• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کیلئے قومی وسائل کا ناجائز استعمال

Updated: October 11, 2026, 7:57 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

بیجاپور کے بابلیشور حلقے میں ۱۰؍ افراد نے فارم ۷؍ کے ذریعہ ۱۳؍ سو سے زیادہ ناموں کے اخراج کی عرضی دی تھی جن میں بیشتر مسلم ووٹرس تھے۔

The true nature of the SIR has been exposed; that is why it is now facing nationwide opposition. Photo: INN
ایس آئی آر کی پول کھل چکی ہے، اسلئے اب اس کی مخالفت ملک گیر سطح پر ہورہی ہے۔ تصویر: آئی این این

ملک گیر سطح پر انتخابی عمل میں شفافیت لانے کے عنوان سے الیکشن کمیشن کے ذریعہ گزشتہ برس ایس آئی آر کی جو قواعد شروع کی گئی تھی، اس کی اصلیت اب مکمل طور پر عیاں ہو چکی ہے۔ اس قواعد کی اصلیت اس قدر تشویش ناک ہے کہ اس سے ملک کا جمہوری نظام اور کروڑوں عوام کا حق جمہور معرض خطر میں پڑ گیا ہے۔ بنام شفافیت اس قواعد کو روبہ عمل لانے کا جو طریق کار کمیشن نے اختیار کیا، اس سے ہی یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ ’دال میں کچھ کالا ہے۔ ‘ آر ٹی آئی کارکن انجلی بھاردواج نے جب ایس آئی آر کی قانونی حیثیت کے بارے میں سوال کیا تو کمیشن کے چیف پبلک انفارمیشن آفیسر اورکمیشن کے پرنسپل سکریٹری نے جواب دیا تھا کہ اس طرز کی کسی بھی کارروائی کے متعلق کمیشن نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس جواب کے منظر عام پر آنے کے باوجود یہ قواعد جاری رہی اور بہارو بنگال جیسی ریاستوں میں لاکھوں افراد کو ضابطوں کی پیچیدگی میں الجھا کر حق رائے دہی سے محروم کر دیا گیا۔ ملک و معاشرہ سے مخلصانہ وابستگی اور اپنی پیشہ ورانہ دیانتداری کو تمام مفادات اور مصلحتوں پر فوقیت دینے والے صحافیوں کی تفتیشی صحافت نے اب اس ’کالی دال‘ کو پوری طرح عوام کے سامنے لا دیا ہے اور اب یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ حکومت کیوں ’ون نیشن ون الیکشن‘ کیلئے کوشاں ہے۔ گیانیش کمار نے اپنی تقرری کا احسان چکانے کی غرض سے اقتدار کو فائدہ پہنچانے کیلئے جو تدابیر اختیار کیں ان سے صریح طور پر الیکشن کمیشن جیسے محترم آئینی ادارے کا اعتبار و وقار مجروح ہوا ہے۔ سندھو اور جوشی کے منطقی اور جائز اختلافات اس تشویش ناک صورتحال کی توثیق کرتے ہیں۔ 
اقتدار کے ذریعہ الیکشن کمیشن کو اپنی مرضی کا تابع بنانے کی زور آزمائش بہت پہلے سے جاری ہے۔ ۲۰۱۴ء کے بعد ہونے والے تمام انتخابات اس زور آزمائش کی کہانی بیان کرتے ہیں جس کی سب سے نمایاں مثال انتخابی ضابطوں کی عدم پیروی کے نام پر جزب اختلاف کو پریشان کرنا اور بھگوا لیڈروں کے ذریعہ ان ضابطوں کی صریح خلاف ورزی کے باوجود کونی کارروائی نہ کرنا ہے۔ جن الیکشن کمشنروں نے اقتدار کی خواہش پر اپنی آئینی ذمہ داری اور جوابدہی کو ترجیح دی انھیں مستعفی ہونا پڑا۔ اس ضمن میں اشوک لواسا اور ارون گوئل کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ اب جبکہ گیانیش کمار کی شکل میں اقتدار کو ایسا الیکشن کمشنر مل گیا ہے جو بنام جمہوریت اقتدار پر قابض رہنے کے ان کے منصوبوں کو اپنی تدابیر (سازش) کے ذریعہ عملی شکل دینے کیلئے کوشاں ہے، اقتدار ان کے توسط سے ہر اُس امکان کو معدوم کر دینا چاہتا ہے جو اقتدارپر اس کی گرفت کو کمزور کرنے اور اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو عدم تحفظ اور محرومی کے احساس سے ابرنے میں معاون ہو۔ 

یہ بھی پڑھئے: یہ خوش آئند ہے!

۲۰۱۹ء کے پارلیمانی الیکشن سے ذراقبل ممبئی یونیورسٹی میں شعبہ ٔ اردو کے صدر مرحوم پروفیسر صاحب علی سے حالات حاضرہ پر گفتگو کے دوران راقم الحروف نے کہا تھا کہ انتخابات کے بعد وزارتوں کی تقسیم میں وزارت داخلہ کا قلمدان امیت شاہ کے حصے میں آئے گا اور اس جملے کا اختتام اس فقرہ پر ہوا تھا کہ مسلمانوں کو حق انتخاب سے محروم کرنے کی پرزور کوشش کی جائے گی۔ اس وقت یہ فقرہ برجستہ انداز میں ادا ہوا تھا حالانکہ ذہن میں یہ ایسا کوئی واضح تصور نہیں تھا کہ اس منصوبے کو رو بہ عمل لانے کیلئے کیا تدابیر اختیار کی جائیں گی لیکن اب ایس آئی آر کی شکل میں جو قواعد جاری ہے وہ برسوں قبل ظاہر کئے گئے اس خدشہ کی واضح عملی شکل ہے۔ اس قواعد کے ذریعہ ملک گیر سطح پر مسلمانوں کو حق انتخاب سے محروم کرنے کے کئی معاملات سامنے آ چکے ہیں جن میں بی ایل اونے بھی اعتراف کیا ہے کہ ان پر حکام کے ذریعہ یہ دباؤ بنایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے نام انتخابی فہرست سے حذف کر دیئے جائیں ۔ اس سلسلے کا تازہ معاملہ کرناٹک کے ضلع بیلگام کا ہے جہاں بی جے پی لیڈر روی پاٹل اور اس کے ساتھیوں نے فارم ۷؍ کے ذریعہ انتخابی فہرست سے مسلمانوں کے نام حذف کرنے کیلئے بی ایل او پر دھونس جمانے کی کوشش کی۔ ان بھگوا عناصر کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر ہو چکی ہے۔ اسی طرح ضلع بیجاپور کے بابلیشور انتخابی حلقہ میں ۱۰؍ افراد نے فارم ۷؍ کے ذریعہ ۱۳؍ سو سے زیادہ ناموں کے اخراج کی درخواست دی تھی جن میں اکثریت مسلمان رائے دہندگان کی تھی۔ ایس آئی آر کی قواعد کے ذریعہ مسلمانوں کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی رائے دہندگان کے ناموں کو غلط طریقہ سے حذف کئے جانے کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ضمیر زندہ، غیرت باقی

اس وقت اقتدار جن کے ہاتھو ں میں ہے وہ نظریاتی طور پر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو اس ملک پر بار سمجھتے ہیں اور گزشتہ بارہ برسوں سے ان کی سماجی اور معاشی زندگی کو محرومی اور ہراسانی کے حصار میں مقید کرنے کے مختلف حربےاستعمال کئے جا رہے ہیں۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ مادر وطن کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے میں مسلمانوں نے جو قربانیاں دی ہیں، اس کی برابری تو دور کی بات ہے ایک فیصد بھی آر ایس ایس کی تاریخ میں کہیں درج نہیں ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد اس کی ترقی اور خوشحالی میں بھی مسلمانوں نے دیگر ہندوستانیوں کے ساتھ نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ اس ناقابل تردید حقیقت کے باوجود موجودہ فسطائی ارباب اقتدار مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کیلئے سرکاری مشنری اور قومی وسائل کا ناجائزہ استعمال کر رہے ہیں اور ایس آئی آر کی قواعد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK