نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسن وحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو نوجوانان جنت کا سردار قرار دیا۔ (ترمذی حدیث نمبر: ۳۷۶۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنینؓ سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو دونوں مونڈھوں پر بٹھائے ہوئے تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسن وحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو نوجوانان جنت کا سردار قرار دیا۔ (ترمذی حدیث نمبر: ۳۷۶۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنینؓ سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو دونوں مونڈھوں پر بٹھائے ہوئے تھے اور کبھی ایک کا اور کبھی دوسرے کا بوسہ لے رہے تھے، اسی حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ ؓ کی طرف تشریف لائے۔ ایک صحابیؓ نے دریافت کر لیا کہ آپؐ اِن دونوں سے پیار کرتے ہیں؟ شاید انہوں نے سمجھا کہ بچوں سے پیار کرنا مقام نبوت کے شایان شان نہیں ہے۔
آپؐ نے نہ صرف ان کے سامنے حضرات حسنینؓ سے محبت کا اظہار فرمایا؛ بلکہ یہ بھی فرمایا کہ ’’جس نے ان دونوں سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ ‘‘(مسند احمد عن ابی ہریرہؓ، حدیث نمبر: ۹۶۷۳)
یہ تو اہل بیت کے چند خاص افراد سے متعلق آپؐ کی دعائیں تھیں؛ لیکن عمومی طور پر بھی آپؐ نے اہل بیت کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور ان سے محبت کو اپنی محبت کا اور ان سے بغض کو اپنے سے بغض قرار دیا ہے۔ حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ سرکارؐ دو عالم نے قسم کھا کر فرمایا: جو شخص ہمارے اہل بیت سے بغض رکھے گا، اللہ تعالیٰ ضرور ہی اس کو دوزخ میں داخل کریں گے (ابن حبان)۔ حضرات صحابۂ کرامؓ کو اہل بیت کی فضیلت کا اس درجہ خیال تھا کہ وہ ہمیشہ ان کو سر آنکھوں پر رکھتے تھے۔
مشہور مؤرخ علامہ یعقوبی نے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کی طرف سے اہل بیت کے اعزاز و اکرام کا حال یہ تھا کہ جب حضرت عمرؓ کے پاس ۲۰ھ میں کافی مال آیا تو آپؓ نے اس کی تقسیم اس طرح فرمائی کہ سب سے بڑی رقم پانچ ہزار حضرت علیؓ کے لئے رکھی، چار ہزار اپنے لئے رکھی، حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے کم عمر ہونے کے باوجود ان کے لئے تین تین ہزار رکھی۔ (تاریخ الیعقوبی:۲؍۱۸۳) تقسیم اموال کے ایک موقع پر لوگوں نے حضرت عمرؓ سے ان کے امیر المؤمنین ہونے کے لحاظ سے کہا کہ آپ اپنے آپ سے شروع کیجئے، تو آپؓ نے فرمایا: نہیں؛ میں رسولؐ اللہ کے اہل بیت سے شروع کروں گا۔ (نہج البلاغۃ: ۳؍۱۷۳) جب کسریٰ شاہِ ایران کی بیٹی قید ہو کر آئیں تو لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت عمرؓ اُن کو اپنے صاحبزادے کے حوالہ کرینگے؛ کیوں کہ وہ مسلمانوں کے سربراہ کے بیٹے ہی کے لئے کفو (برابر، ہم قوم) ہو سکتی ہیں؛ لیکن حضرت عمرؓ نے ان کو حضرت حسینؓ کو دیا۔ ان ہی سے امام زین العابدین علی بن حسینؓ پیدا ہوئے، کربلا کے حادثہ میں تنہا وہی بچے، اور ان ہی سے حضرت حسینؓ کا خاندان چلا۔ (الاصول: ۱؍ ۴۶۷)
غرض کہ تمام ہی صحابہؓ رسولؐ اللہ کے اہل بیت اور آپؐ کے مبارک خاندان کا احترام ملحوظ رکھتے تھے۔ آپؐ نے عمومی طور پر اہل بیت کی جو فضیلت بیان فرمائی ہے، اس کے بعد کسی صاحب ایمان کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اہل بیت کی ناقدری کرے، یا ان کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو۔ حضرت زید ابن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپؐ نے مکہ ومدینہ کے درمیان مقام خُم میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’ اے لوگو! میں تمہارے درمیان دو بہت ہی وزنی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک: کتاب اللہ، جس میں ہدایت اور روشنی ہے؛ لہٰذا تم کتاب اللہ کو پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھامے رہو، دوسرے: میرے اہل بیت۔‘‘ پھر آپؐ نے تین بار فرمایا: ’’میں تم کو اہل بیت کے سلسلے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔‘‘ (مسلم عن زید بن ارقم: ۲۴۰۸) حج کے کثیر مجمع میں یوم عرفہ کو بھی آپؐ نے اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’اے لوگو! میں تم لوگوں کے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوںکہ اگر ان کو پکڑے رہے تو گمراہ نہ ہوگے، ایک: کتاب اللہ ، دوسرے: میرا خاندان یا میرے اہل بیت۔ ‘‘ (ترمذی عن جابر بن عبداللہ: ۳۷۶۶)
اگرچہ واقعہ ٔ کربلا کے بعد اہل بیت نے اقتدار سے دوری اختیار کرلی تھی لیکن روحانی اقتدار کے ذریعے انہوں نے ہمیشہ لوگوں کے دلوں پرحکمرانی کی اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ ہشام ابن عبدالملک نے اپنے والد کے زمانۂ اقتدار میں بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور حجر اسود تک پہنچنے کی بہت کوشش کی؛ لیکن اژدہام کی وجہ سے پہنچ نہیں پایا؛ چنانچہ اس کے لئے کرسی رکھ دی گئی، وہ اس پر بیٹھ گیا اور لوگوں کو دیکھنے لگا، اس کے ساتھ شام کی کچھ اہم شخصیتیں بھی تھیں۔ اتنے میں حضرت امام حسینؓ کے صاحبزادے امام زین العابدینؒ تشریف لائے۔ آپؒنے بیت اللہ کا طواف کیا، جب حجر اسود تک پہنچے تو پورا مجمع چھٹ گیا، آپؒ نے بآسانی حجر اسود کا بوسہ لیا۔ امام زین العابدینؒ کی یہ شان دیکھ کر اہل شام نے ہشام سے پوچھا: یہ کون شخص ہے جس کا لوگوں پر اس قدر رعب ہے؟ ہشام کو اندیشہ تھا کہ اگر سچ کہا جائے تو کہیں اہل شام امام زین العابدینؒ کی طرف راغب نہ ہو جائیں، تو اس نے جھوٹ کہا: میں اِن کو نہیں پہچانتا۔ مشہور شاعر فرزدق وہاں موجود تھے، اُن سے رہا نہیں گیا اور انہوں نے اس موقع پر امام زین العابدینؒ کی تعریف میں ایک مبسوط قصیدہ کہا، جس میں انہوں نے جو کچھ کہا اس کا مفہوم اس طرح ہے:
’’یہ وہ شخص ہے، جس کو مکہ کا ذرہ ذرہ جانتا ہے، جس کو بیت اللہ ، حِل اور حرم پہچانتا ہے، یہ اللہ کے تمام بندوں میں سب سے بہتر شخص کی اولاد ہے، یہ صاحبِ تقویٰ، پاک باز اور سردارِ قوم ہے، یہ حضرت فاطمہؓ کی اولاد ہے، اور اگر تم ناواقف ہو تو جان لو کہ اس کے ناناؐ پر ہی سلسلۂ نبوت تمام ہوا، اور اس کے کیا کہنے! کہ اس کو تو عرب وعجم جانتا ہے۔‘‘
ہشام کو یہ اظہار حقیقت پسند نہیں آیا، اور اس نے فرزدق کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا (دیوان فرزدق: ۵۱۱--۵۱۲، حرف میم) یہ ایک مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بیت کی کیسی محبت مسلمانوں میں ڈال دی ہے، شاید اسی کا اثر ہے کہ آج تک سلوک واحسان اور اصلاح و تربیت کے سلاسل زیادہ تر مشائخ سادات کے ساتھ مربوط رہے ہیں۔غرض کہ امت کو توہین صحابہؓ اور توہین اہل بیت دونوں ہی فتنوں سے چوکنا رہنا چاہئے کہ یہی عدل اور اعتدال کا راستہ ہے۔