Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ لانے کا عزم

Updated: July 03, 2026, 1:03 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش کدم نے مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کیلئے ہائی کورٹ کے سبکدوش جج کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل کرنے کی بات کہی ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس موضوع کو زیر ِ بحث لاتے ہوئے حکومت سے کئی سخت سوالات کئے گئے ہیں۔

Behas.Photo:INN
بحث۔ تصویر:آئی این این
راقم الحروف کو خواتین کے بااختیار بنائے جانے، ان کے ساتھ ہو رہی ہے ناانصافیوں کے دور کئے جانے یا ان پر کئے جانے والے مظالم کے ختم کئے جانے پر کوئی اعتراض نہیں مگر ان کیلئے غلط کاری کے راستوں کو کھولے جانے اور نکاح کے جائز طریقوں کو بند کئے جانے پر سخت اعتراض ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے نام پر مسلم خواتین کیلئے ایسا ہی کیا جارہا ہے۔ ایک مثال سامنے کی ہے یعنی ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری بیوی کا لایا جانا معیوب سمجھا جاتا ہے مگر بیوی کے رہتے دوسری خاتون سے رشتہ قائم کیا جاتا یا کثرتِ شراب نوشی کے سبب بیوی پر ظلم کیا جاتا ہے جس پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ مسلمانوں کے لئے بعض شرائط کے ساتھ دوسری شادی جائز ہے دوسری بیوی کو بھی بیوی ہونے کا حق اور اس کے بچوں کو وراثت میں حق نیز دیگر مراعات دی جاتی ہیں مگر دوسری خاتون سے تعلق رکھنا ناجائز ہے۔ یہی مسلم معاشرے میں رائج ہے۔
مسلم معاشرے کو بدنام کرنے کیلئے طلاق ثلاثہ کو پیش کیا جاتا رہا ہے اور اس مرتبہ بھی ناسک کی بی جے پی ایم ایل اے دیویانی فراندے کے اٹھائے ہوئے مسئلہ کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش کدم نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں شکایات ناسک تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ پورے مہاراشٹر میں ہیں۔ ۲۰۲۴ء میں جو شکایتیں ہوئیں ان میں ۴۲؍ صحیح پائی گئیں۔ ۲۰۲۵ء میں ۹۵؍ افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ یہاں ایک ہی سوال کافی ہے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کو دوسری شادی کرنے کے سبب گرفتار کیا گیا ہے یا بیوی ہوتے ہوئے یا شادی نہ ہونے کے سبب یا کسی اور سبب بیوی کے چھوڑ جانے کی صورت میں کسی دوسری خاتون سے تعلق بنانے کے سبب؟ ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ قانون اور اخلاق بیوی بنانے کا مخالف مگر غلط رشتہ قائم رکھنے کا موافق ہو۔
وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش کدم نے صاف لفظوں میں کہا کہ مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے لئے ہائی کورٹ کے سبکدوش جج کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور یہی کمیٹی یکساں سول کوڈ کا مسودہ تیار کرے گی۔ اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی کی ایم ایل اے ثنا ملک نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے بعض سوالات تو اٹھائے مگر یہ بھی کہا کہ ’’پاکستان میں طلاق ثلاثہ کی ممانعت کے سلسلے میں قرآنی حکم پر عمل کیا گیا ہے اگر ہندوستان میں بھی ایسا حکم نافذ کیا جاتا ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔‘‘ ہمارے لئے پاکستان یا کسی دوسرے مسلم ملک کا قانون نہ تو کل معیار تھا نہ آج ہے نہ آئندہ ہوگا۔ حجت قرآن و سنت ہے اور پھر ہندوستان پاکستان کے حالات بھی مختلف ہیں۔
سابق وزیر اور این سی پی کے ایم ایل اے جینت پاٹل نے البتہ اچھی بات کہی کہ اسپیکر کے سامنے جب یہ تجویز آئی تھی تبھی ان کو متعلقہ وزیر اور ایم ایل اے کو بلا کر بات چیت کرنی چاہئے تھی، اس کو مسترد بھی کر دینا چاہئے تھا۔ یہ حساس مسئلہ ہے اس سے ماحول کشیدہ بھی ہوسکتا ہے۔ آدتیہ ٹھاکرے کا یہ کہنا بھی درست تھا کہ یکساں سول کوڈ پر پہلے میرٹ کی بنیاد پر گفتگو ہونا چاہئے۔ یہاں یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ مرکزی حکومت نے جب ایک مجلس کی تین طلاق کو ممنوع قرار دیدیا ہے تو اس قانون پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا ہے اور یہ بھی کہ جب پارلیمنٹ میں بنایا ہوا ایک قانون پورے ملک میں نافذ کیا جاچکا ہے تو ریاستی اسمبلی میں ایک دوسرا قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے؟
 
 
قانون اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ جرائم اور غیر اخلاقی کاموں کی روک تھام کی جاسکے مگر نکاح اور طلاق کے بارے میں جو قانون بنائے گئے ہیں یا جس قسم کی قانونی روش جاری رکھی گئی ہے اس سے لگتا ہے کہ زنا کو آسان اور نکاح کو مشکل بنایا جا رہا ہے۔ یہ پورے معاشرے یعنی ہر طبقے اور ہر مذہب و فرقے کیلئے ضرر رساں اور نقصاندہ ہے۔ یہ مغالطہ ہے کہ ہندوستان میں مذہبی آزادی ہے۔ یہاں مذہبی امور میں انسان اتنا ہی آزاد ہے جتنی آزادی حکومت اسے دیتی ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث ہونے اور قانون بنائے جانے کے باوجود مہاراشٹر اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا تو اب اس ضمن میں یہی پوچھا جاسکتا ہے کہ مہاراشٹر میں آسام اور اتراکھنڈ کی مثال دوہرانے کی آخر ضرورت کیا ہے؟
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مسلم خواتین کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیئے جانے چاہئیں مگر یہ سوال بھی بہر صورت اہم ہے اور پوچھا جانا چاہئے کہ عورت کو زیادہ حق بیوی یا دوسری بیوی بن کر مل سکتا ہے یا کسی کی ازدواجی زندگی میں زہر گھولنے والی دوسری خاتون بن کر؟ حکومت کے پاس اکثریت تھی اس نے پارلیمنٹ میں تین طلاق ممنوع قرار دیدی، یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بعد میاں بیوی میں مستقل علاحدگی یا طلاق کی کوئی صورت ہوگی یا نہیں؟ اور یہ بھی کہ جو حکومت زناکاری کا پرمٹ جاری کرتی ہو، جو خاتون اور مرد کی ایسی دوستی کو جائز سمجھتی ہو جس میں مرد و خاتون میاں بیوی جیسے رہتے ہوں (لیو اِن ریلیشن شپ) اس کو کیا حق ہے کہ میاں بیوی میں علاحدگی کی کسی صورت پر بحث کرے یا قانون بنائے۔
 
 
نکاح جتنا ضروری ہے طلاق بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ طلاق کی سہولت نہ ہو تو بیوی کا جینا دوبھر ہوجائے۔ آسام، گجرات، اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے یا نافذ کرنے کے عزم کا اعلان کیا جا چکا ہے، اب مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ اور مہاراشٹر کے وزیر مملکت برائے داخلہ نیز چنڈی گڑھ حکومت نے بھی اسی عزم کا اعلان کیا ہے اس کا اثر کیا ہوتا ہے اس سلسلے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر عوام میں ہیجان بہت ہے۔ ہم حکومت سے اتنا ہی پوچھتے ہیں کہ نئے مسودہ میں طلاق یا ایک مجلس کی تین طلاق کے متبادل کے طور پر کیا ہے اس کو عوام پر ظاہر کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK