گناہ سے پرہیز اور نصرت کی بشارت

Updated: January 08, 2021, 12:00 PM IST | Pro Zafarislam Islahi

قرآن مجید کی چند آیات کا ذکر جو اس حقیقت کی وضاحت کیلئے کافی ہیں کہ گناہ سے اجتناب سے اللہ کی رحمت اور اس کی نصرت نصیب ہوتی ہے۔

Quran Reading
قرآن کریم میں انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اللہ کی عبادت کو قرار دیا گیا ہے

’’ بے شک اللہ پرہیز گاروں اور احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (النحل:۱۲۸) 
’’ بے شک اللہ پرہیز گاروں سے محبت رکھتا ہے۔‘‘ (التوبۃ:۴،۷)
’’اللہ تقویٰ والوں کا کارساز ہے۔‘‘ 
( الجاثیہ : ۱۹)   
یہ آیات اس حقیقت کی وضاحت کے لئے کافی ہیں کہ گناہ سے اجتناب سے انسان کو اللہ کی رحمت اور اس کی نصرت نصیب ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو گناہوں سے بچاتے ہیں اور پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں، ا للہ ربُّ العزت انھیں پسند فرماتا ہے، اور جسے اللہ پسند فرمائے اور جسے مالک الملک اپنی نصرت کا یقین دلائے ،اس کی سرخروئی و کامیابی میں کیا شبہ ہو سکتا ہے ۔
ان آیات سے اللہ کی نگاہ میں تقویٰ والوں کا محبوب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ تقویٰ ،جیسا کہ بخوبی معروف ہے، ایک ایسی باطنی صفت یا اندرونی خوبی کا نام ہے جو انسان میں گناہ سے نفرت اور نیکی کی رغبت پیدا کرتی ہے۔ اس صفت سے متصف یا متقی ہونے کا مطلب ہی ہے اللہ کی عظمت و کبریائی کے احساس، اس کے خوف اور روزِ جزا باز پرس کے ڈر سے گناہوں سے بچنے والا اور خیر کی راہ میں آگے بڑھنے والا۔ در حقیقت اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری و باز پرس کا احساس ہے جو انسان کو اللہ کی نافرمانی سے بچاتا ہے اور گناہوں سے دور رکھتا ہے۔ گناہ سے اپنے کو دُور رکھنا (جس کی طرف لوگوں کی توجہ کم جاتی ہے) بہت بڑی نیکی ہے۔ اسے دیگر متعدد آیات میں ’احسان‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ نکتہ ان آیات سے بھی منکشف ہوتا ہے، جن میں اللہ کے سامنے حاضری و جواب دہی کے خوف سے اپنے کو ہوا وہوس، یعنی گناہ کے کاموں سے بچنے والوں کو جنّت کی بشارت دی گئی ہے:
’’ اور جو بھی اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو بے جا خواہشات سے دور رکھا تو جنّت اس کا ٹھکانا ہے۔‘‘
(النازعات: : ۴۰-۴۱)
یہاں یہ پیشِ نظر رہے کہ گناہ سے اجتناب اللہ کی نگاہ میں اس وجہ سے محبوب ہے کہ   اس میں نفس کے خلاف مجاہدہ ،خواہشات کی قربانی اور رضائے الٰہی کی خاطر لذائذ و مرغوبات کو تیاگ دینا ہے۔ ایک حدیث میں نفس کے خلاف جہاد کرنے والے کو اصل مجاہد کہا گیا ہے۔ ارشادِ نبویؐ ہے:
’’مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔‘‘ (جامع ترمذی، ابواب فضائل الجہاد،باب ماجاء فی فضل فی من مات مرابطاً ۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ کریں: سید سلیمان ندوی ،سیرۃ النبیؐ ، محولہ بالا، ۵؍ ۲۷۶ )
قرآن کریم میں انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اللہ کی عبادت کو قرار دیا گیا ہے:  ’’اور میں نے جن وانسان کو اپنی عبادت کے لئے ہی پیدا کیا ہے۔‘‘ (الذاریات:۵۶) حقیقت یہ کہ ممنوعات یا گناہوں سے بچنا اللہ کی عبادت و بندگی کا تقاضا ہے۔بلاشبہ اللہ کی عبادت کا تقاضا اسی وقت پورا ہوسکتا ہے،جب عبادت بجا لانے والا اپنے کو اللہ ربُّ العزت کی مرضیات کے حوالے کردے ، ہر معاملہ میں اس کی اتباع کرے اور  ان تمام کاموں سے اپنے کو دُور رکھے جو اللہ کی ناراضی کا موجب بنتے ہیں۔
یہ بات یقینی ہے کہ منہیات سے قریب جانا اللہ کی ناراضی مول لینا ہے اور ان سے کُلّی اجتناب کرنا خوشنودیِ الٰہی کا مستحق بننا ہے۔ اس لئے کہ گناہ سے اجتناب میں بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے اور ان میں سب سے سخت آزمائش اندرونی و بیرونی دشمن ( نفس و شیطان) سے جنگ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ حدیث میں اس شخص کو سب سے بڑا عبادت گزار(أَعْبَدَ النَّاسِ) بتایا گیا ہے جو ’ محارم‘ (حرام چیزوں) سے بچے ۔
 حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ایک طویل حدیث ِ نبویؐ کا پہلا حصہ ملا حظہ ہو: اتَّقِ المَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ(جامع ترمذی،ابواب الزہد عن رسولؐ اللہ،باب من اتّقٰی المحارم اعبد الناس )۔ حرام کاموں سے بچو تو سب سے زیادہ عبادت گزار بن جائو گے۔اس حدیث کے حوالے سے نامور فقیہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی یہ وضاحت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔خود انھی کے الفاظ میں:’’ پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا کہ اتَّقِ المَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ   یعنی تم حرام کاموں سے بچو تو تم تمام لوگوںمیں سب سے زیادہ عبادت گزار بن جائو گے۔حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملہ کے ذریعے یہ حقیقت واضح فرما دی کہ فرائض وواجبات کی تعمیل کے بعد سب سے زیادہ اہم چیز مومن کے لئے یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ناجائز وحرام کاموں سے بچائے،نفلی عبادتوں کا معاملہ اس کے بعد آتا ہے۔اگر کوئی شخص اس دنیا میں اپنے کو گناہوں سے بچالے تو ایسا شخص سب سے زیادہ عبادت گزار ہے،چاہے وہ نفل زیادہ نہ پڑھتا ہو۔
 حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملے کے ذریعے ایک بہت بڑی غلط فہمی کا ازالہ فر مایا ہے، وہ یہ کہ ہم لوگ بسااوقات نفلی عبادتوں کو تو بہت اہمیت دیتے ہیں،مثلاً نوافل پڑھنا، تسبیح، مناجات، تلاوت وغیرہ،حالانکہ ان میں سے کوئی ایک کام ایسا نہیں ہے جو فرض ہو۔ چاہے نفلی نمازیں ہوں،یا نفلی روزے ہوں یا نفلی صدقات ہوں،ان کوتو ہم نے بڑی اہمیت دی ہوئی ہے، لیکن گناہوں سے بچنے کا اور ان کو ترک کرنے کا اہتمام نہیں ہے۔یاد رکھیں کہ یہ صرف نفلی عبادات انسان کو نجات نہیں دلا سکتیں،جب تک انسان گناہوں کو نہ چھوڑے۔‘‘ (اصلاحی خطبات، کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند، ۲۰۰۷ء،   جلد۱۶،ص ۹۰-۹۱)
 انسان کے جسمانی نظام میں قلب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی صحت و درستی پر نہ صرف جسمانی نظام کی بہتری و عمدہ کارکردگی منحصر ہوتی ہے، بلکہ فکر ی و عملی نظام کی اصلاح و پاکیزگی بھی اسی پر موقوف ہے۔ اللہ کی نگاہ میں محبوب بننے اور اس کی قربت سے مشرف ہونے کے لئے قلب کی تطہیر، نفس کا تزکیہ، یعنی بُرے خیالات کی آلودگی و گناہ کی آلایشوں سے دل کو صاف رکھنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر دل اللہ کی محبت کے لائق نہیں بن سکتا۔  یہ حقائق ان آیات کی روشنی میں اچھی طرح سمجھے جاسکتے ہیں جن میں یہ ذکر ملتا ہے کہ اللہ ربّ العزت کن لوگوں کو پسند فرماتا ہے اور کن کو ناپسند ۔ قرآن کے مطابق اللہ ان لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے جو کفر و انکارِ حق، ظلم و زیادتی، فتنہ و فساد، کبر و غرور،خیانت و بد دیانتی،اسراف و فضول خرچی اور ناشکری یا کسی بھی گناہ کے کام میں مبتلا ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK