں پر روزانہ خوفناک ویڈیوز کا سیلاب اور من گھڑت افواہیں مسلط ہیں، جن کے منفی اثرات مسلم اور دیگر طبقات پر یکساں مرتب ہو رہے ہیں۔ ان گمراہ کن افواہوں کا بڑا مقصد ایک طرف برادرانِ وطن کے دلوں میں اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کو ہوا دینا ہے تاکہ وہ اسلام کی حقیقی تصویر نہ دیکھ سکیں، دوسری طرف اس کا اصل ہدف مسلم نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ اور مغلوبیت کے احساس میں دھکیلنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے، تاکہ ان پر بے بسی طاری کر کے ان کی قوتِ مزاحمت کو ختم کیا جائے اور وہ چیلنجز کے سامنے ڈٹے رہنے کا حوصلہ کھو کر ذہنی طور پر ہتھیار ڈال دیں۔ لیکن اس صورتِ حال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی معاشرے کی پوری تصویر صرف اس کے سیاسی حالات سے نہیں بنتی۔ اسی معاشرے میں انصاف کے لئے آواز اٹھانے والے افراد، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے اور اختلافات کے باوجود جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے شہری بھی موجود ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لئے اس دوسرے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حالات کی سنگینی کا ادراک رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس وقت اصل فریضہ بے بسی کے اس خول اور زنجیروں سے آزاد ہونا، ذہنی و نفسیاتی مضبوطی (Mental Resilience) اختیار کرنا اور مستقبل کا ایک واضح لائحہ عمل مرتب کرنا ہے۔
اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوگا کہ جابر طاقتوں کا یہ حربہ نیا نہیں ہے۔ جب ۱۲۵۸ء میں ہلاکو خان کی تاتاری فوج نے بغداد کو تہس نہس کیا، لاکھوں انسانوں کے خون کی ندیاں بہا دیں اور صدیوں پرانے کتب خانوں کو دریا برد کر دیاتب مسلم دنیا کے ایک بڑے حصے پر وقتی طور پر ایک گہرا سناٹا اور شدید نفسیاتی دباؤ طاری ہو گیا تھا، جہاں بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اب یہ قوم دوبارہ کبھی کھڑی نہیں ہو سکے گی اور اس کی قوتِ مزاحمت ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ہے۔ لیکن اس شدید آزمائش کے دور میں بھی مسلمانوں کے علماء اور دانشوروں نے جذباتی نعروں یا وقتی ردِعمل کے بجائے دلوں کی اصلاح، کردار کی تعمیر اور بلند اخلاق کا راستہ چنا۔ اگرچہ تاتاریوں اور مختلف منگول حکمرانوں کے قبولِ اسلام کا عمل کئی ادوار پر محیط تھا، جس میں مختلف مذہبی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی عوامل کار فرما تھے، تاہم اس طویل تاریخی عمل میں مغلوب مسلمانوں کے اعصابی استحکام، ان کے بلند اخلاق اور دعوتی حکمتِ عملی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ تاریخی حقیقت ثابت کرتی ہے کہ ذہنی و نفسیاتی مضبوطی، بلند اخلاق اور دعوتی حکمتِ عملی وہ بنیادی ہتھیار ہیں جو طویل مدت میں حالات کا رخ موڑنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
اگرچہ آج کا دور تاتاریوں کے اس ہولناک عہد جیسا نہیں، لیکن مسلم طبقہ اس وقت جس گہری بے چینی، فکری اضطراب اور کٹھن حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی آزمائش سے کم نہیں ہے۔ ہر طرف سے گھرے ہوئے ان سنگین حالات میں جہاں ایک عام مسلمان خود کو بے بس محسوس کر رہا ہے، وہیں تاریخ کی روانی نے ایک غیر متوقع اور توجہ طلب موڑ لیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا اشارہ ہے کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی اسباب کے بدلنے میں دیر نہیں لگتی اور خدا تعالیٰ اگر چاہے تو حق کی آواز بلند کرنے اور عدل کا ماحول بنانے کے لئے کسی بھی غیر متوقع محاذ کو متحرک کر سکتا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے ملک کی سڑکوں پر ایک بالکل الگ منظرنامہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں انصاف پسند شہری، بالخصوص نوجوانوں کا ایک زبردست اور تاریخی احتجاج لگاتار جاری ہے۔ اس ملک گیر عوامی تحریک کا آغاز حکومت کی ناکامیوں، بدعنوانیوں اور امتحانی نظام کی سنگین خرابیوں کے خلاف ہوا تھا۔ انصاف اور شفافیت کے متلاشی ان نوجوانوں نے جب اس بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، تو وہ ایک بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ وہ حکومت جو عام حالات میں کبھی استعفیٰ کا تصور تک نہیں کر سکتی تھی، اسے عوامی دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ پر مجبور ہونا پڑا۔
اِسی طرح، ملک کے نوجوان اور حزبِ اختلاف جماعتیں انتخابی عمل کی ساکھ اور شفافیت کو لے کر ایک بار پھر سرگرمِ عمل ہیں۔ ایس آئی آر کے دوران مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتخابی فہرستوں سے تقریباً ۱۳؍ کروڑ نام حذف کیے جانے کے بعد، انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹروں کے اندراج اور ناموں کی بحالی کے طریقۂ کار پر ملک گیر بحث اور احتجاج سامنے آئے ۔یہ نوجوان اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں اب متحد ہو کر الیکشن کمیشن کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے مسلم امت کو آئینہ دکھایا کہ اسی دھرتی کے انصاف پسند شہری، بالخصوص تعمیری سوچ کے حامل نوجوان جابر حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں۔ یہ نوجوان حق اور سچ کے متلاشی ہیں اور اس دور میں حقیقی عدل کے پیاسے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ صورتِ حال کو صرف سیاسی کشمکش کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس کے سماجی امکانات پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔
اگر ہم اِن نوجوانوں کے ساتھ تعاون کریں، ان کے سکھ دکھ میں کام آئیں، اپنے بلند اخلاق سے سچے تعلقات استوار کریں اور مشترکہ شہری مسائل، تعلیم، ماحولیات، فلاحی کام، انسانی حقوق اور عدل و انصاف کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مل کر کام کریں، تو قوی امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ان تعمیری کوششوں میں ہمارا ساتھ دیں گے اور اس کارِ خیر میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ جب ہم مشترکہ اقدار کی بنیاد پر ان کے ساتھ اشتراک کریں گے، تو تعصب اور نفرت پر مبنی حکومتی بیانیے کی فکری بنیادیں خود بخود کمزور پڑ جائیں گی۔