• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’فسادات میں کرفیو پاس دکھاکر مریض کیلئے اہم انجکشن کی تلاش میں کئی اسپتال گئی‘‘

Updated: January 18, 2026, 1:03 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

بائیکلہ کی ۷۶؍ سالہ شریفہ نذیر احمد انصاری کے والد محی الدین منشی کا شمار ممبئی کی معروف سماجی، سیاسی اور تعلیمی شخصیات میں ہوتا ہے، یہ خود بھی طویل عرصے تک درس و تدریس سے وابستہ رہیں ، اس کے ساتھ ہی سماجی اور فلاحی سرگرمیوں سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔

Sharifa Nazir Ahmed Ansari. Photo: INN
شریفہ نذیر احمد انصاری۔ تصویر: آئی این این

بائیکلہ میں رہائش پزیر ۷۶؍سالہ شریفہ نذیر احمد انصاری کی پیدائش ۱۰؍اکتوبر ۱۹۴۹ءکو منگلی کندوری (فارس روڈ)میں ہوئی تھی۔ ان کے والدمحی الدین منشی کا شمار شہر کی معروف سماجی، سیاسی اور تعلیمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ محی الدین منشی کو پاٹن والا مارگ، بائیکلہ میں سرکاری کوارٹرز ملا تھا، اسلئے شریفہ نذیر احمد کی ابتدائی پڑھائی بائیکلہ میونسپل اُردو اسکول سے ہوئی۔ وہاں سے ۷؍ویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کےبعد بیلاسس روڈ پرواقع انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول سے ۹؍ویں تک پڑھائی کی۔ اس دور میں بھی طلبہ کے کم ہونےسے اسکول کےبندہونےکےخدشے کے پیش نظران کے والدنے انہیں انجمن اسلام سے نکال کر گلڈر لین میونسپل اُردو اسکول میں منتقل کردیا تھا جہاں سے انہوں نے دسویں جماعت پاس کیا۔ بعدازیں امام باڑہ پر واقع ڈی ایڈ کالج میں داخلہ لیا۔ ڈی ایڈ مکمل کرنےکےبعد والد کی ایماء پر ۴؍ سال تک بائیکلہ میونسپل اُردو اسکول میں اعزازی ٹیچر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس دوران شادی ہوگئی جس کی وجہ سے پڑھانے کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ امورخانہ داری سے منسلک ہونےکی وجہ سے عملی زندگی سے دور ضرورہوئیں لیکن سماجی، طبی اور تعلیمی سرگرمیوں سے اب بھی وابستہ ہیں۔ گزشتہ ۳۰۔ ۳۵؍برسوں میں ۷؍ غریب لڑکیوں کی ازدوجی زندگی آباد کر چکی ہیں، جو اَب بھی ان کے رابطےمیں ہیں۔ طبی اور تعلیمی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے کاجذبہ اب بھی برقرارہے لیکن ضعیفی کی وجہ سے پہلےکی طرح فعال نہیں ہیں۔ فی الحال وہ اپنے ۲؍بیٹوں کے گھروں پر باری باری رہتی ہیں۔ اپنےپوتی پوتوں اور نواسے نواسیوں کے علاوہ ہمسائے کےبچوں کےہمراہ زیادہ وقت گزارتی ہیں۔ ان سب کیلئے گھرمیں کھلونوں کاخاصا ذخیرہ کررکھاہے۔ صبح ہوتےہی سارے بچے گھر میں جمع ہوجاتے ہیں ۔ ان کے شور وغل سے دن بھر گھر میں پائی جانے والی رونق سے شریفہ انصاری خوب محظوظ ہوتی ہیں۔ 
شریفہ انصاری کی زندگی مسلمانوں کےساتھ برادران وطن کے درمیان بھی گزری ہے۔ ۱۹۷۳ءکی بات ہے، جب وہ آگری پاڑہ بی آئی ٹی بلاک نمبر ۱۲؍میں رہتی تھیں۔ ان کی بلڈنگ سےمتصل بلاک نمبر ۹؍ میں رہنےوالی ایک مہاراشٹرین نوجوان لڑکی نے خودسوزی کرلی تھی، اس کی اطلاع ملتےہی وہ اس کی بلڈنگ میں پہنچ گئیں لیکن پولیس نے انہیں گھر میں جانےکی اجازت نہیں دی۔ لڑکی کو علاج کیلئے نائر اسپتال داخل کیاگیا۔ پولیس والوں کو لڑکی سے خود سوزی کی وجہ معلوم کرنی تھی۔ ایسے میں پولیس نے سماجی کارکن کی حیثیت اور ہمسایہ ہونےکےناطے شریفہ انصاری کے گلے میں خفیہ پین ریکارڈ ر لگاکرنائر اسپتال بھیجاتھا، تاکہ لڑکی سے خود سوزی کی وجہ معلوم کی جاسکے۔ متاثرہ لڑکی نے شریفہ کو بتایاتھاکہ میرے والدین نہیں ہیں، بھائی بھابھی کےساتھ میں رہتی ہوں، گھریلو تشدد کی وجہ سےیہ انتہائی قدم اُٹھانا پڑا۔ شریفہ انصاری نے اس لڑکی کو تسلی دی، اس کی مدد کی اورآئندہ اس طرح کا اقدام نہ کرنےکی تلقین کی۔ اُس وقت سے یہ لڑکی ان کی مداح ہے اور آج بھی ان کے رابطے میں ہے۔ خودسوزی کی وجہ سے لڑکی کاچہر ہ بری طرح جھلس گیاتھا۔ بعد میں ایک نابینا کےساتھ اس کی شادی کردی گئی جہاں وہ خوشحال زندگی گزار رہی ہے۔ اس کے بچے بھی ہیں اور وہ بھی خوش حال ہیں ۔ وہ آج بھی جب کبھی شریفہ انصاری سے ملاقات کرتی ہے توان کےپیر چھو کر ان کاشکریہ ادا کرتی ہے۔ 
شریفہ انصاری ۲۰۰۵ءمیں گھر کے کچھ ممبران کےعلاوہ اپنے چھوٹے بیٹے، بہواور اپنی ۸؍ماہ کی نواسی کے ساتھ حج پر جارہی تھیں لیکن تکنیکی دشواریوں کی وجہ سےان کے چھوٹے بیٹے، بہواور نواسی کا ویزا نہیں لگ سکا۔ ایسے میں انہوں نےحج کمیٹی کے اعلیٰ افسران سے بات چیت کرکے اورڈاکٹرکی سرٹیفکیٹ کی مدد سے اپنی ۸؍ماہ کی پوتی کو اپنے ساتھ لے جانےکی راہ ہموارکرلی جبکہ ان کے چھوٹے بیٹے اوربہوکو نجی ٹور کےذریعے حج پر بھیجنےکی تیاری کی گئی، جس روز شام کو شریفہ انصاری حج پر جارہی تھیں ، اس کےدوسرے دن صبح ٹور آپریٹر نے ان کے بیٹے اوربہوکو حج پر روانہ کرنےکاوعدہ کیاتھالیکن وہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوسکا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’قحط سالی میں زیادہ لوگوں کی دعوت کرنےپرپولیس شادی کا کھانا اُٹھا لےجاتی تھی‘‘

شریفہ انصاری نے ۲؍مرتبہ حج اور۱۵؍بار عمرہ کیاہے۔ ۲۰۰۳ء میں عمرہ کےدوران، جدہ سے قریب واقع شاہراہ پر اچانک سائرن بجنے کی آواز کےساتھ سڑک پر دوڑتی ساری موٹرگاڑیاں رک گئی تھیں۔ چند منٹوں میں بڑے اور خطرناک بندروں نےان گاڑیوں کو گھیر لیاتھا۔ مقامی بلدیہ کی جانب سے گاڑیوں کے شیشوں کو کپڑوں سے ڈھانکنے کا اعلان کیاجارہاتھا۔ گاڑی میں موجود لوگ خوفزدہ تھے، نامعلوم کب کیا ہو، والی صورتحال تھی۔ کچھ دیر بعد بلدیہ کی ٹماٹر سے بھری بڑی گاڑیاں یہاں پہنچیں، پوری سڑک پر ٹماٹر بچھادیاگیا، ٹماٹر دیکھ کر بندر ٹماٹر پر ٹوٹ پڑے اور بڑی تعدادمیں ٹماٹر جمع کرکے بندر وہاں سے روانہ ہوگئے۔ 
بابری مسجد کی شہادت کےبعدپھوٹ پڑنےوالےفرقہ وارانہ فسادات کےدور میں سائن کے پرتیکشانگر سے بہت سے مسلمانوں نے جنوبی ممبئی کےمتعدد مسلم اکثریتی علاقوں میں پناہ لی تھی۔ مدنپورہ کے محمد عمر رجب اسکول میں بھی متاثرین کی رہائش کاانتظام کیاگیاتھا۔ یہاں ایک شخص کینسر کےمرض میں مبتلاتھا۔ اسےایک انجکشن لگاناضروری تھا۔ اس انجکشن کی قیمت ۱۲۰۰؍روپےتھی۔ کرفیو میں اس انجکشن کو خریدکرلانا ایک بڑا مسئلہ تھا۔ ایسےمیں شریفہ انصاری کرفیو پاس دکھا کر پہلے بامبے اسپتال بعدازیں دیگر ۲؍اسپتال گئیں لیکن ان اسپتالوں میں انجکشن نہیں ملا۔ بڑی مشکل سے بھاٹیہ اسپتال میں انجکشن ملاتھا۔ وہاں سے انجکشن لاکر انہوں نےاس مریض کو لگوایاتھا۔ جس کےبعد اس کی طبیعت میں عارضی بہتری آئی تھی۔ اس کیلئے مریض کے گھر والوں نے ان کا شکریہ ادا کیاتھا۔ 
شریفہ انصاری کے والد ناگپاڑہ سے ۱۸؍سال تک کائونسلر رہے، اس دوران ایک مرتبہ ایک ڈیم کے افتتاح کیلئے پنڈت نہرو ممبئی آئے تھے۔ افتتاحی تقریب میں منشی صاحب کو بھی مدعوکیاگیاتھا، وہ اپنے ساتھ شریفہ کوبھی لے گئے تھے۔ وہ دن آج بھی یاد ہے۔ 
شریفہ انصاری نے پانی کے جہاز سےحج پر جانےوالے عازمین کی بھی خدمت کی ہے۔ اس تعلق سےایک مرتبہ تلخ تجربہ بھی ہواہے۔ وہ ایک معذور عمررسیدہ عازم کو جہاز پر چڑھانےکی کوشش کررہی تھیں، انہیں پریشان دیکھ کر ایک شخص ان کی مددکو آگے آیا۔ اس نے معذور کو اُٹھانے میں مدد ضرور کی لیکن اسی کے سہارے وہ خود بھی جہازمیں سوار ہوگیا اور اسی جہاز سے خود بھی بلاٹکٹ حج پر روانہ ہوگیا۔ کچھ دنوں بعد پولیس نے شریفہ انصاری کو طلب کرکے ایک تصویر دکھائی اورکہاکہ تم اسے پہچانتی ہو۔ شریفہ نےکہا، ہاں ایک معذورکو جہاز میں چڑھاتے وقت اس نے مددکی تھی لیکن میں اسے جانتی نہیں ہوں۔ کچھ سال بعد اچانک ناگپاڑہ پر اس شخص سے ملاقات ہو ئی توشریفہ نے استفسار کیاتو اس نےبتاکہ، میں بھی جہاز میں سوارہوکرحج کرنے چلاگیاتھا۔ مجھے حج پر جاناتھالیکن میرے پاس وسائل نہیں تھے، ا سلئے معذورکےساتھ جہاز میں چڑھ گیاتھا۔ اس کی بات سن کر انہیں بڑی حیرت ہوئی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK