جب تک ان کے بارے میں ذہن ہر الجھاوے سے پاک نہ ہو، خدا کی خوشنودی حاصل نہیں ہوسکتی۔
جب تک ان کے بارے میں ذہن ہر الجھاوے سے پاک نہ ہو، خدا کی خوشنودی حاصل نہیں ہوسکتی۔ تصویر:آئی این این
اجتماعی ماحول میں خداوند تعالیٰ کی جو نافرمانیاں اور احکاماتِ الٰہی سے دُوریاں اور فاصلے ہیں، درحقیقت وہی ہماری تکلیفوں اور اذیتوں کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ جب تک ہم خدا کی طرف نہیں پلٹیں گے، اس کے احکامات کی بجاآوری نہیں کریں گے، ہمارے دُکھ اور اذیتیں ہمارا پیچھا کرتی رہیں گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم مسلمان عبادات میں اتنی کوتاہی اور کمی نہیں کرتے جتنا معاملات میں ہم بدنیت اور بدمعاملہ واقع ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عبادات کے علاوہ اجتماعی زندگی کے معاملات میں ذمہ دارانہ رویہ بہت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انسان صرف عبادات کے ذریعے خدا کی خوشنودی حاصل نہیں کرسکتا، تاوقتیکہ معاملات میں راست روی نہ اختیار کی جائے۔
یہاں پر دو اہم موضوعات پر اختصار سے روشنی ڈالی گئی ہے: اوّل ’نفس‘ اور دوم ’گناہ‘۔ جب تک ان کے بارے میں ہمارا ذہن ہر الجھاوے سے پاک نہ ہو، ہمیں خدا کی خوشنودی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ’نفس‘ کی بابت معرکہ آرا بحثوں کی علمی اور فکری سطح اتنی بلند ہے کہ اکثر لوگ یہ نہیں جان پاتے کہ نفس کیا ہے؟ مغرب نے اس کے لئے ’اَنا‘ یا Ego کی اصطلاح اختیار کی ہے، لیکن اس مقصد کی وضاحت کے لئے یہ لفظ درست نہیں۔ ’اَنا‘ یا ’اِیگو‘ میں وہ ساری خصوصیات نہیں آتیں، جو نفس میں موجود ہیں۔ اَنا یا اِیگو سے مراد انسان کی اپنی ’ذات‘ یا ’مَیں‘ (Self)ہے۔ اس میں وہ خواہشیں شامل نہیں ہیں، جو نفس کے اندر پیدا ہوتی رہتی ہیں اور جن کی تہذیب کرکے نفس کا ’تزکیہ‘ کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں دوسری چیز گناہ ہے۔ اس کا تعلق بھی نفس ہی سے ہے، مگر گناہ مرحلہ وار طریقے سے انجام پاتا ہے۔
نفس کیا ہـے؟: انسان کا وجود گوناگوں عناصر کا مجموعہ ہے، جو انسان کے داخلی وجود میں پائے جاتے ہیں، اور انہی میں ایک چیز ’نفس‘ ہے۔ نفس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ انسانی خواہشات کا منبع و مرکز ہے۔ خواہشیں اسی نفس میں پیداہوتی ہیں اور ان خواہشوں کو پورا کرنے کی طاقت کا مادّہ بھی نفس ہی کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اپنی خواہش کو ہرحال میں پورا کرنے کی آرزو انسان کے اندر ایک قوتِ عمل پیدا کردیتی ہے اور وہ جائز یا ناجائز ہرطریقے سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مادی طلب کے بالمقابل دین و مذہب کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کی خوشنودی بندے کو اسی وقت ملتی ہے، جب وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے اور یہ اسی وقت ممکن ہے، جب بندہ اپنی بے لگام خواہشوں پر کنٹرول کرنا سیکھ لے ۔ اسی کو اصطلاح میں ’نفس امارہ‘ کہتے ہیں۔جب بندہ ’نفس امارہ‘ پر بڑی حد تک قابو پالیتا ہے تو وہ ’نفس لوامہ‘ کے درجے پر آجاتا ہے۔ اس درجے پر بندے میں بُرے بھلے اور نیکی و بدی کی تمیز پیدا ہوتی ہے۔ پھر جب وہ مسلسل مشق اور ریاضت کے ذریعے بُرائی اور شر کو ترک کرنے کی ہمت پالیتا ہے، تو ’نفس مطمئنہ‘ کے درجے پر آجاتا ہے۔ خدا اس سے راضی ہوجاتا ہے اور نفس بھی خدا سے اور خدائی فیصلوں پر راضی ہونا سیکھ لیتا ہے، اور اللہ کی رضا پالیتا ہے۔
گناہ: کیوں اور کیسے؟: انسان کی زندگی چاروں طرف سے گناہوں کی یلغار اور گناہوں کی کشش سے اس طرح گھری ہوئی ہے، جس سے بظاہر یوں لگتا ہے، جیسے شاید انسان، گناہ کرنے ہی کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن خدا کی آخری کتاب قرآن عظیم بتاتی ہے کہ انسان گناہ کے لئے نہیں، گناہوں سے بچ کر خدا کی عبادت اور اس کی رضا حاصل کرنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔ تقویٰ جو مقصودِ دین ہے، گناہ سے بچنے ہی کا نام ہے۔ متقی وہ ہے، جو اس کوچے سے اجتناب کرے کہ جدھر گناہوں کی جھاڑیاں اور کانٹے ہیں، لیکن انسان پھر انسان ہے، اس کی فطرت گناہوں کی طرف مائل ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے اندر گناہ کی شدید رغبت رکھتا ہے۔ لیکن خدا نے جہاں انسان کی فطرت میں گناہوں کی طرف رغبت کا مادہ رکھا ہے، وہیں گناہ سے بچنے کے لئے ضمیر اور عقل کی نعمتیں بھی عطا کردی ہیں۔یہ ضمیر ہے جو انسان کو گناہوں کی وادی کی طرف جانے سے روکتا ہے، اور یہ عقل ہے جو انسان کو ان نقصانات سے آگاہ کرتی ہے جو گناہ کرنے کے نتیجے میں اسے پہنچ سکتے ہیں۔ گویا انسان کا وجود خیروشر کی کشمکش سے عبارت ہے۔
خدا کی کتاب بتاتی ہے کہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ گناہوں کی کشش اسے مسحور کرکے اسے مائل بہ گناہ کردیتی ہے اور وہ ارتکابِ گناہ کرکے خدا کو ناراض کر دیتا ہے۔ توبہ کی حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان حالت ِ مجبوری میں گناہ کربیٹھے تو جلد حالت ِ غفلت سے نکل آئے اور خدا کے حضور توبہ کرے تاکہ وہ اس کے گناہوں کو اپنے لطف و کرم سے معاف کردے۔ آیندہ اس سے بچنے کا عہد کرے، یعنی گناہ کا داعیہ انسان کی فطرت میں رکھنے کے ساتھ اسی لئے توبہ کا دروازہ کھول دیا گیا، تاکہ انسان جلد پلٹ آئے اور غفلت میں پڑ کر گناہوں پہ گناہ کرتا نہ چلا جائے اور یہ اس کا معمول نہ بن جائے۔
گناہ کے امکان سے اس کے حقیقت یقینی بننے تک پانچ درجے ہیں اور وہ یہ ہیں: (۱)ترغیب ِ گناہ (۲)تحریکِ گناہ (۳)خواہشِ گناہ (۴) امکانِ گناہ اور پھر (۵)عملاً گناہ۔ آج کی زندگی میں اگر چاروں طرف گناہ اور گناہ گار نظر آتے ہیں، تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہرطرف ترغیب ِ گناہ کے دروازے اور راستے کھلے ہیں۔ دولت و امارت کی جا و بے جا نمائش انسان کو جائز و ناجائز طریقے سے حصولِ دولت کی ترغیب دیتی رہتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے جدید ادارے خصوصاً موبائل فون اور ان کی ایپلی کیشنز، مثلاً فیس بک، واٹس ایپ، وغیرہ گناہوں کی طرف انسان کو راغب کرتے رہتے ہیں۔ ان سے بڑھتی ہوئی دلچسپی اور رغبت انسان کو عبادات اور تقویٰ کی زندگی سے دُور کرنے اور اُسے بالکل غافل کردینے کا باعث بنتے ہیں۔