• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

غزہ دنیا میں انسانیت کا علم تھامے ہے

Updated: November 28, 2023, 12:54 PM IST | Hasan Kamal | Mumbai

پچھلے دنوں امریکی کانگریس میں ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹونی جے بلنکن تقریر کرنے کیلئےکھڑے ہوئے۔ وہ ایک اچھے مقرر ہیں اور ان کی گفتگو کو غور اور دھیان سے سنا جاتا ہےلیکن کانگریسیوں نے ان کی تقریر کو سننا گوارا نہیں کیا، وہ جب بھی منہ کھولتے تھے تو کانگریسی سوال کر کر کے ان کا ناطقہ تنگ کر دیا کرتے تھے۔

Releasing prisoners also has high human values. Photo: INN
قیدیوں کو رہا کرنا بھی انسانی قدروں کی اعلیٰ قدروں کا حامل ہو تا ہے۔تصویر :آئی این این

پچھلے دنوں  امریکی کانگریس میں  ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹونی جے بلنکن تقریر کرنے کیلئےکھڑے ہوئے۔ وہ ایک اچھے مقرر ہیں  اور ان کی گفتگو کو غور اور دھیان سے سنا جاتا ہےلیکن کانگریسیوں  نے ان کی تقریر کو سننا گوارا نہیں  کیا، وہ جب بھی منہ کھولتے تھے تو کانگریسی سوال کر کر کے ان کا ناطقہ تنگ کر دیا کرتے تھے۔ آخر انہیں چپ چاپ بیٹھ جانا پڑا۔ ہوا یہ تھا کہ اینٹونی  بلنکن جب اسرائیل پر غزہ کے حماس حملہ کے بعد پہلی بار اسرائیل گئے تھے توانہوں  نے یہ بیان دیا کہ وہ اس بار اسرائیل میں  امریکی شہری کے بجائے ایک عام یہودی بن کر آئےہیں ۔یہودی عام طور پر دنیا پر اپنی مذہبی شخصیت کا اعلان نہیں  کیا کرتے وہ اپنی مذہبی شناخت اپنے آپ تک محدود رکھتے ہیں ۔ ان کی اس حرکت کے بعد امریکہ میں  بلنکن کی توقیر میں  کمی ہو گئی ہے۔امریکیوں  کو محسوس ہوا کہ بلنکن کی اس حرکت کی وجہ سے امریکہ کی بھی تذلیل ہوئی ہے۔ اسرائیل کے بارے میں  یہ قیاس کیا جاتا تھا کہ وہ ایک ایسے علاقہ میں  ایک مظلوم ملک ہے جہاں  اس کے چاروں  طرف بسے ہوئے عرب اس کی جان کے دشمن ہیں ، یہی تصور اسرائیل کیلئے خصوصاً مغرب کے ممالک میں  پایا جاتا تھا۔ یہ تاثر بہت دنوں  تک موجود رہا۔ یہ تو جب نیتن یاہو اسرائیل کے وزیر اعظم بنے تب یہ تاثر کم ہونا شروع ہوا، بنجامین یاہو کو ایک متعصب اور مغرور حکمراں  سمجھا جاتاتھا۔بارک اوبامہ تو ان کی صورت بھی نہیں  دیکھنا چاہتے تھے۔ بس دنیا کے لیڈروں  میں  ایک نریندر مودی ہی ایسے تھے جو بنجامین یاہو کو اپنا جگری دوست سمجھتے تھے۔ نہ جانے دونوں  میں  کیا یکسانیت ہے جو ایک دوسرے کے قریب سمجھے جاتے ہیں ،بہرحال اب یہ سمجھا جانے لگاہے کہ بنجامین نیتن یاہو کی وجہ سے اسرائیل ہی نہیں امریکہ کا نام بھی بہت بدنام ہوا ہے۔
 بہر حال غزہ میں  فی الحال جنگ بندی نافذ ہے، اس مضمون کے لکھے جاتے وقت تک یہ چار دنوں  کی عارضی جنگ بندی ہے، دراصل اسرائیل کی نام نہاد بہت دور اندیش حکومت سےیہی ایک غلطی ہوئی، وہ یہ تو بتا رہی ہے کہ جنگ بندی ہوئی ہے، لیکن یہ نہیں  بتا پا رہی ہے کہ یہ جنگ بندی کن فریقوں  میں  ہوئی ہے، حماس کو ایک مجموعی سیاسی اکائی ماننے کے بجائے وہ انہیں  دہشت گرد کہتی رہی۔ اب جنگ بندی کسی ریاست اور کسی نام نہاد دہشت گرد میں  تو ہو نہیں  سکتی۔ اس لئے اسرائیل کی اس جنگ بندی کو دنیا مشکوک نظروں  سے دیکھ رہی ہےلیکن جنگ بندی تو ہوئی ہے اور غزہ کے عوام کونہیں  تو اسپتال میں  داخل مریضوں  اور زخمیوں  کی حملےمیں  یہ جنگ بندی کار آمد ثابت ہوئی۔ حماس کی ساری قیادت اس وقت کہیں  بھی موجود نہیں ، اسمعیل ہانیہ اور مشعل جیسے قدآورقطر میں  موجود ہیں ، اس جنگ بندی میں  بھی قطر نے انتہائی اہم رول ادا کیا ہے۔ اسرائیل کے جن لوگوں  نے اس جنگ بندی کے نفاذ میں  کام کیا ہے وہ قطر میں  حماس کے ان لیڈروں  کے سامنے سر جھکاتے ہیں ، سر جھکانے کی بات ہم محض جذبات کی وجہ سے نہیں  کہہ رہے ہیں ، سرجھکانے کی بات ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ جب کوئی طاقتورفریق کسی عسکری اعتبار سے کمزور فریق سے بات کرتا ہے تو پھر اسے سر جھکاکر ہی بات کرنا پڑتی ہے،یہ بھی خبر ہےکہ حماس نے کچھ اسرائیلی یرغمالیوں  کو رہا کر دیا ہے، اگر ایسا ہوا بھی ہے تو دنیا یہ کہنے پر مجبور ہے کہ غزہ اور حماس نے انسانیت کی بلندی کا علم تھام رکھا ہے، قیدیوں  کو رہا کرنا بھی انسانی قدروں  کی اعلیٰ قدروں  کا حامل ہو تا ہے۔
  گزشتہ کئی صدیوں  سے تمام کا تمام عرب کسی نہ کسی شکل میں  یورپ کا غلام تھا، عرب دنیا کی ساری رعایا کسی برٹش، پرتگالی یا فرانسیسی کالونیوں  کی قید میں  تھی، خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد تقریباً ایشیا کے سبھی ممالک ہر طرح ان مغربی طاقتوں  کے غلام تھے، دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں  یہ غلامی کسی نہ کسی طور پر ختم ہوئی لیکن اس کے بعد سارا ایشیا امریکی سرپرستی کا شکار ہو گیا، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایشیا میں  بلکہ ایک طرح سے ساری دنیا میں  جتنا نراج جتنا انتشار اور جتنا استبداد پھیلا وہ یوں  توامریکہ کی طرف سے پھیلا یا اس کے اشاروں  پر پھیلا، عرب دنیا برٹش کالونی تھا، لیکن برطانوی غلامی کے بعد عرب دنیا عرب عوام کی نہیں  ہوئی ، وہ دنیا ان شاہوں  اور حکمرانوں  کے قبضہ میں  چلی گئی جو عوام سے دور تھے، یہ قبائلی نظام آج بھی عرب دنیا میں  رائج ہے اور عجب اتفاق ہے کہ آج جمہوریت اور اعلیٰ انسانی قدروں  کا نقیب ہونے کا دعویٰ کرنے والا امریکہ ان عوام سے دور شاہوں  اور حکمرانوں  کا سب ے بڑا حلیف تھا، مسلم ممالک میں  عدم اتفاق بھی امریکیوں  کی ہی دین ہے، لیکن اب چین نے یہ بھرم بھی توڑ دیا ہے۔
 اسرائیل کے قیام کے بعد امریکہ کو ایشیامیں  اپنی موجودگی کا جواز نکالنا تھا۔ امریکہ کو انسانیت نوازی کے سبب اسرائیل کو اس کے عرب دشمنوں  سے بچانے کیلئے اس علاقہ میں  اپنی موجودگی کا سبب بنانے کی کوشش کی۔ در اصل وہ اسرائیل کو بچانے کے بجائے پورے مشرق وسطیٰ پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتا تھا۔ بہانہ یہی تھا کہ وہ صدیوں  سے غریب اور بیچارے یہودیوں  کوہٹلر کی یادوں  سے چھڑانا چاہتا تھا اس لئے وہ  تاریخ اور دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ امریکہ انسانیت کا کتنا بڑا محسن ہے۔ امریکہ نے عراق، شام اور ایران میں  دسیوں  لاکھ انسانوں  کو ہلاک کرکے اپنی انسانیت دوستی کا ثبوت دیا۔ اس سے پہلے بھی امریکہ کوریا اور ویت نام میں  بھی دنیا کو کمیونزم سے بچانے کیلئے لاکھوں  کو مار چکا تھا لیکن اس بار اس کی ایک نہیں  چلی۔ اسے پہلے افغانستان نے ایشیا سے نکل جانے کا حکم دیا ، جسے اس نے سر جھکا کر مان لیا تھا اورایشیا کے کوچہ سے بہت بے آبرو ہو کر نکلنا پڑا تھالیکن غزہ نے تو اس کی رہی سہی کسر بھی نکال دی۔
 امریکہ کا سایہ اب ایشیا کے جسم سے اٹھ چکاہے۔ یہ بھی ایک عجیب ماجرا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں  اسرائیل کو ہمیشہ کیلئے زندہ رکھنے آیا تھا ، لیکن اب جب امریکہ کو ایشیا سے جانا پڑ رہا ہے وہ اسرائیل کو پوری طرح تباہ کر کے جا رہا ہے۔ یہ بات آپ سب جانتے ہیں  کہ پوری عرب دنیا میں  خصوصاً تمام عرب خطہ میں  صدیوں  سے یہودی، عیسائی اور مسلمان ایک ساتھ رہ رہے تھے، ان میں  لڑائیاں  بھی ہوتی تھیں  لیکن کوئی کسی کو مٹانا نہیں  چاہتا تھا۔ ایک بات اور جان لیں  کہ یروشلم کے خاص دروازے کی کنجی ایک مسلمان خاندان کے ہاتھوں میں  رہتی ہے، یہ سب تو تھا لیکن غزہ اور حماس نے اس کی یادیں  دوبارہ تازہ کردیں  ، فلسطین کی ریاست کا قیام اس خواب کی خوبصورت تعبیر ثابت ہو گی۔ غزہ اور حماس نے واقعی انسانیت کا علم تھام رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK