یہ منزلِ مقصود ہے کہ انسان کی شخصیت میں ایک مربی اورمحتسب موجود ہو

Updated: November 20, 2020, 12:03 PM IST | Syed Munawwar Hasan

گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے مضمون ’’یہ اُمت، آپؐ کی امانت کو آگے پھیلانے اور دوسروں تک پہنچانے کی امین ہے کا‘‘ دوسرا اور آخری حصہ

Islamic Session
یہ منزلِ مقصود ہے کہ انسان کی شخصیت میں ایک مربی اور محتسب موجود ہو

امید کا دامن: حضور ﷺ نے طائف کا سفر دعوت کے غلبے کی تمنا اور آرزو کے ساتھ کیا ہے لیکن یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ اہل طائف نے آپؐ کے ساتھ جو سلوک اس کے سامنے لغت بے چاری ہاتھ جوڑ کے کھڑی ہوجاتی ہے کہ مجھ سے نہیں بیان کیا جاتا، کہ کیا سلوک  آپؐ کے ساتھ روا رکھا گیا۔ کسی نے کہا کہ اچھا ، تو اللہ تعالیٰ کو کوئی اور نہیں ملا تھا؟ ایسے آدمی کو تو میں نبی نہیں مان سکتا، یعنی طنز اور تمسخر کے جو تیر اور نشانے ہوسکتے تھے، وہ سب آزمائے گئے۔ اہل طائف نے دل و دماغ کی دنیا کو ویران کرنے کے لئے  وہ سب کچھ کیا، جو انسانی سطح پر کیا جاسکتا ہے۔ ٹولیوں میں لوگ آتے، دھکا دے کر گرانے کی کوشش کرتے اور کہتے، نبی ہو، گرتے کیوں ہو؟ سیدھے کھڑے رہونا! … اب ذرا تصور کیجئے کہ کن امیدوں کے ساتھ آپؐ گئے ہیں، کیا توقعات  لے کر  آپؐ نے یہ سفر کیا ہے اور کیا کچھ پیش آرہا ہے۔
 گویا دعوت کے راستے میں آپ بہت کام کریں گے لیکن نتیجہ بالکل مختلف  نکلےگا۔ آپ منزل کی طرف چلنے کی شعوری کوشش کریں گے جن کا نتیجہ دو جمع دوچار کی صورت میں نکلنا چاہئے لیکن وہ صفر نکلتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے کہ اس راستے میں ان مشکلات کو انگیز کئے، صعوبتوں کو اٹھائے اور ان آزمائشوں کوجھیلے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔
 صبح سے لے کر شام ہوگئی ہے، ہر دَر پر آپؐ دستک دیتے ہیں، ہر دل کی دنیا کو بسانے اور ویرانوں کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کوئی ایک فرد نہیں ملتا جو بات سننے والا ہو، جو آپؐ کی دعوت پر توجہ دینے والا ہو۔ ایسے میں کسی قدر مایوسی ہوجاتی ہے کہ یہ انسان تو عجیب و غریب ہیں، یہ تو خونخوار بھیڑیئے ہیں، ان سے کیا بات کی جائے،یہ تو سب جہنمی ہیں۔ لیکن محسن عالم ﷺکا اسوہ بتاتا ہے کہ داعی کبھی مایوس نہیں ہوتا، وہ اپنے مخاطبین کے بارے میں فتوے نہیں دیتا، لوگوں سے بددل نہیں ہوتا بلکہ  اپنے حصے کا کام کرتا ہے  اور لوگوں سے اچھی امیدیں اور توقعات باندھتا ہے کہ یہی اس کے ذمےہے۔
 واقعات کے مطابق جب آپؐ بالآخر طائف سے واپس لوٹنے لگے تو اہل طائف جو کچھ کرچکے تھے، اسی پر بس نہ کیا بلکہ گلی کے بچوں اور لچے لفنگوں کو آپؐ کے پیچھے لگادیا۔ آپؐ چلتے جاتے تھے اور بچے آپؐ پر پتھراؤ کررہے تھے۔ حضرت زید بن حارثہؓ جو آپؐ کے ہمراہ تھے، ان کے بارے میں روایات ہیں کہ جب آپؐ پر سامنے سے پتھراؤ ہوتا تھا تو سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہوجاتے تھے مگر پتھراؤ پیچھے سے شروع ہوجاتا تھا۔ جب پتھراؤ پیچھے سے شروع ہوجاتا تو آپ ڈھال بننے کے لئے پیچھے کھڑے ہوجاتے تھے۔ ذرا سوچئے، ایک فرد ہے اور چاروں طرف سے پتھروں کی بارش ہے۔ کیسے تحفظ دے، کیسے ڈھال بنے؟ مگر وہ اپنا کام کررہے تھے، اپنے درجات بلند کررہے تھے، اپنے آپ کو رضائے الٰہی کا مستحق بنا رہے تھے۔ آپؐ کے جسمِ اطہر سے اس قدر خون رسا کہ آپؐ کے جوتوں میں آپؐ کے پاؤں مبارک جم گئے۔ کتنی آسانی سے مَیں نے بیان کردیا ہے اور آپ نے پڑھ بھی لیا ہے۔ ذرا اس کا تصور تو کیجئے کہ کیا ہوا ہوگا اور کیا بیتی ہوگی، کتنا وقت لگا ہوگا کہ خون رستے رستے پیروں کو جوتوں کے اندر جمادے!
 تاآنکہ آپؐ بستی سے نکل کر ایک درخت کے نیچے سستانے کو بیٹھتے ہیں۔ اس وقت حضرت جبریل امینؑ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام لے کر آتے ہیں کہ یہ فرشتہ ساتھ لایا ہوں، آپؐ اشارہ کیجئے کہ اللہ کے حکم سے یہ فرشتہ طائف کی اس بستی کو جو دوپہاڑوں کے درمیان آباد ہے، ان دونوں پہاڑوں کو ملادے، بستی ریزہ ریزہ ہوجائے اور انسانی تاریخ کیلئے  عبرت کا نشان بن جائے۔
 انسانی سطح پر ذرا تصور کیجئے کہ کس قدر سنہری پیشکش ہے کہ جن لوگوں نے ستایا، ان سے انتقام لینے کا نادر ترین موقع ہاتھ آگیا کہ ان کو تہس نہس کردیا جائے اور ان کا کوئی نام لیوا باقی نہ چھوڑا جائے۔
 ذرا سارے منظرنامے پر غور کیجئے، نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی  ہےاور آپؐ کے اسوہ ٔ حسنہ پر قربان جائیے، آپؐ نے فرمایا کہ ’’نہیں، یہ نہیں تو ان کے بعد والے ایمان لائیں گے۔‘‘ کیسی توقعات ہیں۔ جو توقعات ان سے باندھی تھیں وہ تو پوری نہیں ہوئیں لیکن فرمایا کہ یہ نہیں تو بعد والے اور آئندہ نسلیں ایمان لے آئیں گی ۔ یہ زندہ رہیں گے تو آئندہ نسلیں مسلمان ہوں گی۔ وِژن  دیکھئے، بصیرت دیکھئے، توقعات اور امیدوں کا محل دیکھئے، صبر  و تحمل کا کوہِ گراں دیکھئے، اور انسانوں کے ساتھ خیرخواہی دیکھئے!
 یہ الفاظ آپﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلتے ہیں اور پھر آپؐ سجدے میں سر رکھ دیتے ہیں، اپنے ربّ سے مناجات کرتے ہیں، ہم کلامی کا شرف حاصل کرتے ہیں، اور اپنی پوری کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہیں اور الفاظ سے لگتا ہے کہ اپنائیت کے الفاظ و انداز میں جو شکوہ ہوسکتا ہے وہ کررہے ہیں کہ مولا! تو نے مجھ کو کن لوگوں کے حوالے کردیا ہے، جو میری بات کو سمجھتے نہیں ہیں، میرے پیغام کو جانتے نہیں ہیں، اس لئے مخالفت کررہے ہیں۔ ان جملوں کے ذریعہ ان کی خیرخواہی مطلوب ہے اور اتباع و پیروی اور دعوت و انقلاب کے راستے پر چلنے والوں کے لئے رہنمائی ہے۔ پھر فرمایا کہ مولا! جو کچھ ہوگیا ہے اگر تو اسی پر راضی ہے تو میں بھی اس پر راضی ہوں، گویا  ربّ کی رضا ہی اصل چیز ہے۔
 تعلق باللہ کی یہ کیفیت ایک داعی دوسروں میں اسی وقت پیدا کرسکتا ہے جب خود اس کے اندر اس تعلق کی آبیاری کا جذبہ موجود ہو۔ اللہ کے ساتھ تعلق کی آبیاری ہر روز اور ہر صبح و شام کا کام ہے، اتفاقی یا حادثاتی طور پر کبھی کبھار کرنے کا کام نہیں۔ قرآن و سنت اور سیرت و حدیث کے حوالے سے مسلسل اپنی طبیعتوں کو نکھارنے کا اہتمام کرنا تحریکِ اسلامی کے ہر کارکن اور ذمہ دار کا فرض ہے۔ روزانہ کچھ وقت مقرر کریں کہ ان اوقات میں انفرادی دائرے میں اور چل پھر کر اجتماعی دائرے میں اپنے رب کے ساتھ قربت کی منازل کو طے کریں۔
بُرائی کے خلاف اُٹھنا
  حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی  ہیں کہ نبی کریم ﷺ گھر میں تشریف لائے۔ میں نے آپؐ کے چہرۂ انور کو دیکھ کر پہچان لیا کہ آپؐ کچھ فرمانے والے ہیں۔ میں متوجہ ہوگئی ، آپؐ نے وضو فرمایا اور مسجد کی طرف چلے گئے۔ میں مسجد کی دیوار سے کان لگا کر کھڑی ہوگئی کہ سنوں آپؐ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ آپؐ  منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ لوگو! اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اگر تم منکر کے خلاف نہیں اٹھو گے، برائی کو نہیں روکو گے ، اس کی طرف لوگوں کو متوجہ اور  متنبہ نہیں کروگے تو تم مجھ سے لمبی لمبی دُعائیں مانگو گے، میں ان کو (نہیں سنوں گا اور) تمہارے منہ پر دے ماروں گا، تم مجھ سے التجائیں کرو گے میں ان کو نامنظور کردوں گا اور تمہاری طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھوں گا۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ حضور ﷺ نے بس اتنا ہی ارشاد فرمایا اور منبر سے نیچے اتر آئے۔
 گویا برائی کو دیکھنا اور برداشت کرلینا گوارا نہیں ہوسکتا۔ چاروں طرف معاشرے میں منکرات کے کانٹے بچھے ہوئے ہیں۔ چاروں طرف دیوہیکل برائیاں دندناتی پھرتی ہیں۔ انہی کی پالیسیاں ہیں، انہی کا راج ہے اور حرام کاری کے کاروبار جاری ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ ہماری طبیعت پر کتنے گراں گزرتے ہیں؟ کچھ کرنے اور معاملات کی اصلاح کیلئے کتنی آمادگی پیدا ہوتی ہے؟ کتنے اقدامات اور تدبیریں ہیں جوہم انفرادی اور اجتماعی دائروں میں اختیار کرتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات بدرجۂ  اولیٰ ہم سے پوچھی جائیگی، ہم جو دین کے دعویدار بن کر اٹھے ہیں اور ہمیں حق کی تلقین کی ذمہ داری دی گئی ہے ، حضرت عائشہؓ اسی طرف رہنمائی فرما رہی ہیں۔
تزکیہ اور تربیت کا مقصد
  ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے لئے دل پسند بنا دیا، اور کفر و فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کر دیا، ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راست رو ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے۔‘‘  (الحجرات:۷۔۸)
 یعنی اس تمام تربیت اور تزکیے سے ایک ایسا انسان مطلوب ہے جس کے دل و دماغ میں ایمان کی محبت پیوست ہوجائے اور ایمان سے ہٹنے اور اس سے دور ہوجانے کا تصور بھی ذہن اور عمل کے اندر محال ہوجائے۔ قلوب کے اندر  یہ محبت اس طرح رچ بس جائے کہ اس کے نتیجے میں ہر معصیت، ہر گناہ اور  ہر نافرمانی انسانی کو جیتے  جی ایک عذاب سے دوچار کردے۔ یہ جوچاروں طرف گناہوں کا کاروبار نظر آتا ہے اور انسان کو  اپنی  طرف بلاتا اور بہلاتا پھسلاتا ہے، معصیت اور نافرمانی کے اَن گنت عنوانات دنیا کو بنانے، زندگی کو کل سے بہتر آج، اور آج سے بہتر کل کی شکل دینے کے لئے موجود ہیں، اور پھر انسان کے جسم و جان کو راحت پہنچانے کے وہ تمام مراحل جو نافرمانی کے ذیل میں آتے ہیں، ان کے قریب جانے یا ان کا خیال آنے سے بھی رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ یہ منزلِ مقصود ہے کہ انسان کے اپنے اندر ایک مربی و مزکی اور ایک محتسب موجود ہو، کوئی روکنے ٹوکنے اور اندر سے خبردار کرنے والا ہو، جو ہاتھ پکڑ لے اور کہے کہ بھلے آدمی یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے، یہ تم کیا کررہے ہو؟
  ہرشخص خود ہی اپنا جائزہ لے کر اپنے بارے میں حتمی رائے دے سکتا ہے اور فتویٰ صادر کرسکتا ہے کہ اس آیت کے اندر جو کیفیت بتائی گئی ہے، اگر یہ کیفیت ہے اور اس کے اندر بڑھوتری ہے تو یہ مطلوب ہے اور یہ عمل زندگی کی آخری سانس تک جاری رہنا چاہئے۔ دعوت و تربیت کے مختلف مراحل فی نفسہٖ ہمیں پوری زندگی کے لئے رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور اس کے لئے تیار کرتے ہیں کہ ہم خود اپنے نگراں اور مربی اور ایک مدرس و مقرر کی حیثیت سے مسلسل اپنے اوپر نگاہ رکھ سکیں، اور اس آیت کا مصداق بننے اور اس کے  مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کے لئے کوشاں ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کو جس مقصد کے لئے مبعوث کیا گیا تھا، آپؐ نے اپنی زندگی اسی جدوجہد میں لگا کر اس کا حق ادا کردیا۔ غلبۂ دین کی جدوجہد میں حصہ لینا، اقامت دین کا فریضہ انجام دینا، بڑےپیمانے پر انسانوں کو ظلم کی طویل رات سے نجات دلانا، جھوٹے خداؤں اور طاغوت کی فرمانروائی سے بچانا اور انہیں یعنی  انسانوں کو اپنے ربّ کی طرف بلانا…یہ کام ثبات و استقامت اور اولوالعزمی ،اور ہر طرح کی آزمائش کو خندہ پیشانی سے جھیلنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ 
 سیرت پاک ؐ کے یہ واقعات تعلیم و تربیت اور ایمان و عزیمت کا چلتا پھرتا، جھنجھوڑتا اور ثابت قدمی کا نصاب ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK