کرلا،پائپ روڈ کی ۷۸؍سالہ قمرالنساء شیخ نے ۳۶؍سال تک تدریسی خدمات انجام دیں، سبکدوش ہونےکےبعد امورخانہ داری کےساتھ سلائی ، کڑھائی اوربنائی جیسے کاموںمیں برسوں تک مصروف رہیں،عمر کے اس مرحلے پر بھی پوری طرح سے فعال ہیں۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 12:44 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
کرلا،پائپ روڈ کی ۷۸؍سالہ قمرالنساء شیخ نے ۳۶؍سال تک تدریسی خدمات انجام دیں، سبکدوش ہونےکےبعد امورخانہ داری کےساتھ سلائی ، کڑھائی اوربنائی جیسے کاموںمیں برسوں تک مصروف رہیں،عمر کے اس مرحلے پر بھی پوری طرح سے فعال ہیں۔
کرلا ،پائپ روڈ کی ۷۸؍سالہ قمرالنساء عبدالحمید شیخ کی پیدائش ۲۱؍ جون ۱۹۴۸ءکو ہوئی تھی۔ پائپ روڈ پرواقع موریشور پاٹنکر مارگ اُردو پرائمری اسکول سے پانچویں اور انجمن اسلام ماہم سے ایس ایس سی پاس کیا۔امام باڑہ بی ایڈ کالج سے پی ٹی سی کرکےسائن میونسپل اُردداسکول سے بحیثیت معلمہ عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۷؍سال بعدبحیثیت معلمہ کرلاکی اسی اسکول ( موریشور پاٹینکرمارگ )میں منتقل ہوئیںجہاںسے پرائمری تعلیم حاصل کی تھی۔ ۶؍ سال بعد کالینہ کےشاستری نگر میونسپل اُردو اسکول میں تبادلہ ہوا جہاں ۲۰؍سال تک بچوںکو پڑھایا ۔۲۰۰۶ءمیں وہیں سے بحیثیت نائب صدرمدرس سبکدوش ہوئیں۔ مجموعی طورپر۳۶؍سال تک تدریسی خدمات انجام دیں ۔سبکدوش ہونےکےبعدگھریلوذمہ داریوں کےساتھ تقریباً ۲؍ سال بچوںکو عربی کی تعلیم دی۔ فی الحال امورخانہ داری کےساتھ سلائی ، کڑھائی اوربنائی کےکاموںمیں مصروف رہتی ہیں۔ اس کےعلاوہ نماز، روزہ اور تلاوت ان کا اہم مشغلہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیا عزم، نیا جذبہ، نئی فکر، نئی تدبیر..... اس کیلئے نئے سال کا انتظار کیوں؟
قمرالنساء شیخ اپنے خاوند عبدالحمید کےساتھ حج پر جاناچاہتی تھیں۔ وہ ہمیشہ ان سے کہتیں کہ ہم حج پر جائیں گے لیکن ذیابیطس کی شدت کی وجہ سے طبیعت اکثر خراب رہتی تھی،اس کے علاوہ بھی کچھ ایسی دقتیں درپیش رہیںکہ عبدالحمید اہلیہ کے بجائے اپنی ساس کے ساتھ ۱۹۸۶ءمیں حج پر گئے۔حج سے واپسی کے ۱۵؍دنوں بعد ان کی موت ہوگئی۔ ایک طرف حج پر اُن کے ساتھ نہ جانےکاافسوس اور دوسری طرف ان کی رحلت سے وہ ٹوٹ گئی تھیں۔ بہرحال وقت کےساتھ شوہرکی موت کا صدمہ کم ہوا لیکن حج پر جانے کی تڑپ باقی رہی۔وہ اکثر حج پر جانےکیلئے دعا کرتی تھیںلیکن ان کےساتھ کوئی جانےوالانہیں مل رہاتھا۔ ۱۲؍ سال بعد ان کی دعا پوری ہوئی۔ ۱۹۹۸ءمیں ان کے محلے کی کچھ خواتین حج پر جارہی تھیں تو انہوںنے اس موقع کو غنیمت جانا اور ان کےساتھ حج پر چلی گئیں۔ خانہ کعبہ اور مسجد نبویؐ دیکھ کر ان کے دل کو قرار آیا۔
یہ بھی پڑھئے: سال نوکی اشاعتوں میں اخبارات نے محاسبۂ گزشتہ سال اور حالات حاضرہ کو موضوع بنایا
قمرالنساءشیخ نے بچپن میں اپنی نانی اور خالہ وغیرہ کو مٹی کے چولہے پر کوئلہ اورلکڑی کے ایندھن سے کھانا پکاتے دیکھا ہے۔گھر کی خواتین چولہا بھی اپنےہاتھوں سےبنالیتی تھیں۔ وہ اپنےبڑے بھائی کےساتھ پائپ روڈکے گھر کےقریب واقع جنگل جھاڑی سے جاکر سوکھی لکڑیاں چن کر لاتی تھیں،ان لکڑیوں کو جلاکر کھاناپکایاجاتا تھا۔ اسی طرح سل بٹے سے مسالہ پیسنےکی روایت تھی۔ ہاتھ سے پسے ہوئے مسالے کاکھانا بہت لذیذ ہوتاتھا۔بقرعید پر گھرکی خواتین قیمہ بھی سل بٹے ہی پر کوٹ لیتی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: اسٹیٹس گیم اور ویلیڈیٹ ٹیکس کی بھول بھلیاں
قمرالنساء کی شادی۱۹۶۸ءمیں ہوئی تھی۔ اس دورمیں قحط سالی کی وجہ سے کرفیوجیسا ماحول تھا۔ شادی بیاہ میں زیادہ لوگوںکو دعوت دینےپر پولیس شادی کا کھانا اُٹھالے جاتی تھی۔ سوکھا پڑنے سے اناج کی قلت تھی۔ایسےمیں عوام کو مطلوبہ مقدارمیں اناج نہیں مل رہاتھا۔ اُن دنوں اندرا گاندھی وزیر اعظم تھیں۔ حکومت پر طنز کسنےکیلئے ایک نعرہ کافی مقبول تھا کہ’’میرے دیش کی رانی اندراگاندھی، بانٹے لال جواری۔‘‘ دراصل ان دنوں حکومت کی جانب سے عوام میں لال جواری تقسیم کی جارہی تھی۔ ان حالات کی وجہ سے ان کی شادی صرف گھروالوںکی موجودگی میں ہوئی تھی۔ باہر کے کسی مہمان کو مدعونہیں کیاگیاتھا۔شادی میں دالچہ ،چاول اورگیہوںکی روٹی بنائی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میرے ایک سوال پر گلبدین حکمت یار نے کہا کہ اصل طاقت اللہ ہے، نہ کہ سپر پاورز‘‘
۲۶؍جولائی ۲۰۰۵ءکو ممبئی میںہونےوالی موسلادھار اورطوفانی بارش کی تباہ کاریوںکو قمرالنساء شیخ نے بہت قریب سے دیکھاہے۔ اس دورمیںوہ کالینہ کے شاستری نگر میونسپل اُردو اسکول میں ملازمت کرتی تھیں۔بارش کی شدت کی وجہ سے دوپہر کےبعد والدین اسکول آکر اپنے بچوںکوگھرلے جارہےتھے۔صرف ۴؍بچےایسے تھے جن کے والدین تاخیر سےآئے تھے ۔ اس وجہ سے وہ اپنی ۲؍ساتھی ٹیچر، جو کرلا میں ہی رہتی تھیں، ان کے ساتھ اسکول سے دیر سے نکلیں ۔ سڑکوں پر پانی بھر جانے سے آمدورفت کانظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ بس اوردیگرگاڑیاں پانی میں پھنسی ہوئی تھیں۔ایسےمیں قمرالنساءشیخ اپنی ساتھیوں کے ہمراہ بڑی مشکل سے پانی میں دھیرے دھیرے چلتےہوئے سی ایس ٹی روڈ جنکشن تک پہنچی تھیں۔یہاں سڑک پر پانی بہت زیادہ تھا۔ اس کےآگے جانا،جان جوکھم میں ڈالنے جیسا تھا ۔ایسےمیں انہوںنے پائپ روڈ جانےکےبجائے ٹیکسی مینس کالونی میںرہنےوالی اپنی ایک ساتھی ٹیچر کےگھر جانے کافیصلہ کیا،کسی طرح وہاں پہنچیں ،لیکن یہاں کی صورت حال بھی تشویشناک تھی۔ پوری کالونی میں پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ گرائونڈ فلورکے گھر پانی میں ڈوب گئے تھے۔ایسےمیں بھی کسی طرح وہ پہلی منزل پر اپنی ساتھی کے گھر پہنچیں اور وہیں پوری رات جاگ کرگزاری۔ ٹیلی فون وغیرہ کی سہولت نہ ہونے سے گھروالوں سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ ان کا چھوٹا بیٹا ،انہیں رات بھر اِدھر اُدھر تلاش کرتارہا۔کہیں بھی پتہ نہ چلنے پر مایوس ہوکر گھرلوٹ آیا۔دوسرے دن دوپہر میں پانی کم ہونےپر جب وہ گھر پہنچیں تو سارےگھر والے خوشی سے جھوم اُٹھے۔گھر پہنچنے پر انہیں معلوم ہواکہ ان کی طرح ان کابڑابیٹااور بھتیجابھی رات بھر پانی میں پھنسے رہےاور دونوں نے الگ الگ مقامات پر بسوںمیں رات گزاری تھی۔ ان کی زندگی کایہ سب سے خطرناک واقعہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی کی کہانی جہاں انسان نہیں، منصوبے مرکز میں رہے
قمرالنساء شیخ نے پنڈت جواہر لال نہرو اور ان کی بیٹی اندراگاندھی کو ایک ساتھ کرلا اسٹیشن کے قریب ایک جلسے میں دیکھا تھا۔ دونوں باپ بیٹی ایک ساتھ بہت اچھے لگ رہےتھے۔ان کی تقریریں بھی سنی تھیں ۔ ان معروف لیڈروں کے علاوہ بھی انہوں نے کئی اہم لیڈروں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ دراصل جن دنوں وہ انجمن اسلام ،ماہم میں زیر تعلیم تھیں، اسکول کی جانب سے طالبات کو بڑے لیڈران اور بیرونی ممالک کے سربراہان کے خیرمقدم کیلئے کیڈ ل روڈ پر بھیجاجاتاتھاتاکہ طالبات سڑک پر قطار میں کھڑی ہوکر ان کا استقبال کریں۔طالبات کے ان قافلوں میں قمرالنسا ء متعددمرتبہ حصہ لے چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ’’بی ایم سی اوربلدیاتی انتخابات میں عوامی بیزاری: اسباب اور حل‘‘
قمرالنساء شیخ آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تھیں۔ وہ اسکول سے گھر جانےکیلئے ماہم اسٹیشن پر سہیلیوں کے ہمراہ کھڑی تھیں، دریں اثنا سامنے کےپلیٹ فارم پر ایک ۱۳۔۱۲؍سا ل کالڑکاجوٹرین میں غالباً پیپر منٹ وغیرہ بیچتاتھا، اس کےساتھ ۶۔۷؍سال کی ایک لڑکی تھی جو اچانک پلیٹ فارم سے پٹری پر گرگئی۔اسی دوران ٹرین کوآتا دیکھ کر لڑکے نے پٹری پر چھلانگ لگائی اور لڑکی پراوندھا لیٹ گیا اوراسے پوری طرح اپنی گرفت میں لے کر اُس وقت تک لیٹا رہاجب تک کہ ٹرین اس پر سے گزر نہیں گئی ۔ اس دوران وہاں موجود مجمع کی سانس رک گئی تھی۔سب یہی سمجھ رہے کہ دونوں اللہ کو پیارے ہوگئے لیکن ان کی حیرت کی انتہانہ رہی جب اس لڑکے نے ٹرین کےجانےکےبعد لڑکی کو اُٹھاکر پلیٹ فارم پر بٹھایا، سب اس کی بہادری اور جرأت پرعش عش کررہےتھے۔
یہ بھی پڑھئے: بعض اخبارات نے ماب لنچنگ مقدمات، کسی نے اراولی کان کنی کو موضوع بنایا
ماہم انجمن اسلام میں قمرالنساء نے ایک ثقافتی پروگرام میں معروف فلم اداکار دلیپ کمار کودیکھاتھا۔ اس دور میں دلیپ کمار کی مقبولیت آسمان چھورہی تھی۔ انہوںنے تعلیم کے موضوع پر بڑی اچھی تقریر کی تھی اور طالبات کو پڑھائی کی ترغیب دی تھی۔ وہاں سےجانےکےبعد انہوں نے اسکول کیلئے ۸۰؍ہزارروپے کافنڈ دینے کااعلان کیاتھاجو اس دور میں بہت بڑی رقم تھی۔ اسی اسکول میںقمرالنساء کے ہمراہ معروف گلوکار محمد رفیع کی بیٹی پروین اور رضامراد کی ایک صاحبزادی بھی پڑھتی تھیں۔