• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمن مسلح افواج میں جنسی زیادتی کے ۲۰۰۰؍ مقدمات: وزارت دفاع کی رپورٹ میں انکشاف

Updated: September 10, 2026, 5:10 PM IST | Berlin

جرمن وزارت دفاع کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلح افواج کے اندر جنسی زیادتی کے ۲۰۰۰؍ مقدمات درج ہیں،یہ اعداد و شمار جرمن فوج کے لیے ایک بڑے اندرونی بحران کا باعث بن گئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جرمن وزارت دفاع کے نئے منظرعام پر آنے والے اعداد و شمار کے مطابق، پانچ سالوں کے دوران فوج میں جنسی بدسلوکی کے تقریباً ۲۰۰۰؍ مشتبہ مقدمات سامنے آئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار جرمن فوج کے لیے ایک بڑے اندرونی بحران کا باعث بن گئے ہیں۔ڈیر اشپیگل کے مطابق، وزارت دفاع کے داخلی رپورٹنگ سسٹم میں شکایات کی تعداد ۲۰۲۱ء میں ۳۱۲؍ سے بڑھ کر ۲۰۲۵ء میں ۴۷۲؍ تک جا پہنچی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی ایک وجہ متاثرین کا سامنے آنے میں بڑھتی ہوئی ہمت بھی ہو سکتی ہے، نہ کہ صرف بدسلوکی میں اضافہ۔
 تاہم، مجموعی صورت حال تشویشناک ہے کیونکہ تقریباً ۲۰۰۰؍ رپورٹس میں سے صرف ۱۱۱۴؍ مقدمات ہی سرکاری پراسیکیوٹرز کو بھجوائے گئے۔پانچ سالہ عرصے میں جنسی ہراسانی کے ۸۲۸؍ واقعات رپورٹ ہوئے، جو تمام الزامات میں سرفہرست ہیں۔ وزارت دفاع کے اندرونی خلاصے کے مطابق، بچوں کے جنسی استحصال کے ۵۰؍ سے زیادہ مشتبہ مقدمات درج کیے گئے، جبکہ چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق ۲۰۰؍ سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ عریاں نمائش (Exhibitionism) کے ۳۱؍ الگ الگ واقعات بھی سامنے آئے۔  

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ کے بعد اسرائیلی ریزرو ربی کی خودکشی نے فوجی بحران پر سوال اٹھائے

مزید برآں، فوج کے اندر جنسی حملے، جبر یا عصمت دری کے ۳۹۵؍ مشتبہ مقدمات درج کیے گئے۔ جنسی استحصال کے دو واقعات بھی درج ہوئے، تاہم وزارت ان میں سے کسی بھی سزا کی تصدیق نہیں کر سکی۔اس صورتحال پر جرمن فوج کے انسپکٹر جنرل کارسٹن بریوئر نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک داخلی انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ درج ہونے والے مقدمات کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ایسی بدسلوکی کو کسی بھی یونٹ میں اعلیٰ افسران، ماتحتوں یا ہم پلہ افراد کی طرف سے قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ ’’جان بوجھ کر منہ پھیر لینا یا خاموشی سے برداشت کرنا بھی نتائج کا باعث ہونا چاہیے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی پابندی، تل ابیب کا جوابی اقدام

واضح رہے کہ جرمن فوج میں تقریباً ۲۶۷۰۰۰؍ افراد خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں ۱۳؍ فیصد خواتین ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، فوجی بیرکوں میں جنسی حملے، جن میں بعض اوقات اعلیٰ افسران بھی ملوث ہوتے ہیں، بار بار رونما ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اصل صورت حال ان سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔ چنانچہ جرمن مسلح افواج کے سنٹر فار ملٹری ہسٹری اینڈ سوشل سائنس نے مندرج معاملے  کے حوالے سے ایک تحقیق شروع کی ہے، جسے ’’تاریک اعداد و شمار کا مطالعہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم اندرونی ذرائع کے مطابق، خواتین فوجی افسران اپنے کیریئر پر پڑنے والے منفی اثرات کے خوف اور تحقیقاتی عمل پر عدم اعتماد کی وجہ سے خاموش رہتی ہیں۔ اس تحقیقات کے ابتدائی نتائج اس سال کے اختتام سے قبل متوقع ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK