• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قاری نامہ: دہلی پولیس کی مظاہرین پر سختی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

Updated: October 11, 2026, 7:50 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں سے نمٹنے کیلئے دہلی پولیس کا رویہ ان دنوں صرف ملک نہیں بلکہ بیرون ملک بھی موضوع بنا ہوا ہے۔ پولیس اہلکاروں کے رویوں کو دیکھ کر ان پر یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ نظم و نسق برقرار رکھنے اور قانون کے نفاذکی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بجائے صرف حکومتی فرمان کی تابع داری کررہے ہیں، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ہی ملک کے نوجوانوں اور طلبہ، بالخصوص طالبات نے بھی ان پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اگر طاقت کا استعمال ناگزیر ہو تو وہ واضح قانونی بنیاد پر ہونی چاہئے


دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے طرزِ عمل نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں پُرامن احتجاج شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ خصوصاً طلبہ، نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کو اپنے تحفظات اور اختلافِ رائے کو پُرامن اور آئینی طریقے سے حکومت اور متعلقہ اداروں تک پہنچانے کا پورا حق ہونا چاہیے۔ اس حق کو محض اختلاف یا تنقید کی بنیاد پر محدود کرنا جمہوری مزاج کیلئے مناسب نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پولیس کی بنیادی ذمہ داری قانون و نظم برقرار رکھنا اور عام شہریوں کے جان و مال، آمدورفت اور روزمرہ زندگی کا تحفظ کرنا ہے۔ احتجاج کے دوران اگر ٹریفک، عوامی سہولیات یا امن و امان متاثر ہونے کا حقیقی خدشہ پیدا ہو تو انتظامیہ کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مناسب اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اصل سوال پولیس کی کارروائی کے جواز، طریقۂ کار اور تناسب کا ہے۔ اگر طاقت کا استعمال ناگزیر ہو تو وہ کم سے کم، متناسب اور واضح قانونی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ اسی طرح مظاہرین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کی حدود برقرار رکھیں، عوامی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں اور عام شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ مرکزی وزیر چراغ پاسوان کا حالیہ بیان اس معاملے میں ایک متوازن سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے احتجاج کے جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہوئے نوجوانوں کو اپنی بات رکھنے کا حق دینے کی بات کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مسائل کا دیرپا حل احتجاج کے بجائے مکالمے سے نکلتا ہے اور عام لوگوں کو غیرضروری مشکلات میں ڈالنا مناسب نہیں۔ 
میری نظر میں اس وقت ضرورت کسی ایک فریق کو مکمل طور پر درست یا غلط قرار دینے کی نہیں بلکہ مکالمے کا راستہ کھولنے کی ہے۔ حکومت کو مظاہرین کے سوالات سننے چاہئیں، پولیس کو قانون اور تناسب کا خیال رکھنا چاہیے اور مظاہرین کو بھی آئینی حدود اور عوامی مفاد کا احترام کرنا چاہیے۔ جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ اختلاف کی آواز بھی سنی جائے اور قانون کی بالادستی بھی ہر حال میں برقرار رہے۔ 
فرید احمد خان(صدر، اردو کارواں، ممبئی)
مظاہرین پر کارروائی اور ملزمین کو سیکوریٹی، یہ کہاں کا انصاف ہے؟


ایس آئی ار کے نام پر الیکشن کمیشن کی من مانی بہار سے شروع ہوئی تھی اور اب ملک کی آدھی آبادی کا احاطہ کرچکی ہے مگر اس پر لگام نہیں لگائی گئی۔ کہیں ووٹرس کے نام بڑھائے جارہے ہیں تو کہیں حذف کئے جارہے ہیں۔ الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا دیگر دو الیکشن کمشنروں کے اعتراض کے باوجود من مانی کر کے بڑے بڑے فیصلے صادر کرنا آئینی ادارہ الیکشن کمیشن پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کرتا ہے۔ جس کا ردعمل احتجاج کی صورت میں سامنے آیا۔ اکثریت آج بھی ان طلبہ نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کی ہے جو حق رائے دہی کی پامالی پر آواز بلند کرنے اور سوال اٹھانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ گیانیش کمار پر کئی سنگین الزامات عائد ہیں، اس کے باوجود اس پر بات نہیں ہورہی ہے۔ یہ جمہوریت پر ایک طمانچہ ہے لہٰذا، عوام کی جانب سے استعفیٰ کی مانگ جائز ہے۔ ایسے میں دہلی پولیس کا رویہ افسوسناک ہے۔ طلبہ کے ساتھ پولیس کا رویہ محافظ کے بجائے غنڈوں جیسا ہے۔ مظاہرین کو حراست میں لے کر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے۔ پولیس کی جانب سے یکطرفہ اور جانبدارانہ کارروائیاں قابلِ مذمت ہیں۔ پولیس اہلکاروں کا اولین فریضہ ملک کے قوانین کا نفاذ ممکن بنانا ہے۔ پیپر لیک معاملے میں جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں دہلی پولیس کا رویہ جارحیت پسند تھا جس پر کورٹ نے سخت سرزنش کی تھی اس کے باوجود بھی جاری مظاہرہ میں طلبہ لیڈروں، صحافیوں اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ مجرموں کی طرح ان کو حراست میں لیا گیا جبکہ مجرمین اب بھی آزاد ہیں۔ پولیس کی یہی کارروائیاں مجرموں کو پکڑنے کیلئے ہوتیں تو آج طلبہ اور نوجوان سڑکوں پر نہیں تعلیمی اداروں میں نظر آتے اور ملک امن وامان میں رہ کر ترقی کے راستے پر گامزن ہوتا۔ 
انصاری قنوت وکیل احمد ( معاون معلمہ، رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج)
پولیس کو بتانا چاہئے کہ کیااحتجا ج کرنا عوام کا آئینی حق نہیں ہے ؟


موجودہ وقت میں ملک کے حالات بہتر نہیں ہیں ۔ خاص کر گیانیش کمار کے کارناموں کا پردہ فاش ہونے کے بعد جمہوری حقوق کو بچانے کیلئے ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج جاری ہیں۔ ان میں دہلی احتجاج کا چرچا سب سے زیادہ ہے۔ دہلی میں طلبہ، نوجوانوں ، سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کے احتجاج کے دوران پولیس کے طرزعمل کو سمجھنے کیلئے ہمیں چند باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ ان میں ایک اہم بات یہ ہے کہ احتجاج کی اصل وجہ کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟دوسری یہ کہ جمہوری نظام میں احتجاج محض حکومت کیخلاف آواز اٹھانے کا نام نہیں بلکہ غلط کارناموں کو اجاگر کرنا اور عوام کی شکایت اور مسائل کے اظہارکا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ احتجاج کے دوران پولیس کے رویے کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے طلبہ اور عوام کے حقوق کا کس حد تک تحفظ کرتی ہے۔ 
دہلی میں جنتر منتر کے اطراف ہونے والے احتجاج میں دہلی پولیس نے سیکڑوں افراد کو حراست میں کیوں لیا ؟ کیااحتجا ج کرنا عوام کا آئینی حق نہیں ہے ؟ ہمارا آئین ہر ہندوستانی کو اظہار رائے اور پر امن طریقے سے احتجاج کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت گھبرائی ہوئی اور خوف زدہ ہے۔ وہ یہ جانتی ہے کہ اگر عوام کا ایک بڑا طبقہ سڑکوں پر اتر آیااور اس کے خلاف مظاہر ہ کرتا رہا تو اس کی حکومت کو خطرہ لاحق ہوگا۔ گیانیش کمار کو بچانے کے مقصد سے دہلی پولیس نے احتجاج کو منتشرکرنے، لاٹھی چارج اور بڑے پیمانے پر سخت اقدامات کیے۔ اگرچہ پولیس کو امن وامان برقرار رکھنے اور تشدد روکنے کی ذمے داری حاصل ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہر احتجاج کو طاقت اور زور کے بل پر ختم کردیا جائے اور شہریوں کی جائز آواز کو دبادیا جائے۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ کیا پولیس کی کاروائی کسی قانونی اختیار کے مطابق کی گئی؟کیا احتجاج پر پابندی کا حکم نافذ تھا؟کیا دہلی کے حالات ایسے تھے کہ پولیس کو اپنی طاقت کا استعمال کرنا ضرور ی تھا؟نہیں، بالکل نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہاں نہ تو شہریوں کے حقوق کا احترام کیا گیا اور نہ ہی پولیس کی کاروائی امن وامان کی ضرورت کے مطابق کی گئی۔ مجموعی طورپر اگر ہم دیکھیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پولیس کی یہ کاروائیاں کسی بڑے آقا کے حکم پر کی گئی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: آج بھی گرم ہے بازار جفا کاروں کا

ڈاکٹر محمد زبیر
(کوآرڈی نیٹر مانو، ایم ایس کالج، ممبرا)
کیا اختلافِ رائے کا جواب طاقت کا استعمال ہوتا ہے؟


دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ، نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور سیاسی لیڈروں کے ساتھ دہلی پولیس کے رویے کو دیکھتے ہوئے سب سے بنیادی سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اختلافِ رائے کا جواب طاقت کے استعمال سے دیا جانا چاہیے؟میری نظر میں کسی بھی جمہوری نظام میں احتجاج محض سڑک پر جمع ہونے کا نام نہیں بلکہ عوام کو اپنی آواز ریاست اور متعلقہ اداروں تک پہنچانے کا ایک آئینی و جمہوری ذریعہ ہے۔ خاص طور پر جب معاملہ انتخابات اور الیکشن کمیشن جیسے اہم آئینی ادارے سے متعلق ہو تو عوامی سوالات اور سیاسی اختلاف کو سنجیدگی سے لینا جمہوری عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔ 
پولیس کا بنیادی کام امن و امان قائم رکھنا اور قانون کی خلاف ورزی کو روکنا ہے، لیکن قانون نافذ کرنے اور اختلاف کو دبانے کے درمیان ایک واضح فرق ہے۔ اگر پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ، نوجوانوں یا سیاسی کارکنوں کے ساتھ طاقت اور جارحیت کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے صرف احتجاج کرنے والوں کے حقوق ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ یقیناً احتجاج کے نام پر تشدد، توڑ پھوڑ یا قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایسے واقعات میں پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہئے، لیکن کارروائی کا معیار سیاسی وابستگی نہیں بلکہ قانون ہونا چاہیے۔ پولیس کو یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ وہ کسی سیاسی فریق کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔ 
الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے کی ساکھ کا تعلق صرف اس کے فیصلوں سے نہیں بلکہ عوام کے اس اعتماد سے بھی ہے کہ انتخابات اور ان سے متعلق ادارے سیاسی دباؤ سے آزاد ہیں۔ اسی طرح پولیس کی ساکھ بھی اس بات سے بنتی ہے کہ وہ حکومت کے حکم کی نہیں بلکہ آئین اور قانون کی پابند ہے۔ میرے نزدیک مضبوط جمہوریت وہ نہیں جہاں اختلاف کی آواز سنائی نہ دے، بلکہ وہ ہے جہاں اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ احتجاج کو طاقت سے خاموش کرنے کے بجائے سوالات کا جواب آئینی اور جمہوری طریقے سے دینا ہی ریاستی اداروں کے وقار اور جمہوری نظام دونوں کے مفاد میں ہے۔ 
درخشاں فاطمہ شیخ
ایم اے (سیاسیات، ممبئی یونیورسٹی)
احتجاج جمہوریت کا بنیادی حق ہے، جرم نہیں !
دہلی میں طلبہ، نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کے احتجاج کے دوران پولیس کا جارحانہ رویہ جمہوری اقدار، شہری آزادیوں اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کرتا ہے۔ جمہوریت میں پولیس کا بنیادی فریضہ امن و امان برقرار رکھنا، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا اور قانون کا غیر جانب دارانہ نفاذ ہے، نہ کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی ناراضگی سے بچنے کیلئے احتجاج کرنے والوں کو دبانا۔ 
احتجاج کسی بھی زندہ جمہوریت کا لازمی حصہ ہے۔ جب شہریوں کو کسی فیصلے، پالیسی یا آئینی ادارے کے کام کاج پر اعتراض ہو تو انہیں اپنی آواز بلند کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے مطالبات سے اتفاق یا اختلاف ایک الگ معاملہ ہے، لیکن ان کے جمہوری حقِ احتجاج کا احترام کرنا ہر حال میں ضروری ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن کے خلاف برہمی کے بیچ سپریم کورٹ پر اُٹھنے والی انگلیاں توجہ طلب

دہلی پولیس کا رویہ اگر واقعی طاقت کے بے جا استعمال، بدسلوکی اور پرامن مظاہرین کو خوف زدہ کرنے پر مبنی ہے تو یہ محض انتظامی زیادتی نہیں، بلکہ جمہوری روح کے منافی ہے۔ پولیس کی وردی اسے اختیارات ضرور دیتی ہے مگر ان اختیارات کے استعمال پر آئین، قانون اور انسانی وقار کی پابندیاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حکومت کے بجائے آئین کے وفادار رہیں اور ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کریں۔ 
حکومتوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ لاٹھی، گرفتاری اور خوف کے ذریعے آوازوں کو دبایا تو جا سکتا ہے، لیکن اختلافِ رائے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت کی مضبوطی تنقید برداشت کرنے، سوالات کے جواب دینے اور احتجاج کے حق کو تسلیم کرنے میں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہلی پولیس کے طرزِ عمل کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے اور کسی بھی زیادتی کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کا احتساب ہو۔ کیونکہ پولیس کی طاقت عوام کو خاموش کرانے میں نہیں، بلکہ ان کے حقوق کے تحفظ میں مضمر ہے۔ 
رحیمہ محمد شفیع میمن
(سابق طالبہ، اے ای کالسیکر ڈگری کالج، ممبرا)
جلیان والہ باغ کا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاستی طاقت کا استعمال ہمیشہ ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ ہونا چاہئے


دہلی پولیس کی کارروائیوں بالخصوص طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف اس کی جارحیت پر سوال اٹھانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ۲۰۔ ۲۰۱۹ء میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران بھی ملک بھر میں بڑی تعداد میں نوجوان، خصوصاً مسلمان، اپنی شہریت اور آئینی حقوق کے حوالے سے اپنے خدشات کے اظہار کیلئے سڑکوں پر آئے تھے۔ اس دوران کئی مقامات پر پولیس کارروائی، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال پر بحث اور سوالات اُٹھے تھے۔ آج بھی اُن دنوں کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ حکومت کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں کے حقوق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری، دونوں کو سنجیدگی سے سمجھا جائے۔ 
جولائی میں جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج نے ایک بار پھر نوجوانوں کو اپنے مطالبات اور حقوق کیلئے آواز اٹھانے کا موقع دیا۔ تاہم بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پولیس کے برتاؤ اور طاقت کے استعمال پر جو سوالات سامنے آئے، ان کا شفاف جواب ملنا ضروری ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں احتجاج اور اختلافِ رائے شہری زندگی کا حصہ ہیں، اور ان سے نمٹنے کیلئے قانون، تناسب اور انسانی وقار کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ ماضی کے واقعات، خصوصاً جلیان والہ باغ، ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ریاستی طاقت کا استعمال ہمیشہ ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ ہونا چاہئے۔ تاریخ سے سبق لینے کا مطلب یہ ہے کہ آج کے حالات میں بھی شہری آزادیوں، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کو اہمیت دی جائے۔ 
اسی تناظر میں گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے اور اس کیلئے ہونے والے احتجاج کو بھی جمہوری عمل کے دائرے میں دیکھا جانا چاہیے۔ نوجوانوں سمیت ہر شہری کو اپنے مطالبات پرامن اور آئینی طریقے سے پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اس کے اسباب کو سمجھنا اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا ہی ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔ 
ماریہ عقیل شیخ (طالبہ، ممبئی یونیورسٹی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK