• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’۱۹۸۴ء فساد میں رابوڑی میں پناہ گزیں مسلمانوں کیلئے دیگوں میں کھانا پکتا تھا‘‘

Updated: October 11, 2026, 6:26 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

۸۰؍سالہ اکبری رحیم مکرانی ۱۸۔ ۱۷؍ سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ جھانسی سے رابوڑی، تھانے آئیں اور پھر یہیں کی ہوکر رہ گئیں، ۲۵؍ سال تک سلائی اور پھر تقریباً اتنے ہی عرصے تک کپڑے فروخت کرکے بچوں کے تعلیمی اخراجات میں شوہر کا ہاتھ بٹایا۔

Akbari Rahim Makrani. Photo: INN.
اکبری رحیم مکرانی۔ تصویر: آئی این این

تھانے، پہلی رابوڑی کے ابراہیم مینشن میں رہائش پزیر ۸۰؍سالہ اکبری رحیم مکرانی کی پیدائش ۵؍ جنوری ۱۹۴۷ء کو مدھیہ پردیش کے جھانسی ضلع میں ہوئی تھی۔ جھانسی کے ایک سیکنڈری اسکول سے نویں جماعت تک پڑھائی کی۔ آگے بھی پڑھائی کی خواہش تھی لیکن گھر سے اجازت نہیں ملی۔ اس دور میں پردے کا بہت سخت اہتمام ہوا کرتا تھا۔ انہوں نے عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت مقامی مدرسہ سے حاصل کی۔ ۸؍سا ل کی عمر میں قرآن ِکریم مکمل کیا۔ اسکول اور مدرسہ سے فراغت کے بعد گھر میں والدہ کی سرپرستی میں امورِ خانہ داری کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ سلائی، کڑھائی، کروشیا اور دیگر گھریلو ہنر سیکھے جو آگے چل کر ان کےبہت کاآیا۔ 
ان کے بڑے بھائی اس دور میں تھانے، رابوڑی میں برسرروزگار تھے۔ جس وقت ان کی عمر ۱۷؍سال تھی، بڑے بھائی نے والدین کے ساتھ انہیں بھی رابوڑی بلا لیاتھا۔ اس وقت سے رابوڑی میں قیام پزیر ہیں ۔ اس دوران عارضی طور پر چندسال کلیان میں مقیم رہیں۔ کلیان میں ہی ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔ ان کے ۲؍ بچے ہیں۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ دونوں بچوں کی شادی ہوچکی ہے۔ انہوں نے اپنی والدہ کے طرز پر اپنی بیٹی کو بھی پڑھانے کے ساتھ امورِ خانہ داری اور کئی گھریلو ہنر سکھائے ہیں ۔ آج بھی پوری طرح سے چاق و چوبندا ور صحت مندہیں۔ گھریلو کاموں کے علاوہ نماز، تلاوت اور اذکار معمولات میں شامل ہیں ۔ انہوں نے آج بھی اپنے آبائی گائوں جھانسی سے رشتہ برقرار رکھا ہے۔ 
والدہ سے ملنے والی تربیت، اکبری بیگم کی زندگی میں کارآمد ثابت ہوئی۔ ان کے خاوند رحیم مکرانی مشین فٹر تھے۔ ان کی محدود آمدنی میں گھریلو بنیادی ضروریات کے ساتھ بچوں کی تعلیم و تربیت کے اخراجات پورےکرنا مشکل تھا۔ چنانچہ شادی کے ایک ۲؍سال بعد اکبری بیگم نے گھر میں کپڑوں کی سلائی کا کام شروع کیا، حالانکہ ان کے شوہر سلائی کرنے سے منع کر رہےتھے لیکن انہوں نے شوہر کو سمجھا بجھا کر اپنا کام جاری رکھا۔ شوہر کی تنخواہ سے گھریلو ضروریات اور اپنی کمائی سے بچوں کی پڑھائی کے اخراجات پورے کئے۔ ان کی سلائی کا کام وقت کےساتھ بڑھتاگیا۔ عام دنوں کے مقابلے رمضان المبارک میں محلے کی خواتین عید کیلئے انہی سے کپڑے سلواتی تھیں۔ رمضان میں روزہ رکھ کر گھریلو ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے وہ دن بھر سلائی کرنے کے علاوہ افطار کے بعددیر رات تک سلائی کرتی تھیں ۔ انہوں تقریباً ۲۵؍سال سلائی کا کام کیا۔ بینائی کے متاثر ہونے پر سلائی کا کام بند کر کے خواتین کے کپڑے فروخت کرنا شروع کیا، یہ کاروبار بھی برسوں جاری رہا۔ ان کاموں سے ہونے والی آمدنی سے انہوں نے دونوں بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا۔ 
اکبری مکرانی کو جھانسی کے مونی بابا محلہ ( بہارقلعہ علاقہ) میں واقع اپنے اسکول سےآج بھی بہت پیار ہے۔ وہ جب کبھی جھانسی جاتی ہیں، اپنا اسکول دیکھنے ضرور جاتی ہیں ۔ اسکول دیکھ کر بچپن کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ اسکول کے ساتھیوں کے علاوہ اساتذہ کے چہرے نظروں کے سامنے آجاتے ہیں ۔ 
اکبری مکرانی ۲۰۰۵ء میں حج بیت اللہ پر گئی تھیں۔ اتفاق سے اس سال مکہ مدینہ میں موسلادھار بارش ہوئی تھی۔ طوفانی بارش کی وجہ سے پورے شہر میں پانی بھر گیا تھا۔ پانی بھرنے سے ہونے والی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ تباہ کن سیلابی بارش کی وجہ سے متعدد عازمین جاں بحق ہوگئے تھے۔ عازمین کا ساز و سامان تنکوں کی طرح سیلابی پانی میں بہہ رہا تھا۔ ایسی تباہ کن بارش میں پانی میں بہنے والے سامان کو افریقی سمیٹ رہے تھے۔ اکبری مکرانی اسی دن موسلا دھار بارش میں شیطان کو کنکری مارنے گئی تھیں ۔ 
 اکبری مکرانی کے دادا کلن سردار، انگریزوں کے خانساماں تھے۔ انہیں کبوتر پالنے کا بہت شوق تھا۔ اپنے گھر میں کبوتروں کےپالنےکا باقاعدہ انتظام کر رکھا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا، جب ان کے پاس ۲۰۰؍ کبوتر تھے۔ موسم کے لحاظ سے انہوں نے ان کے رہنے کا انتظام کیا تھا۔ ان کے بڑے بڑے پنجرے تھے۔ ان کے چارے کے ذخیرے کیلئے علاحدہ جگہ بنائی تھی۔ علاوہ ازیں کبوتروں کے اُڑان کے مقابلوں میں بھی انہیں بڑی دلچسپی تھی۔ ان کے کبوتر بھی مقابلوں میں حصہ لیتے تھے۔ اکبری مکرانی کو اچھی طرح یاد ہے کہ ایک مرتبہ ان کے دادا ایک کبوتر کو دہلی لے گئے تھے۔ وہاں سے اس کبوترکو اُڑایا تھا، جو ۱۰۔ ۸؍ دنوں بعد داداکے گھر جھانسی پہنچا تھا۔ اس کے علاوہ بھی متعدد مرتبہ ان کے دادا کبوتروں کو مختلف مقامات سے اُڑاتے تھے جو اپنی جگہ لوٹ آتے تھے۔ 
 ۶۰ء کی دہائی کی سستائی سےمتعلق اکبری مکرانی کا ایک انتہائی دلچسپ تجربہ رہا ہے۔ اس دور میں سونا ۲۰۰؍روپے تولہ تھا۔ انہوں نے رابوڑی بازار کے جیولرس پھول چند کی دکان سے ۲۰۸؍ روپے تولہ کے حساب سے ۱۵؍تولے سونے کے زیورات مثلاً گلے کا ہار، انگوٹھی اورکڑا وغیرہ خریدے تھے۔ ۶۰؍سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کے پاس اب بھی وہ سارے زیورات محفوظ ہیں ۔ 
اکبری مکرانی کو فلم دیکھنے کا بھی شوق تھا۔ وہ اپنے خاوند کے ساتھ تھانے کے بھارت اور اشوک سنیما گھروں میں عموماً سنیچرکو فلم دیکھنے جاتی تھیں۔ اس دور میں ٹکٹ ایک روپے میں ملتا تھا۔ انہوں نے دلیپ کمار، ہیما مالنی اور آشاپاریکھ کو جوہو چوپاٹی پر تفریح کے دوران قریب سے دیکھا ہے۔ ان کا خیال ہےکہ فلموں میں کام کرنے کی وجہ سے ان کی شہرت اور اہمیت کچھ زیادہ ہوتی ہے ورنہ وہ بھی ایک عام انسان کی طرح ہیں۔ 
اکبری مکرانی نے ۱۹۸۴ء میں ہونے والے فرقہ وارانہ فساد کو قریب سے دیکھا ہے۔ شرپسندوں کے شرسے پریشان ہوکر رابوڑی سے متصل علاقوں کے مسلمانوں نے جان بچانے کیلئے رابوڑی میں پنا ہ لی تھی۔ رابوڑی کے مسلمانوں نے ان کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کیا تھا۔ بڑی بڑی دیگوں میں کھانا پکایا جاتا تھا۔ فساد کے ڈر سے رابوڑی کے مسلمان بھی خوف و ہراس کے ماحول میں جی رہے تھے۔ افواہوں کا بازار گرم تھا۔ لوٹ مار، خون خرابہ، پتھرائو اور آگ زنی کی خبریں اکثرآتی تھیں۔ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں ڈرے سہمے بیٹھے تھے۔ اس کے علاوہ یہاں ایک مرتبہ اور فساد ہوا تھا۔ خون خرابے اور قتل و غارت گری کے واقعات سے خوفزدہ ہوکر، اکبری مکرانی کے خاوند، اپنے بچوں کو لے کر احمد آباد منتقل ہوگئے تھے۔ رابوڑی کے ابراہیم مینشن کے گھر کے سارے سازوسامان کو چھوڑ کر یہ لوگ یہاں سے نکلے تھے۔ ایک مہینے بعد، جب صورتحال معمول پر آیاتو یہ لوگ احمدآباد سے رابوڑی آئےتھے۔ 
اکبری مکرانی کی بچپن کی خاص سہیلیوں میں حاجرہ، فاطمہ، خاتون اور ممتاز شامل تھیں۔ ان کے ساتھ وہ چھپا چھپی، لنگڑی، رسی اور جھولا جھولنے کا کھیل کھیلا کرتی تھیں ۔ انہیں گڑیاگُڈے کی شادی کرانے کا بھی بہت شوق تھا۔ سہیلیوں کے ساتھ گڑیا اور گُڈا خود بناتی تھیں۔ ان کیلئے شادی کےجوڑے کی سلائی بھی خود کرتی تھیں۔ ساری سہیلیاں اپنے گھروں سے دال، چاول اور خوردونوش کی دیگر اشیاء لاتی تھیں ۔ کھانا پکا کر نکاح کے شرکاء کی ضیافت کی جاتی تھی بعدازیں گڑیا کی رخصتی ہوتی تھی۔ بچپن کی ان یادوں کاجب خیال آتاہےتوان ساری باتوں کے بارے میں سوچ کر خو ب محظوظ ہوتی ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK