سنت، حدیث اور سیرتِ پاک کو قیامت تک دوام حاصل ہے اور یہ سب ہمارے لئے منفعت بخش پہلو ہیں۔ آپؐ کا یہی اُسوہ ہماری عزت و سرخروئی کیلئے اور دُنیا میں ہماری قوت کی بقا کے لئے بیش قیمت خزانہ اور سرمایۂ وراثت ہے۔
EPAPER
Updated: July 03, 2026, 1:31 PM IST | Dr. Fawad Fakhruddin | Mumbai
سنت، حدیث اور سیرتِ پاک کو قیامت تک دوام حاصل ہے اور یہ سب ہمارے لئے منفعت بخش پہلو ہیں۔ آپؐ کا یہی اُسوہ ہماری عزت و سرخروئی کیلئے اور دُنیا میں ہماری قوت کی بقا کے لئے بیش قیمت خزانہ اور سرمایۂ وراثت ہے۔
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم جس دن دین حق کا پیغام لے کر دُنیا میں تشریف لائے ہیں، وہ دن دُنیا کے اندر نئی روشنی کے ظہور کا تھا۔ اسی نئی روشنی کی برکت تھی کہ اس نے انسان کو وہ عقیدہ اور تصور دیا، جو سراسر مکارمِ اخلاق اور فضائل و محاسن کا مجموعہ تھا اور تسامح، رواداری اور رذائل سے اجتناب کی دعوت تھی۔ اس عطیے نے انسانیت کے وجود کو افراط و تفریط کے گرداب سے نکال کر اعتدال پر فائز کیا۔ عورت کو جو انسانی معاشرے میں انتہائی پستی کے مقام پر گرچکی تھی، عزت و تکریم کے اعلیٰ مراتب سے ہم کنار کیا۔ جمہوری رویے کو رواج دے کر حقوقِ انسانی کی حدبندی کردی، جو اس سنہری اصول پر قائم تھی کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی سفیدفام کو کوئی امتیازی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ اولادِ آدم باہم ہاتھ کی انگلیوں کی طرح ہیں۔
ہمیں جس چیز کا بار بار جائزہ لینے کی ضرورت ہے، وہ آقائے نامدارؐ کی سیرتِ طیبہ اور آپؐ کے محامد و فضائل ہیں۔ یہ معلوم کیا جائے کہ دعوتِ دین کو پھیلانے میں آپؐ نے کس طرح اَن تھک کوششیں کیں، گھربار کو خیرباد کہہ کر کس طرح سفروغربت کی صعوبتوں سے دوچار رہے، دشمن جنگ و جدال پر اُتر آئے تو اُن کے سامنے سینہ سپر ہوگئے، قوم کی طرف سے ایذائیں دی گئیں تو صبر و شکیب کے ساتھ انہیں سہا، برداشت کیا۔ یہ تمام واقعات آپؐ کے فضائلِ حسنہ اور اعلیٰ کردار کی شہادت دیتے ہیں۔ خود ذاتِ خداوندی نے آپؐ کی تعریف میں فرمایا ہے:
’’(اے حبیبِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم طبع ہیں، اور اگر آپ تندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے ۔‘‘ (سورہ آل عمران:۱۵۹)
ایک اور جگہ فرمایا: ’’بے شک آپؐ انسانی اخلاق کے بلند مدارج پر فائز ہیں۔‘‘(سورہ القلم :۴)
اسلام دُنیا کے سامنے بے شمار مفید اور گراں قدر اصول لے کر آیا ہے۔ اس لئے انسانوں کا ایک گروہ تیار کر دیا جس کی اساس اعلیٰ انسانی اخلاقیات پر قائم تھی اور اس عقیدے پر قائم تھی جو کائنات کے فرماں روا نے اپنی بشری مخلوق کے لئے انفرادی و اجتماعی زندگی کا نظام بناکر بھیجا ہے، اور اس میں ہر اُس چیز کی وضاحت کر دی جس کی انسانوں کو اس جہانِ بے ثبات میں ضرورت لاحق ہوسکتی ہے، نیز ان تمام اعمال کا نقشہ پیش کر دیا ہے جو آخرت کی زندگی میں سلامتی و نجات کے ضامن ہوسکتے ہیں۔
حضور پاکؐ کی سنت، حدیث اور سیرتِ پاک کو قیامت تک دوام حاصل ہے۔ یہ سب ہمارے لئے نفع و منفعت بخش پہلو ہیں۔ آپؐ کا عمل اور آپؐ کا اُسوہ ہمارے لئے دُنیا بھر کی نعمتوں سے بڑی نعمت ہے، جو آپؐ کی ذاتی زندگی سے لے کر خاندانی اور قومی زندگی تک پھیلا ہوا ہے۔ آپؐ کا یہی اُسوہ ہماری عزت و سرخروئی کیلئے اور دُنیا میں ہماری قوت کی بقا کیلئے بہت بڑا اور بیش قیمت خزانہ ہے اور جسے سرمایۂ وراثت کہا جاسکتا ہے۔
ذیل کی سطور میں آپؐ کے اُسوئہ حسنہ اور آپؐ کی تعلیم کا خلاصہ چند نکات میں عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
l دعوت کی تڑپ: دعوتِ خلق کو خلق خدا تک پہنچانے میں آپؐ نے کوشش کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ نہایت صبر اور بُردباری کے ساتھ اس پیغام کو پہنچایا۔ یہ جدوجہد کسی دُنیوی غرض اور ذاتی مفاد کی خاطر نہیں تھی بلکہ خالص اللہ رب العالمین کیلئے یعنی اس کے حکم کے مطابق تھی۔ اس بات کی تشریح کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا تھا:
’’بخدا! اگر یہ لوگ میرے داہنے ہاتھ پر سورج لا رکھیں اور بائیں ہاتھ پر چاند (لا کر رکھیں) کہ مَیں اس کام سے باز آجائوں، تو مَیں کبھی نہیں باز آئوں گا۔ یہاں تک کہ اللہ اس دین کو غالب کردے یا میری جان جاتی رہے۔‘‘
آپؐ نے دُنیاوی مال و متاع سے ہمیشہ بے اعتنائی اختیار فرمائی۔ آپؐ کے سامنے سونے کے پہاڑ بھی پیش کئے گئے تو آپؐ نے انکار کر دیا اور شرف و کرامت کی زندگی بسر کرنے کیلئے معمولی کفاف (روزمرہ کا خرچ) پر اکتفا کیا۔
l تواضع اور رواداری: آپؐ کی پوری زندگی میں ہمیں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ آپؐ نے کبھی اپنے آپؐ کو دوسروں سے برتر رکھنے کی کوشش کی ہو، بلکہ آپؐ کی مجلس غربا و مساکین اور معمولی حیثیت کے لوگوں کے ساتھ رہتی تھی ،اور جس طرح رؤسا اور سرداروں کے ساتھ آپؐ کا سلوک تھا اسی طرح نچلے درجے کے لوگوں کے ساتھ آپؐ کا مساویانہ طرزِعمل تھا۔ آپؐ کی روادارانہ تعلیم کی اس سے بڑھ کر کیا مثال ہو سکتی ہے کہ قریش جو ہمیشہ آپؐ کے جانی دشمن تھے، آپؐ کو ایذائیں دیتے رہے، آپؐ کے رفقا اور ساتھیوں کو آپؐ سےتوڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے یہاں تک کہ ترکِ وطن پر اُنہوں نے آپؐ کو مجبور کر دیا، ان تمام سختیوں اور ایذا رسانیوں کے باوجود وہی قریش فتح مکہ کے دن جب گرفتار ہوکر حضورؐ کی بارگاہ میں آئے تو آپؐ کی زبانِ مبارک سے کون سے الفاظ برآمد ہوئے ہر کوئی اس سے آگاہ ہے۔ آپؐ کے یہ کلمات تھے: ’’جائو تم آزاد ہو، آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہے، اللہ تمہیں معاف کرے گا اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔‘‘
l عام مساوات: آپؐ نے جس باہمی مساوات اور طبقاتی کشمکش کے استیصال کا درس دیا، اس کی عمل داری اس قدر ہمہ گیر تھی کہ آپؐ کا اپنا گھر اور اپنا خاندان بھی اُس میں شامل تھا۔ آپؐ کے قبیلے کے کسی فرد کو دوسروں پر کسی درجے کی کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں تھی۔ اس سلسلے میں آپؐ کا وہ ارشاد مبارک بہت مشہور ہے جو آپؐ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’اے محمدؐ کی آل! ایسا نہ ہو کہ لوگ میرے پاس نیک اعمال لے کر آئیں اور تم حسب نسب لے کر آئو۔ تم خود عمل کرو ، میں تمہیںاللہ کی گرفت سے ذرّہ بھر نہیں بچا سکتا۔‘‘
عام انسانی مساوات کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:
’’حقوق میں تمام انسانوں کو برابر رکھو اس طرح کہ اپنے بے گانوں کی طرح اور بے گانے اپنوں کی طرح ہوں۔‘‘ (السنن الکبریٰ للبیہقی، کتاب الضحایا، باب ماجاء فی اجد القسام، حدیث: ۱۸۸۳۸)
l اسلامی اور انسانی اخوت: یہ وہ تعلیم تھی جس نے قوم کی منتشر صفوں میں اتحاد و اُلفت کے رُوح پرور گلشن کھلا دیے اور مدت سے بچھڑے ہوئوں کو گلے ملا دیا کہ اخوتِ اسلامی کی بنیاداللہ تعالیٰ کے اس حکم پر ہے:
’’ تمام مومن بھائی بھائی ہیں۔ پس تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح رکھو اور اللہ سے ڈرو تاکہ وہ تم پر رحم کرے۔‘‘ (الحجرات ۴۹:۱۰) اسی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اُس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اُس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔‘‘ (آل عمران:۱۰۳)۔ اسی آبگینے کی حفاظت کے اصول و قواعد بیان کرتے ہوئے آنحضرتؐ نے فرمایا:
’’آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور نہ آپس میں کسی کو دوسرے کے خلاف بھڑکائو، اور نہ آپس میںبغض رکھو اور نہ آپس میں کسی کی پیٹھ پیچھے بُرائی کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع کرے اور تم اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جائو۔‘‘ (مسلم، باب تحریم ظلم المسلم، حدیث:۴۷۵۶)
عالم گیر انسانی برادری کے قیام کی دعوت دیتے ہوئے قرآن نے بیان کیا ہے: ’’ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰیٰ اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے۔‘‘ (سورہ النساء :۱)۔ یہ ہے مختصر اور سرسری خلاصہ جو پیغمبرؐ انسانیت کی تعلیم میں ہمیں ملتاہے اور اس کے اعادہ و تکرار کی ہمیں ضرورت ہے۔ یہ وہ اَنمٹ آثار ہیں جو اُمتوں اور قوموں کو زندگی کے میدانِ عمل میں فلاح و بہبود سے متمتع کرتے ہیں۔ اسلام نے اس زبانی تعلیم اور صحیح فکر کی طرف تمام دُنیا کو دعوت دی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کی بہتری اور سلامتی بھی اسی میں ہے کہ زمامِ حیات اسی صالح قائد کے ہاتھ میں دے دی جائے۔ تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ جس قوم نے اپنی زندگی کی گاڑی اس فکروعقیدے کے خطوط پر چلائی ہے اور اسلام کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے اور احکام الٰہی کی تعمیل کی ہے اور گناہوں سے بچی ہے وہ عزّت و شوکت اور تہذیب و تمدن کے بلندترین مدارج و منازل پر جاگزیں ہوئی ہے۔تاریخ اس کا ثبوت ہے۔
ان تمام گزارشات کے بعد ہم ملت اسلامیہ کو خواہ وہ مسلم ممالک کی ہو یا غیرمسلم ممالک کی، دعوت دیتے ہیں کہ تعلیم نبویؐ کی روشنی میں اپنے موجودہ نظامِ حیات اور طرزِعمل پر غوروفکر کرے اور غور و فکر سے صحیح نتائج برآمد کرنے کیلئے سیرت محمدیؐ کا بار بار اور تفصیلی مطالعہ کرے۔