• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُردو: آئیے ! اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جائیں

Updated: October 11, 2026, 7:55 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

آزادی کے بعد ملک میں انگریزی کی سونامی آگئی۔ اسے روکنے کیلئے حکومت کی غلط سلط پالیسیوں سے انگریزی مزید طاقتور بن گئی اور ساری ہندوستانی زبانیں کمزور ہوتی گئیں۔

`Semi-English` education in schools is the need of the hour. Photo: INN
اسکولوں میں سیمی انگلش وقت کا تقاضا ہے۔ تصویر: آئی این این

آزادی کے بعد ملک میں انگریزی کی سونامی آگئی۔ اسے روکنے کیلئے حکومت کی غلط سلط پالیسیوں سے انگریزی مزید طاقتور بن گئی اور ساری ہندوستانی زبانیں کمزور ہوتی گئیں۔ ان میں سب سے زیادہ برق گری اردو پر کیونکہ اس کا اپنا کوئی آشیانہ نہیں تھا۔ اس ضمن میں ہر بار حکومتوں کو مورود الزام ٹھہرایا گیا مگر ہم اردو والوں نے اپنا محاسبہ نہیں کیا۔ بالآخر آزادی کی ان آٹھ دہائیوں میں ہم نے اردو کو انتہائی نگہداشت وارڈ میں پہنچا دیا۔ ایسے میں کسی پرنکتہ چینی نہ کرتے ہوئے اب یہ طے کریں کہ اب بھی ہم کیا کر سکتے ہیں۔ اردو کی قصیدہ خوانی اور نوحہ خوانی سے ہمیں حاصل کچھ نہیں ہوا۔ اگر ہم واقعی سنجیدہ ہیں اور اردو ثقافت کو صرف بچانا نہیں بلکہ وقار کے ساتھ زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حصے کی کم از کم ایک شمع روشن کرنا ہے۔ آئیے طے کریں، منتخب کریں اور سفر شروع کریں۔ 
والدین میں بیداری:
ہم میں سے ایک گروہ اس محاذ پر کام کرے جو والدین میں اردو زبان اور معیار تعلیم کے تعلق سے اعتماد بحال کرے۔ خامیوں سے متعلق والدین کی شکایتوں کا ازالہ کرے۔ اردو تعلیمی اداروں کے موجودہ معیار کے پس منظر میں والدین کے سوالوں کے جواب دینا محال بھی ہوگا البتہ اس ضمن میں یہ گروہ اپنا ہوم ورک بھی کرے اور اچھے اسکول ہی کی وکالت کرے۔ 
انگریزی میں روانی:
عالمی سطح پر چونکہ انگریزی زبان نے اپنی اہمیت کو منوا لیا کہ تمام جدید علوم سے متعلق اپ ڈیٹ کا بیش قیمت خزانہ اس زبان میں موجود ہے۔ اسی مناسبت سے اس زبان کی روانی سے دنیا متاثر ہوتی گئی لہٰذا ہمارے نوجوانوں کے پاس نالج اور معلومات ہو، اگر اس کا اظہار بے تکان، بلا تامل، برجستہ اور بے ساختہ کر سکتے ہوں تو وہ ترقی کے مراحل بآسانی پر کر سکتے ہیں۔ ہمارے اکثر اساتذہ کا محور نصاب کی تکمیل ہے۔ انگریزی زباندانی میں بھی ہمارے اساتذہ نصاب ہی پورا کر پاتے ہیں۔ انہیں انگریزی بول چال، اس میں روانی، بامحاورہ زبان کا استعمال اور اس میں اردو طلبہ میں خود اعتمادی پیدا کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ اب اس سلسلے میں اردو انتظامیہ اور اساتذہ کو فوری اقدام یہ کرنا ہے کہ اسکول کے اوقات سے قبل یا بعد روزانہ ایک گھنٹے کا انگریزی بول چال کا پریڈ ترتیب دیں اور اس کیلئے انگریزی کے اچھے اساتذہ پر انتظامیہ کو خرچ کرنے کی ترغیب دیں۔ 
اسکالرشپ/اولمپیاڈ کی تیاری:
تعلیمی نظام میں جتنے ’جھول‘ ہیں ان سب کا بڑا فائدہ غالباً ہمارے اساتذہ ہی لے رہے ہیں۔ ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ یہ زمانہ مقابلے بلکہ سخت مقابلے کا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی بناء پر بھی ہر کریئر اور ہر کورس کے دروازے پر ایک داخلہ امتحان کھڑا ہے۔ ان سارے داخلہ امتحانات کی بناء پر ہمارے لاکھوں طلبہ ہر سال ذہنی ٹارچر کا شکار رہتے ہیں البتہ اس کا عالمی سطح پر حل یہ رہا ہے کہ اسکول کی سطح کے اسکالرشپ/ اولمپیاڈ یعنی ذہنی آزمائش کے امتحانات کا انعقاد ہے۔ ہمارے ملک کے تعلیمی نظام نے ان انتہائی اہم امتحانات کو تمام طلبہ کیلئے لازمی قرار نہیں دیا۔ اسلئے ہمارے اساتذہ و انتظامیہ کی جانب سے سرد مہری برتی جاتی ہے۔ ۳۰؍ سال پہلے انہی کالموں میں ہم نے ایک سرخی لگائی تھی’’اردو میڈیم طلبہ کے والدین اسکولوں پر دھرنا دیں، مورچہ نکالیں اسکالرشپ امتحان کیلئے‘‘ کاش والدین نے ایسا ہی کیا ہوتا تو اب تک اس کے مثبت نتائج حاصل ہو چکے ہوتے!

یہ بھی پڑھئے: وہ ’’بہت کچھ‘‘ اور یہ ’’بہت کچھ‘‘ (۱)

جنرل نالج/ذہنی آزمائش کے مقابلے:
 صرف ملک بھر نہیں بلکہ عالمی سطح کے اہم داخلہ امتحانات دراصل عام معلومات اور ذہنی آزمائش ہی کے مقابلے ہوتے ہیں اور ان کی تیاری و ذہن سازی کیلئے اردو اسکولوں میں کوئی نظم موجود نہیں ہے۔ ۱۹۸۲ء میں جب ہم نے یہ مقابلے اردو اسکولوں کے مابین شروع کئے تب بمشکل ۱۰؍ فیصد اسکولیں ان میں حصہ لیتی تھیں۔ پھر ہم نے ضلع/وارڈ کے ایجوکیشن افسر کو بطور مہمان خصوصی مدعو کرنا شروع کیا تب۹۵؍ فیصد سے زائد اسکولیں حاضر رہنے لگیں۔ آج بھی اگر حکومت کا جی آر آجائے کہ ان قسم کے تعلیمی مقابلوں میں بچوں کو شریک کرنا لازمی ہے ورنہ اساتذہ کی تنخواہ سے ۱۰؍ فیصد کٹوتی ہوگی تو ۱۰۰؍ فیصد اردو اسکولیں شریک ہوں گی۔ ان مقابلوں میں شرکت کے ضمن میں بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ اسکولوں میں چند ذہین بچوں کواس کیلئے تیار کیا جاتا ہے لہٰذا اگر کسی اسکول کے ۸۰۰؍ طلبہ میں سے۲؍ یا ۳؍ طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے تو ظاہر ہے اتنے ہی طلبہ کے جنرل نالج میں اضافہ ہوگا اور اسکول کے باقی ماندہ طلبہ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس اسکول کے ۸۰۰؍ طلبہ کے مابین پہلے کلاس وائز اسکولی سطح پر مقابلے ہوں جو سارے طلبہ کے سامنے ہوں اور ان میں سے چند طلبہ کو اسکول کے باہر کے فائنل مقابلے کیلئے بھیجا جائے۔ 
کریئر کی رہنمائی:
لگ بھگ نصف صدی تک ہمارے یہاں ایس ایس سی رزلٹ کا جشن منایا جاتا رہا۔ اس کے آگے کی دنیا کا علم چند طلبہ و والدین کے پاس تھا اور وہ اسے بانٹنے کیلئے بھی تیار نہیں تھے۔ اب نصف صدی سےجو کوششیں شروع ہوئیں تب یہ ایک تحریک بن گئی اور ملک بھر میں کریئر کی رہنمائی کے پروگرام منعقد ہونے لگے۔ محکمہ تعلیم نے ان انتہائی مفید پروگراموں کا انعقاد یا ان میں شرکت کو لازمی قرار دینے والا جی آر نہیں نکالا، اسلئے ہمارے اساتذہ اور انتظامیہ کوئی توجہ نہیں دیتے۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ کریئر کی رہنمائی کے بغیر وہ سارے طلبہ ایک مستقل بے سمتی اور پھر ذہنی اضطراب و فرسٹریشن کا شکار ہو جائیں گے۔ اگر اردو اسکولوں کو بچانا ہے تو ان اسکولوں میں سالانہ کریئر رہنمائی کا کم از کم ایک کیمپ منعقد ہو!
سیمی انگلش:
ملک کی چار ریاستوں مہاراشٹر، کرناٹک، بہار اور بنگال میں یہ سہولت دستیاب ہے کہ اردو میڈیم کے اسکولوں کو سیمی انگلش میں تبدیل کر سکتے ہیں یعنی وہاں کے اردو اسکولوں میں ریاضی اور سائنس جیسے اہم مضامین اگر انگریزی میں پڑھائے جائیں تب بھی حکومت اپنے مالی امداد جاری رکھے گی یعنی حکومت کے خرچ سے ایک نیم انگریزی اسکول چلانے کی اجازت! ہمارے اکثر اساتذہ محنت سے بچنے کیلئے ہزار بہانے جوڑ کر اس اہم سہولت کا فائدہ اٹھانے کو تیار نہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اردو کے پرائمری اسکول کی سطح ہی سے صرف ریاضی اور سائنس ہی نہیں بلکہ سوشل اسٹڈیز کی اصطلاحات کو بھی قوسین میں انگریزی زبان میں لکھائیں، یاد کرائیں اور اس کے علاحدہ امتحان لیں۔ اس سے کیا ہوگا؟ آگے چل کر ہمارے اردو طلبہ کو انگریزی میڈیم جونیئر کالج میں بڑی آسانی ہوگی۔ میں نے ۲۰؍ سال قبل ’اردو انگلش بھائی بھائی‘ اور ’دوستی انگلش اردو‘ کے نام سے دو کتابیں مرتب کیں جن میں ریاضی کی ہزاروں انگریزی اصطلاحات کو اردو میں ڈھالا۔ اس قسم کی کوششوں کیلئے اگر اساتذہ کی کوئی ٹیم میدان میں اترے تو یہ بڑی خدمت ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: تخریب میں تعمیر کا نقشہ

مصنوعی ذہانت کا استعمال:
انسان کی پہلی ایجاد جو انسان کے ہاتھ سے نکلی جارہی ہے وہ ہے مصنوعی ذہانت! اسلئے مغربی ممالک نے بھی اس کا استعمال تعلیمی اداروں کیلئے نقصان دہ قرار دیاہے کیونکہ ڈر اس بات کا ہے کہ طلبہ کہیں صرف نقلچی بن کر نہ رہ جائیں البتہ اردو اداروں میں تعلیم و تحقیق کے کچھ شعبوں میں استعمال ناگزیر ہو گیا ہے۔ 
ڈیجیٹل دنیا : پلک جھپکنے سے پہلے ہی کروڑوں لوگوں تک پہنچنے والے میڈیا سے ہمیں اردو کو احسن طریقے سے جوڑنا ہوگا۔ ہمارے نوجوان اس میں محنت کریں اور اردو میں ویب سائٹس ’ بلاگز پوڈکاسٹ‘ ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر معیاری اردو تعلیم کا مواد مسلسل تیار کریں۔ 
موبائل کی زبان:
طلبہ اور ہمارے نوجوان اسمارٹ فون کا استعمال تو کر ہی رہے ہیں۔ انہیں ترغیب دی جائے کہ موبائل کی زبان کو اردو بنائیں اور اس کیلئے اردو ’کی بورڈ‘ اردو ایپس اور اردو ٹائپنگ سے مانوس کیا جائے۔ 
اُردو کتابوں کی نئی شکل:
اب دور آگیا ہے کہ صرف روایتی کتابوں پر انحصار کرنے کے بجائے ای بکس، آڈیوز بکس اور انٹراکٹیو کتابیں بھی بنائی جائیں ۔ نوجوانوں کو ہم یہ ایجنڈا بھی دے رہے ہیں کہ وہ اردو کے بہترین فونٹس او سی آر، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ اور ٹیکسٹ ٹو اسپیچ کو عام کریں۔ 
اساتذہ کی تنظیمیں :
اساتذہ کے حقوق کیلئے ہر ریاست میں ہر زبان کے اساتذہ کی تنظیمیں متحرک رہتی ہیں۔ ہم ان تنظیموں کو ایک مشورہ دینا چاہیں گے کہ وہ حکومت سے یہ مطالبہ کریں کہ(الف) جن اردو اسکولوں کے اساتذہ کے بچے اردو اسکولوں میں نہ پڑھ رہے ہوں ان کی تنخواہ سے کم از کم۱۰؍ فیصد کٹوتی ہو اور (ب) جن اساتذہ کے بچے ان کے اپنے اردو اسکول میں پڑھ رہے ہوں ان اساتذہ کی تنخواہ میں ۱۰؍ فیصد کا اضافہ کیا جائے۔ اردو اسکولوں کو بچانے کیلئے یہ دوا کڑوی ہے مگر بے حد ضروری ہے۔ 
اردو کا ہر سپاہی مندرجہ بالا میں سے کسی ایک محاذ پر اپنی سکت بھر کام کرے اور دل جمعی سے ڈٹ جائے تو اب بھی ہم اردو کو نہ صرف بچا سکتے ہیں بلکہ اسے وقار کے ساتھ زندہ رکھ سکتے ہیں !

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK