خیر امت : منصب اور ذمہ داریاں

Updated: September 04, 2020, 8:45 AM IST | Zameerul Hasan Khan Falahi

امت مسلمہ ، خیر امت ہے جس کے برپا کئے جانے کا مقصد لوگوں کی بھلائی ہے۔ یہ خیر عمومی یعنی ازخود مل جانے والی نہیں بلکہ اکتسابی ہے۔ جب تک امت اسے حاصل نہ کرے، وہ خیر امت نہیں ہوگی

Muslim - Pic : INN
مسلمان ۔ تصویر : آئی این این

انسان دو طرح کی صفات کا  مرکب ہے ، کچھ صفات وہ ہیں جو کسی ایک فرد کی شخصیت کے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں، وہ اس سے الگ نہیں ہو سکتیں، ان صفات کو ہم صفات لازمہ سے موسوم کرسکتے ہیں۔ مثلاً کسی کا طویل القامت ہونا اورکسی کا اس کے برعکس ہونا ، کالا اور گورا، عجمی وعربی ،  شرقی وغربی ہونا وغیرہ۔ یہ اور اس طرح کی صفات لازمی صفات ہیں لیکن ان صفات کی بنا پر فرد فرد سے اور قوم قوم سے برتر وکم تر نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ ان کاتمام تردارومدارمشیت پر ہے، اس میں انسان کا اپنا کوئی دخل نہیں ہے۔ اگر وہ ان کو بدلنے کی کوشش بھی کرے تو نہیں بدل سکتا۔ لہٰذا یہ بات عدل وحکمت کے خلاف ہے کہ ان اوصاف کی بنا پر کوئی قوم کسی قوم سے یاکوئی فرد کسی فرد سے برتری کا دعویٰ کرے اور اس کو باعث شرف وعار سمجھے۔
       برتری اور شرافت وفضیلت کی اساس ان صفات پر ہے جو کسبی ہیں، جن سے متصف ہونے میں انسانی مساعی کا عمل دخل ہوتا ہے اور جنہیں پیدا کرکے انسان، انسان کامل بنتا ہے مثلاً ایمان،  تقویٰ ، احسان ، اخلاق وکردار ، علم وفن میں مہارت وغیرہ۔ یہ صفات فطرت کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ پیدا کرنے سے وجود میں آتی ہیں اور دراصل یہی صفات انسانوں اور انسانوں کے درمیان فرق و امتیاز کی بنا ہیں۔ انہی سے کسی دوسرے فرد پر فضیلت حاصل ہوتی ہے کیوں کہ ان صفات سے آراستہ ہونا، ان میں آگے بڑھنا ایک ایسا عمل ہے جو ہر انسان کے بس میں ہے۔ انسان عزم وارادہ ، اپنی سکت و قدرت اور اپنی سعی و کوشش سے جتنا چاہے اس میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے اور دوسروں سے افضل و اشر ف ہوسکتا ہے ۔
         اللہ کی نگاہ میں سارے انسان مکرم ہیں اور تکریم کی وجہ آدم کی ابویت(باپ ہونا) ہے اس لئے عدل کہتا ہے کہ چونکہ اس میں سارے انسان برابر ہیں اس لئے اس کی وجہ سے کوئی افضل و ارذل نہیں ہوگا۔ ہاں یہ تکریم اللہ کی معرفت کا زینہ ـضرور ہے، انسان علم و تقویٰ پیدا کر کے ایک دوسرے سے افضل، ممتاز اور متفوق بن سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن پاک نے اس کی صراحت بھی کردی، فرمایا: ’’اے لوگو! ہم نے تمہیںایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قبیلوں و برادریوں میں بانٹ دیا تاکہ تم ایک دوسرے سے متعارف ہوسکو، مگر اللہ کے نزدیک اکرم و معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘(الحجرات:۱۳)
گویا ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا ہونا اور شعوب و قبائل میں تقسیم ہونا فطری ولازمی اوصاف ہیں اور تقویٰ اکتسابی ہے اس لئے یہ صفت جتنی زیادہ ہوگی اسی نسبت سے انسان محبوب خدا ہوگا ۔
         ایک جگہ فرمایا: ’’کیا وہ جو راتوں میں قنوت کرتا ہے اور کبھی سجدہ میں پڑا ہوتا ہے، کبھی دست بستہ کھڑا ہوتا ہے، آخرت کے تصور سے اس پر لرزہ طاری رہتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا ا میدوار ہوتا ہے (اور جو ان اوصاف سے عاری ہے ) برابر ہوسکتے ہیں؟ کہہ دو، اصحاب علم اور اہل جہل برابر نہیں ہیں، نصیحت صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جن کے پاس عقل ودانش ہے۔‘‘  
یہ امت مسلمہ ، خیر امت ہے جس کے برپا کئے جانے کا مقصد لوگوں کی بھلائی ہے۔ یہ خیر لازمی یا عمومی نہیں بلکہ اکتسابی ہے، اور جب تک امت ا سے حاصل نہ کرے، وہ خیر امت نہیں ہوگی، یہ برتری اسے خون، جنس، رنگ یا نسل کی بنیاد پر حاصل نہیں ہے۔  اسلوب قرآن بتاتا ہے کہ یہ لقب مشروط ہے یعنی اگر وہ شرطیں موجود ہیں تو امت خیرامت  ہوگی ورنہ نہیں ہوگی۔
(۱) پہلی شرط یہ ہے کہ امت ایمان میں کامل ہو۔ اگرا س کے اند ر کمال ایمان و ارکان ایمان کی شرط پوری نہیں ہوتی تو وہ خیر امت نہیں ہوگی۔ (۲) پھر اپنے ایمان کو ترقی دے کیونکہ ایمان کو ئی جامد شئےنہیں ہے بلکہ یہ گھٹتا بڑھتا ہے  (الایمان ینقص ویزید) اور تقویٰ کے مقام بلند پر فائز ہوجائے، جو روح ایمان ہے اور جو صاحب ایمان کو ہربُری چیز سے دور رکھتا ہے  اور جس کا نہ ہونا موجب غضب ہے اور اس کے بھی مدارج ہیں اس کا بلند ترین اور مطلوب درجہ یہ ہے کہ تقویٰ کا حق ادا کردیا جائے:  ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے،  تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران:۱۰۲)
اور کم سے کم یہ کہ حسب قدرت تقویٰ اختیار کیا جائے :  ’’لہٰذا جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور سنو اور اطاعت کرو، اور اپنے مال خرچ کرو، یہ تمہارے ہی لئے بہتر ہے جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاح پانے والے ہیں ۔(تغابن:۱۶)
اس استطاعت میں بھی اہل تقویٰ یکساں نہیں ہیں،  اس میں بھی فرق مراتب ہے۔
۳۔ تیسری شرط یہ ہے کہ مذکورہ تقویٰ ، متقی کی ذات تک محدود نہ ہو کہ اسلام، اجتماعیت کا دین ہے، اس کے بیشتر احکام اجتماعی ہیں اور ان کی  اقامت کے لئے امت اور اجتماعیت درکارہے اس لئے خیر امت ہونے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ الفت و محبت ، اتحاد و اجتماعیت اور اعتصام بحبل اللہ کی فضا عام کی جائے ۔
۴۔چوتھی شرط جو تمام واجبات کی جامع اور ہر عمل ِاجتماعی کے لئے مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ یہ امت، خیر امت اس لئے ہے کہ یہ معروف کو پھیلاتی اور منکر کے ازالے کی سعی وجہد کرتی ہے، عدل کاقیام، اسلامی فکر وعقیدہ کی اشاعت، گھر،  خاندان، معاشرہ اور حکومت و ریاست میں شورائیت اور اجتماعی تکافل جس سے انسانی طبقات میں توازن قائم رہے اور ہر طرح سے امت، جسد واحد بن جائے، ایک کی تکلیف پوری امت کی تکلیف ا ور ایک کا غم ساری امت کا غم قرار پائے اور مختلف شعبہ ہائے حیات میں عقیدہ وفکر کی آزادی کا بول بالا ہو۔ مظلومین کی حمایت اور کمزوروں کی داد رسی اور حسنات میں مسابقت ہی دنیا  و آخرت کی سعادت کی ضامن ہے۔
یہ وہ فرائض ہیں جن کی  مکلف پوری امت ہے اور جن کے مخاطب تمام مرد و خواتین ہیں :
’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی، یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے ۔‘‘                                    (التوبہ:۷۱)
ان فرائض کی ادائیگی کے بعد اور ان خوبیوں نیز اوصاف سے متصف ہونے کے بعد ہی امت  خیر امت ہوسکتی ہے۔ قرآن پاک نے جہاں امت کو خیر امت کا خطاب دیا ہے وہیں یہ ذمہ داریاں بھی واضح کی ہیں۔ (آل عمران /۱۰۲ ؍ تا ۱۱۰)۔ مذکورہ آیتو ں کاحاصل  خلاصہ یہ ہے کہ :
  اولاً؛ وہ ایمان پیدا کیاجائے جو سارے انسانی اعمال کو رائیگاں ہونے سے بچاتا ہے ۔
ثانیاً؛ عمل صالح جس کا لازمی جز امر بالمعروف اورنہی عن المنکر  ہے۔  یہ دونوں صفات کسبی ہیں، اللہ کے سارے بندوں کے سامنے دروازہ کھلا ہوا ہے کہ وہ ایمان لاکرخیرامت کا حصہ بن جائیں۔
ضروری اوصاف
   اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے لئے ا مت ضرورتمند ہے: 
(۱)دین کی کامل واقفیت جس کی وہ دعوت دے رہی ہے (۲) معاصر حالات کا علم جس کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے (۳) مخاطب کی نفسیات سے واقفیت(۴) مضبوط سیرت و کردار (۵) علوم وفنون پر مکمل دستگاہ (۶)زمینی تقویم  ، اور (۷) مدعوقوم کی زبان سے واقفیت ۔
  اس لحاظ سے مذکورہ بالا تفسیر کی روشنی میں امت کے دوکام قرار پائے، ایک کا تعلق پوری امت سے ہے اور دوسرے کا امت کے ان مخصوص افراد سے ہے جو یہ کام انجام دیں گے ۔ تمام مومنین کے مخاطب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرد دوسرے کامراقب، مصلح اور خیر خواہ ہے۔ صدر اول کے مسلمانوں کا یہی معاملہ تھا کہ عام چرواہا بھی خلیفۂ وقت کو ٹوک دیتا تھا ۔ اس طرح سے یہ خیر، امت میں عام ہوسکتا ہے اور پوری امت، خیر امت بن سکتی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK