Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’فساد میں پاؤں پر گولی لگنے کے باوجود رسی کے سہارے کئی کلومیٹر تک گھسٹتا رہا‘‘

Updated: April 05, 2026, 9:32 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

نوی ممبئی کی معروف سماجی، تعلیمی، سیاسی اور ادبی شخصیت اقبال عبدالرزاق کوارے گزشتہ ۵۰؍برسوں سے کانگریس پارٹی سے وابستہ ہیں ، عمر کے اس مرحلے پر بھی انجمن اسلام جیسے معروف تعلیمی ادارے کے ساتھ کئی اہم اداروں میں اہم ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔

Iqbal Abdul Razak Quare. Photo: INN
اقبال عبدالرزاق کوارے۔ تصویر: آئی این این

کوپر کھیرنے، نوی ممبئی کی معروف سماجی، تعلیمی، سیاسی اور ادبی شخصیت اقبال عبدالرزاق کوارے کی پیدائش ۱۰؍ جنوری ۱۹۴۹ء کو کوکن، چپلون تعلقہ کے ڈونولی گائوں میں ہوئی تھی۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں والد کا انتقال ہونے سے اقبال کوارے کی پرورش مشترکہ خاندان کی سرپرستی میں ہوئی۔ ڈونولی اُردو ضلع پریشد اسکول سے ساتویں تک پڑھائی کی۔ آگے کی پڑھائی جنوبی ممبئی کے مدنپورہ نائٹ ہائی اسکول سے کی۔ اسکول کے زمانے ہی سے ڈراما نگاری اور تھیٹر سے وابستگی رہی۔ ڈرامے کے شوق نے اُس دور کےماہر ڈراما نگاروں سے قربت حاصل کرنے میں مدد کی۔ متعدد مایہ ناز ڈراموں کو اسٹیج پر پیش کرنے کا شرف حاصل رہا۔ ایک ڈراما کے دوران فلم رائٹر ظفراحسن سے ملاقات ہوئی۔ اقبال کوارے کی ہمہ جہت خوبیوں اور صلاحیتوں سے متاثر ہو کر انہوں نے انہیں اپنا شاگرد بنا لیا تھا۔ ان کی سرپرستی میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ کئی ڈراموں کیلئے بہترین ڈراما نویس اور اداکار کے اعزاز سے نوازاگیا اورانہیں پرنس کوارے کا خطاب بھی دیا گیا ۔ 
اسی درمیان زندگی میں ایک ایسا موڑ بھی آیا، جہاں انہوں نے ثقافتی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے بطور بوائلر اٹینیڈ عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ڈیڑھ سال ریمنڈ مل اور۶؍سال سعودی عرب میں ملازمت کی۔ ۱۹۸۲ء میں ممبئی سے کوپر کھیرنے منتقل ہوئےاورآج بھی وہیں قیام پزیر ہیں ۔ اس دوران مچھلی اور موٹر ٹریننگ اسکول کا کاروبار کیا۔ کانگریس پارٹی سے قریبی تعلق رہا۔ گزشتہ ۵۰؍برسوں میں پارٹی کے کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ نوی ممبئی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے سابق چیئرمین بھی رہے۔ انجمن اسلام کے علاوہ آئی کے فائونڈیشن، لائنس کلب ا نٹرنیشنل اور دیگر کئی اداروں کیلئے اس عمر میں بھی خدمات پیش کر رہے ہیں ۔ 
ڈونولی گائوں میں سیکنڈری اسکول نہ ہونے سے اقبال کوارے کو ۱۳؍سال کی عمر میں آگے کی پڑھائی کیلئے گائوں کے ایک شخص کے ساتھ والدہ نے کچھ پیسوں کا انتظام کر کے ممبئی بھیجا تھا۔ ان کے ایک چاچا ممبئی میں پہلے سے رہتے تھے۔ انہوں نے اقبال کوارے کا نام اسکول میں لکھانے کے بجائے، انہیں ایک ہوٹل مالک کے حوالے کر دیا جہاں ان سے ہوٹل کافرش اور جھوٹے برتن دھونے کیلئے کہا گیا۔ یہ کام انہیں پسند نہیں تھا۔ انہوں نے کسی طرح یہاں سے راہِ فرار اختیار کی۔ اسی دوران ایک شخص سے ملاقات ہوئی جس نے دن میں کام کرتے ہوئے نائٹ اسکول میں پڑھنے کا مشورہ دیا۔ مدنپورہ نائٹ اسکول کا پتہ اسی نے بتایا تھا۔ یہاں پہنچنے پر ایک شخص اسکول سے باہر آتے دکھائی دیئے، ان سے نائٹ اسکول کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے بتایا یہی اسکول ہے۔ یہ کہہ کر وہ باہر چلے گئے۔ اقبال کوارے اسکول میں گئے۔ وہاں موجود ذمہ دارسے ضروری معلومات حاصل کی۔ اُس وقت داخلہ فیس ۵؍ روپے تھی جبکہ ان کی جیب میں صرف ۳؍روپے تھے۔ وہ ذمہ دار شخص سے۳؍روپے میں داخلہ دینے کی رو کر درخواست کررہےتھے۔ اس دوران اسکول کے باہر ملنے والے شخص بھی یہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے متعلقہ ذمہ دارسے استفسار کیا۔ اس نے داخلہ کیلئے ۲؍روپے کم ہونے کی بات بتائی جس پر انہوں نے اپنی جیب سے ۲؍روپے نکال کر دیئے۔ اس طرح ان کا داخلہ نائٹ اسکول میں ہوا۔ یہاں سے ان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔ ۴۰؍سال بعد اسی محسن شخص سے ہونے والی جذباتی اور حسین ملاقات وہ کبھی نہیں بھولتے ہیں۔ اقبال کوارے کو اسی اسکول میں یوم ِاساتذہ کی تقریب میں بحیثیت صدر شرکت کرنے کا موقع ملا۔ سامعین میں بیٹھے سفید داڑھی والے ایک شخص پر نظر جاکر رک گئی۔ دونوں ایک دوسرے کو تجسس اور جذبات سےدیکھ رہے تھے۔ صدارتی تقریر کے بعد اسٹیج سے اُترکر اقبال کوارے نے ان کے پاس جاکر کہا کہ آپ ایوب سر ہیں ؟ جس پر انہوں نے بھی برجستہ فرمایا، تم اقبال ہونا؟ یہ کہہ کر دونوں ایک دوسرے سےبڑی گرمجوشی سے بغلگیر ہوئے۔ اقبال کوارے انہیں اسٹیج پر لے گئے، اپنی شال انہیں اُڑاھائی، سامعین سے انہیں متعارف کرایا اور کہا کہ اگر انہوں نے فیس کے ۲؍روپے اُس وقت نہیں دیئے ہوتےتو آج میں کسی ہوٹل میں مزدوری کر رہا ہوتا۔ 
۱۹۷۰ء کی بات ہے۔ اقبال کوارے اپنے ایک ڈراماکی تیاری کے تعلق سے غیبی نگر، بھیونڈی میں عارضی طورپر مقیم تھے۔ اس دوران اچانک فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا۔ ایسے میں وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ ممبئی کیلئے غیبی نگر سے نکلے تھے۔ راستے میں لوٹ مار، آتشزنی، تشدد اور توڑ پھوڑ جاری تھی۔ شرپسند کھلے عام چاقو اور تلوار لےکر سڑکوں پر گھوم رہے تھے۔ دریں اثنا اقبال کے دوست جو اُن کے ساتھ تھے، شرپسندوں کے ہتھے چڑھ گئے اور تلواروں کے حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ اقبال کوارے وہاں سے بھاگے۔ انہوں نے بتایا کہ’’ ایک گولی میرے پیر میں آکر لگی، لیکن میں بھاگتا رہا۔ آگے مجھے ایک ٹرک دکھائی دیا جس کی رفتار کم تھی، اسلئے میں اس کے پیچھے لٹک رہی موٹی رسی کو پکڑ لیا اور اسی رسی کے سہارے زمین پر گھسٹتے ہوئے دھامنکر ناکہ تک پہنچ گیا۔ وہاں پہنچنے پر ڈرائیور نے ٹرک کو ایک جانب لگایا۔ ‘‘ اس دوران خون سے لت پت اقبال کوارے بے ہوش ہوگئے تھے۔ ۲؍دنوں بعد ان کی آنکھ جے جے اسپتال میں کھلی۔ 
۱۹۷۹ء کاقصہ ہے، سعودی عرب میں ملازمت کے دوران ایک دن اپنی گاڑی سے علیٰ الصباح ۵؍بجے دمام کی شاہر اہ سے گزر رہے تھے۔ کچھ دیر کی مسافت کے بعد اچانک گاڑی بندپڑگئی۔ کسی طرح گاڑی کو سڑک کے کنارے لگایا۔ ٹانکی کی جانچ پر پیٹرول ختم ہونے کاپتہ چلا۔ بے یار و مددگار صحرا میں کافی دیر کھڑے رہے، شاہراہ سے گزرنےوالی گاڑیوں کے مالکان سے مدد کی اپیل کی، لیکن کسی نے بھی گاڑی نہیں روکی، بہت دیر بعد ایک انگریز نے گاڑی روک کر معاملہ دریافت کیا۔ فوراُ اپنی گاڑی سے پیٹرول نکال کر ان کی گاڑی میں پیٹرول منتقل کیا اور دوسرے لمحہ تیزی سے آگے کی جانب روانہ ہوگیا۔ اس کے جانے کے بعد اقبال کوارے بھی یہاں سے روانہ ہوئے، کچھ راستہ طے کرنے کے بعد ایک پیٹرول پمپ دکھائی دیا۔ وہاں اپنی موٹرگاڑی میں پیٹرول فل کرانےکیلئے رکے تھے، اسی پیٹرول پمپ پر ذرا سی دوری پر اسی انگریز شخص کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ پمپ کے نمائندہ سے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ وہ بھی پیٹرول بھروانے کیلئے رکے ہیں۔ اقبال کوارے نے دونوں کی گاڑیوں کی پیٹرول ٹانکی فل کرانے کی رقم پیٹرول بھرنے والے کو دی۔ جب انگریز شخص پیسہ دینے لگا توپیٹرول پمپ والے نے اقبال کوارے کی جانب اشارہ کر کے بتایا کہ انہوں نے آپ کا پیسہ بھی دے دیا ہے۔ بعدازیں انگریز شخص نے اقبال کوارے سے آکر پوچھا آپ نے میرا پیسہ کیوں دیا جس پر انہوں نے کہا، آپ نے بھی تو میری مدد کی ہے۔ اس کے جواب میں انگریز شخص نے کہا کہ اس کا صلہ فوری طور پر مجھے دینے کے بجائے، زندگی میں کبھی کسی بھی مقام پر اگر کوئی انگریز پریشانی میں دکھائی دے تو اس کی مدد کر کے اس صلہ کو پورا کرلینا لیکن فی الحال ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا اور اقبال کوارے کو وہ سبق آج تک یاد ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK