Inquilab Logo Happiest Places to Work

اللہ کا شکر اَدا کیجئے جس نے بارش جیسی نعمت سے نواز دیا!

Updated: July 03, 2026, 1:25 PM IST | Abdullah Al-Baijan | Mumbai

بارش اللہ کی ایک عظیم نشانی ہے جو کمالِ قدرت اور اس کی حکمت کی یاد دلاتی ہے، اس کے نازل ہونے میں عبرت و نصیحت ہے، اس کے اندر ایمانی پیغام ہے جو دلوں کو جگاتا ہے۔

Rain.Photo:INN
بارش۔ تصویر:آئی این این

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس کی توفیق اور اس کی نوازشوں پر، اور اس کی بھرپور نعمتوں اور احسانات پر۔ کائنات میں پھیلی ہوئی اس کی متنوع نشانیوں پر، اور ہمیں نوازی گئی بڑی بڑی عنایتوں پر اس کا شکر ہے۔  یقیناً اچھی بات اللہ کا کلام ہے، سب سے اچھا طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، سب سے بری باتیں دین میں ایجاد کردہ باتیں ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ کی اطاعت، تقویٰ کو لازم پکڑنے، نفس کے محاسبے اور خواہش نفس کی مخالفت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ بھال لے کہ کل قیامت کے واسطے اس نے اعمال کا کیا ذخیرہ بھیجا ہے، اور ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ “
لوگو! پانی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، یہ ہر جاندار کی تخلیق کی اصل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا۔“ (سورہ الانبیاء:۳۰)
پانی زندگی کا جوہر ہے اور ماحول کا وہ عنصر ہے جس کی پوری کائنات ضرورت مند ہے۔ اس سے نہ انسان، نہ حیوان اور نہ نباتات بے نیاز ہو سکتے ہیں۔ قرآن مجید میں  اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
”وہی تمہارے فائدے کے لئے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اس سے اُگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو، اسی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ بے شک ان لوگوں کے لئے تو اس میں بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔“ 
(سورہ النحل:۱۰۔۱۱)
اللہ کے بندو! پانی پاکی کا ذریعہ ہے جو کہ نصف ایمان ہے۔ نماز اور بہت سی دوسری عبادتوں کی شرط ہے، اسی سے وضو اور غسل ہوتا ہے۔ اللہ  تعالیٰ کا فرمان ہے:  ”اور وہی ہے جو بارانِ رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے مردہ شہر کو زندہ کر دیں اور اسے ہم اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو پلاتے ہیں۔ “   (الفرقان: ۴۸۔۴۹)
اور فرمایا:” اور تم پر آسمان سے پانی برساتا ہے کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر دے۔“ (الانفال:۱۱)
اللہ کے بندو! بارش عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے جن پر شکر واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
”اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہو جانے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، وہی کارساز ہے اور وہی قابل حمد و ثنا ہے۔“ (الشوریٰ:۲۸)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بارش کے لئے اندازے کے مطابق ایک وقت متعین کیا ہے اور موسم بنایا ہے جس کا انتظار کیا جاتا ہے۔ فرمایا گیا:
”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے پھر انہیں ملاتا ہے پھر انہیں تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان میں سے مینہ برساتا ہے، وہی آسمان کی جانب سے اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے پھر جنہیں چاہے ان کے پاس انہیں برسائے اور جن سے چاہے ہٹا  دے۔ بادل ہی سے نکلنے والی بجلی کی چمک ایسی ہوتی ہے کہ گویا اب آنکھوں کی روشنی لے چلی۔“ (النور:۴۳)
اور فرمایا:”اس کی نشانیوں میں سے خوشخبریاں دینے والی ہواؤں کو چلانا بھی ہے اس لئےکہ تمہیں اپنی رحمت سے لطف اندوز کرے اور اس لئے کہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لئے کہ اس کے فضل کو تم ڈھونڈو اور اس لئے کہ تم شکرگزاری کرو۔“ (الروم:۴۶)
لوگو! بارش میں جب تاخیر ہوتی ہے تو لوگوں کی گھبراہٹ اور مصیبت شدید ہو جاتی ہے۔ انہیں قحط سالی اور پریشانی کا سامنا ہوتا ہے، کھیتیاں اور درخت تباہ ہوتے ہیں، چشمے اور کنویں خشک ہو جاتے ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
”اگر تمہارا پانی زمین میں بہت نیچے اتر جائے (یعنی خشک ہو جائے) تو کون ہے جو تمہیں (زمین پر) بہتا ہوا پانی لا دے؟“ (الملک:۳۰)
 لوگوں کو خشک سالی نے آلیا اور انبیاء ان کے درمیان موجود تھے، انبیاء نے نقصان کے ازالے اور مصیبت کے چھٹنے کے اسباب کی طرف ان کی رہنمائی کی اور اللہ نے بہت سی قوموں کو خشک سالی اور پھلوں میں کمی کر کے پکڑا کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ لیکن ہمارے نبی ؐ  نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپؐ  کی امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی دعا قبول فرمائی۔میرے عزیزو، اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:”اور ہم نے فرعون والوں کو مبتلا کیا قحط سالی میں اور پھلوں کی کم پیداواری میں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔“ (سورہ الاعراف:۱۳۰)
اور جب اللہ اپنے بندوں کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو رحمتیں نازل ہوتی ہیں، وہ بندوں کی مدد کرتا ہے،  آسمان سے بارش ہوتی ہے ، ملک سیراب ہوتے ہیں، زمین خوشنما اور آراستہ ہوتی ہے، ہر طرف سبزہ  اور شادمانی کے آثار ظاہر ہوتے اور پیڑوں پر پھل پھول آتے ہیں۔
 اللہ کے بندو! نعمتوں کا شکر واجب ہے، یہ نعمتوں کی بقاء اور پائیداری کا سبب ہے اور ان نعمتوں کے کمال شکر میں سے یہ ہے کہ ان کے بعد سچی حمد اور خالص اطاعت ہو۔ اس لئے کہ جب نعمتوں کی شکر گزاری کی جاتی ہے تو نعمتیں ہمیشہ رہتی ہیں اور بڑھتی ہیں اور جب ناشکری کی جاتی ہے تو نعمتیں چھین لی جاتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
”اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکرگزاری کرو گے تو بے شک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔“ (سورہ ابراہیم:۷)
تم اللہ کو یاد کرو، اللہ تمہیں یاد کرے گا، اس کی نعمتوں اور نوازشوں پر اس کا شکر بجا لاؤ وہ تمہیں مزید نوازے گا۔ ہم اس عظیم رحمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا نفع عام ہے، جس کا خیر وسیع ہے، جو ضرورت کے وقت آئی ہے، جس سے کھیتیاں لہلہا اٹھی ہیں، دل باغ باغ ہو گئے ہیں۔ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس سے اس کے فضل کے قائم رہنے کی دعا کرتے ہیں۔
تمام تعریف اللہ کے لئے ہے اس پر کہ اس نے ہم پر بارش نازل کی اور اس پر کہ اس میں برکتیں، بھلائی اور اثر رکھا۔ اس نے اس کے ذریعے سے ملکوں کو سیراب کیا اور خوب کیا اور ایک اندازے کے مطابق اس کے ذریعے زمین کو زندہ کیا اور اس سے دلوں کو تروتازہ کیا۔ اے اللہ! تیرے لئے ایسی حمد ہے جو تیرے جلال کے شایانِ شان ہو، جو تیری پے در پے نعمتوں اور نوازشوں کے برابر ہو۔ تیری حمد ہے تیری وسیع رحمت، عظیم احسان اور بھرپور نوازش پر۔ تیری حمد ہے کہ تو نے بھرپور نوازش کی، نعمتیں عطا کیں، کرم کیا۔ ہم تیری تعریف شمار نہیں سکتے، تو ویسا ہے جیسا تو نے اپنی تعریف میں کہا ہے۔
اللہ کے بندو! نعمتوں کی شکرگزاری میں سے یہ ہے کہ نعمتیں نعمت عطا کرنے والے اللہ کی طرف منسوب کی جائیں اور ان کے بدلے فرمانبرداری کی جائے اور انہیں ان چیزوں میں خرچ کیا جائے جو اللہ کو خوش کریں اور یہ کہ وہ توبہ اور اللہ کی طرف رجوع، گناہوں اور نافرمانیوں کے چھوڑنے اور بکثرت استغفار کا سبب ہوں۔ یہ ساری باتیں نعمتوں کے دوام، برکتوں کے نزول اور بارش برسنے کا سبب ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:  ” (نوحؑ نےاپنی قوم سے کہا) اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ اور معافی مانگو، وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا۔ “(سورہ نوح:۱۰)
لوگو! بارش اللہ کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے جو اللہ کے کمالِ قدرت اور اس کی نافذ ہونے والی حکمت کی یاد دلاتی ہے۔ بارش کے نازل ہونے میں عبرت و نصیحت ہے، اس کے اندر ایمانی پیغام ہے جو دلوں کو جگاتا ہے۔ موت، فنا، دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حساب کتاب اور جزا کی یاد دلاتا ہے۔ بنجر زمین میں بارش جو موت کے بعد زندگی، خشکی کے بعد شادابی اور سختی کے بعد خوشحالی پیدا کرتی ہے وہ ایک مادی دلیل ہے جو موت اور دوبارہ زندہ اٹھائے جانے کی یاد دلاتی ہے کہ بعد اس کے کہ زمین مردہ اور بنجر تھی، لہلہا اٹھی، پھلنے پھولنے لگی اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگانے لگی۔
عزیزان گرامی، اللہ کا فرمان ہے:
”اس اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ تروتازہ ہو کر ابھرنے لگتی ہے، جس نے اسے زندہ کیا وہی یقینی طور پر مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ (الفصلت:۳۹)n
(مسجد نبویؐ میں دیئے گئے خطبے سے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK