• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشرہ کی اصلاح چاہتے ہیں؟ اپنی ذات سے اصلاح کا عمل شروع کیجئے

Updated: November 06, 2026, 3:48 PM IST | Qamar Raza Qamar Amjadi | Mumbai

کسی بھی معاشرے کی ترقی اور کامیابی کا انحصار اس کے افراد کے اخلاق و کردار پر ہوتا ہے، لیکن آج مسلم معاشرہ کئی اخلاقی و سماجی مسائل سے دوچار ہے۔ آخر اس زوال کے اسباب کیا ہیں اور اصلاح کی راہ کیسے ہموار ہو سکتی ہے؟

Adults, too, should exercise caution when using social media. Photo: INN
سوشل میڈیا کا استعمال بڑوں کو بھی احتیاط سے کرنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

‎نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیاتِ مبارکہ قرآنِ مجید کی عملی تفسیر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ۲۳؍  برس کے عرصے میں شارع اسلامؐ پر جو شرعی احکام و قوانین نازل فرمائے، آپؐ نے نہ صرف انہیں بنی نوعِ انسان تک پہنچایا، بلکہ فرامینِ الٰہی کو عملی جامہ پہنا کر قول و فعل کے تضاد کو بھی ختم فرمایا اور ایک صالح، پاکیزہ اور اعلیٰ اخلاق و کردار پر مبنی معاشرہ تشکیل دیا۔ مگر جب ہم بحیثیت امت ِ مسلمہ اپنے اخلاق و کردار کا  جائزہ لیں تو افسوس ہوتا ہے ۔جس امت کو پوری انسانیت کی رہنمائی کرنی چاہئے تھی، جو اخلاق و کردار اور عدل و انصاف میں دوسروں کے لئے نمونہ بن سکتی تھی، وہ آج اخلاقی انحطاط  کا شکار ہے۔  نوجوان نسل اخلاقی و فکری انتشار کا شکار ہے، خاندانی نظام کمزور ہو رہا ہے اور نئی نسل میں دینی و اخلاقی اقدار سے دوری بڑھ رہی ہے۔

‎آخر ان اخلاقی گراوٹوں کے اسباب کیا ہیں، اور ہم اپنے معاشرے کو اس دلدل سے نکالنے کے لئے کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟ آئیے، ان کے سدِّباب کا جائزہ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جو لوگ وقت ضائع کرتے ہیں، وقت اُنہیں ضائع کر دیتا ہے

دینی تعلیمات سے دوری:‎افراد کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے آراستہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐکے فرامین سے ناواقفیت انسان کو بہت سی برائیوں کی طرف لے جاتی ہے۔ جب تک ہم دین کو صحیح طور پر سمجھیں گے نہیں، اس پر عمل کیسے کر سکیں گے؟ افسوس کہ ذرائع ابلاغ کی سہولت کے باوجود مسلم معاشرہ میں تعلیم کی کمی محسوس ہوتی ہے، حالاں کہ اسلام کی ابتدا ہی وحیِ الٰہی کے لفظ ’’اقرأ‘‘ یعنی ’’پڑھو‘‘ سے ہوئی تھی۔

 تربیت کی کمی: ‎آج بچوں کی اخلاقی و عملی تربیت پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جا رہی، جس کے نتیجے میں نئی نسل مختلف اخلاقی مسائل کا شکار ہو رہی ہے۔ والدین، اساتذہ، مدارس اور تعلیمی اداروں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ صرف علم حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ سچائی، دیانت داری، احترام، ذمہ داری اور حسنِ اخلاق کی تربیت بھی نہایت ضروری ہے ۔

مادہ پرستی اور خود غرضی:‎ ہمارا معاشرہ زندگی کے حقیقی مقصد کو فراموش کرکے مال و دولت، عہدے اور شہرت کے حصول میں کشش محسوس کرتا ہے۔ بعض لوگ اپنے مفادات کی خاطر شرعی و اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بے حیائی، دھوکہ دہی، رشوت، جھوٹ اور ظلم جیسی برائیاں اسی مادہ پرستی اور خود غرضی کے باعث فروغ پاتی ہیں۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کو بھلا دیں گے تو ہمارا معاشرہ اخلاقی زوال سے  نکل نہیں پائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: یوٹیوب کی آمدنی، شادی کی رسومات اور کھانا، زکوٰۃ کا ایک سوال

 قول و فعل میں تضاد: معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگوں کے اقوال اور اعمال میں تضاد ہے۔ مثلاً ایک شخص دوسروں کو نماز، اخلاص اور شریعت کی پابندی کی دعوت دیتا ہے، لیکن اپنی عملی زندگی میں ان تعلیمات سے غفلت برتتا ہے۔‎قول و فعل کا یہ تضاد ہماری نصیحتوں کی تاثیر ختم کر دیتا ہے۔ جب تک ہم خود اپنی باتوں پر عمل نہیں کریں گے، دوسروں کی اصلاح کی ہماری کوششیں مؤثر نہیں ہو سکیں گی۔ 

 بری صحبت اور منفی ماحول:‎انسان کی شخصیت اور کردار کی تشکیل میں صحبت کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اچھی صحبت انسان کو نیکی کی طرف راغب کرتی ہے، جب کہ بری صحبت اسے برائیوں میں مبتلا کرتی ہے۔ اسلام نیک لوگوں کی رفاقت اختیار کرنے اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا درس دیتا ہے۔  لہٰذا اخلاقی بے راہ روی کے خاتمے کے لئے صالح صحبت اختیار کرنا اور پاکیزہ ماحول کو فروغ دینا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جو لوگ وقت ضائع کرتے ہیں، وقت اُنہیں ضائع کر دیتا ہے

 سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کا غیر ذمہ دارانہ استعمال: ‎سوشل میڈیا نے تعلیم، معلومات اور رابطے کے میدان میں بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں، لیکن اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال اخلاقی مسائل بھی پیدا کر رہا ہے۔ جھوٹی خبریں، غیبت، بہتان، فحش مواد، دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت اور کردار کشی جیسے رجحانات بڑھتے جا رہے ہیں۔‎والدین کو چاہئے کہ بچوں کو ان کی عمر اور فہم کے مطابق موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کی اجازت دیں اور مناسب نگرانی رکھیں اور بڑے خود بھی  اسکے استعمال میں اعتدال اور احتیاط برتیں۔

‎معاشرے کی اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ جب ہمارا کردار سنورے گا تو ہمارے خاندان سنوریں گے، خاندانوں کی اصلاح سے معاشرہ بہتر ہوگا، اور معاشرے کی اصلاح سے امتِ مسلمہ اپنی اخلاقی عظمت اور کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرنے کی جانب گامزن ہو سکے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK