کرلاکے ۸۸؍ سالہ محمد رفیع انصاری کا تعلق الہ آباد سے ہے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی سے گریجویشن کیا جہاں انہیں معروف شاعر فراق گورکھپوری کا شاگرد ہونے کااعزاز بھی حاصل ہوا، فراق صاحب انگریزی کے پروفیسر تھے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 9:59 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
کرلاکے ۸۸؍ سالہ محمد رفیع انصاری کا تعلق الہ آباد سے ہے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی سے گریجویشن کیا جہاں انہیں معروف شاعر فراق گورکھپوری کا شاگرد ہونے کااعزاز بھی حاصل ہوا، فراق صاحب انگریزی کے پروفیسر تھے۔
کرلا پائپ روڈ کے محمد رفیع انصاری یکم نومبر۱۹۳۸ء کو الہ آباد کے فتوحہ گائوں، پوسٹ ہنومان گنج، تحصیل ہنڈیا میں پیدا ہوئے تھے۔ گائوں کے پرائمری اسکول میں پہلی سے چوتھی اور بلرام پور سیکنڈری اسکول سے ہائی اسکول پاس کیا۔ تلک انٹرمیڈیٹ کالج کوٹواں، ہنومان گنج سے انٹر اور الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے میں کامیابی حاصل کی۔ بی ایڈ کی پڑھائی گورکھپور یونیورسٹی سے مکمل کی۔ عملی زندگی کے ابتدائی دور میں بلرام پور سیکنڈری اسکول میں ملازمت حاصل کرنےکی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملنے کی صورت میں اپنے گائوں سے بھیونڈی منتقل ہوئے، جہاں سوداگر محلے میں ان کے چھوٹے بھائی لوم کا کام کرتے تھے۔ یہاں چھوٹے بھائی کے توسط سے حافظ عبدالقدوس صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے رئیس ہائی اسکول میں ملازمت دلانے کی کوشش کی۔ اس دور میں رئیس ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر ظفرالاسلام صاحب تھے۔ انہوں نے انٹرویو لیا اور فوری طور پر ڈیوٹی جوائن کرنےکی پیشکش کی۔ اس طرح ۱۹۶۴ء سے تدریسی خدمات کاآغاز ہوا۔ رئیس ہائی اسکول میں ۲؍سال پڑھانے کے بعد بی ایم سی اسکول میں بحیثیت معلم ملازمت کا موقع ملا۔ گھاٹ کوپر میں واقع اسلفا میونسپل اُردو اسکول میں ۲؍سال، ناگپاڑہ میونسپل سیکنڈری اسکول میں ۴؍ سال، بعدازیں ملاڈ میونسپل اسکول، ایس وی روڈ پر ۱۸؍سال تدریسی خدمات پیش کیں اور آخر میں این ایم جوشی مارگ میونسپل اُردو اسکول سے بطور سپروائزر ۱۹۹۶ء میں سبکدوش ہوئے۔ مجموعی طور پر۳۳؍ سال تدریسی خدمات انجام د یں ۔ سبکدوش ہونے کے بعد ۲؍سال ایکمیوز نامی ادارے (بیت المال) سے وابستہ رہے۔ دوران ِ ملازمت آپ نےمحلے کے بچوں کو ہمیشہ مفت ٹیوشن دیا ہے۔
اپنی ۳۳؍ سالہ تدریسی خدمات کے دوران کا ایک واقعہ وہ کبھی نہیں بھولتے ہیں۔ جس دور میں وہ ملاڈ کے میونسپل اُردو اسکول میں ملازمت کر رہے تھے، ۹؍ویں جماعت کا ایک طالب علم تقریباً ایک مہینے سے غیر حاضر تھا، کلاس ٹیچر نے محمد رفیع سے اس بات کا ذکر کیا، جس پر انہوں نے طالب علم کے والدین کو رقعہ روانہ کرنے کامشورہ دیا۔ رقعہ ملتے ہی والدین نے اسکول آکر بتایا کہ وہ تو روزانہ گھر سے اسکول کیلئے روانہ ہو رہا ہے اور اسکول چھوٹنے کےاوقات کے مطابق گھر پہنچ رہا ہے۔ محمدرفیع نے والدین کو ساری حقیقت بتائی کہ آپ کا بچہ ایک مہینے سے اسکول نہیں آ رہا ہے۔ د وسرے دن والدین بچے کو ساتھ لے کر اسکول آئے، استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ اسکول تو آ رہا تھالیکن کلاس میں آنے کے بجائے اسکولی عمارت کے عقبی حصے میں بیٹھ کر چھٹی کے وقت گھر چلا جاتا تھا۔ والدین نے کافی ڈانٹ ڈپٹ کی، جس پر محمد رفیع نے والد سےکہا کہ آپ فکر نہ کریں ہم اسے سمجھائیں گے۔ اس دن کے بعد سے لڑکا پابندی سے اسکول آکر پڑھائی کرنے لگا۔
محمد رفیع ۵۹۔ ۱۹۵۸ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں پڑھا کرتے تھے۔ ان کے پروفیسروں میں عالمی شہرت یافتہ معروف شاعر فراق گورکھپوری بھی شامل تھے۔ وہ انگریزی پڑھاتے تھے۔ ان کے پریڈ میں کلاس بھری ہوتی تھی۔ ۴۵؍منٹ کے پریڈ میں انہوں نے کلاس میں کبھی بیٹھ کر نہیں پڑھایا۔ ان کے ہاتھ میں سیگریٹ ہوتی، کش لیتے ہوئے پوری کلاس کا چکرلگاتے ہوئے طلبہ کو پڑھاتے تھے۔ انگریزی کی نظم کے ایک بند کی تشریح کیلئے وہ بیسوں اُردو اشعار سناتے تھے۔ ان کی باتیں طلبہ کے سیدھے دلوں میں اترجاتی تھیں۔
محمد رفیع نے انگریزوں اور زمینداروں، کا دور قریب سے دیکھا ہے۔ انگریزوں کے دور میں زمینداروں کا بڑا رعب اور دبدبہ تھا۔ انگریز افسران لگان وصولنے گائوں گائوں جاتے تھے لیکن لگان وصولنے سے پہلے وہاں کے زمیندار سے اجازت حاصل کرنا ضروری تھا۔ افسران گھوڑے سے آکر، زمیندار کے گھر کے قریب رک جاتے، بعدازیں اپنے اردلی کو زمیندار کے گھر بھیج کر گائوں سے لگان وصولنے کی اجازت طلب کرتے تھے۔ زمیندار کی اجازت کے بعد گائوں میں کیمپ لگا کر نقد یااناج کی صورت میں لگان وصول کرتے تھے۔
محمد رفیع نے جواہر لال نہرو اور لال بہادر شاستری کو الہ آباد کے آنند بھون میں دیکھا جبکہ اندراگاندھی کو بلرام پور میں دیکھنے کےساتھ سنا بھی تھا۔ وہ ایک جلسے میں وہاں تھیں ۔ انہوں نےاپنی تقریر میں کہاتھاکہ سخت محنت ملک کو عظیم بنانے کا واحد راستہ ہے اور مواقع خود نہیں ملتے انہیں حاصل کرنا پڑتا ہے جس کیلئے محنت اور کوشش کرنی پڑتی ہے۔ ان کی شخصیت سے وہ بہت متاثر ہوئےتھے۔ ان کی خوداعتمادی اور حوصلہ سے بات پیش کرنے کی صلاحیت کے وہ قائل ہیں ۔
محمد رفیع جس دور میں سیکنڈری اسکول میں زیر تعلیم تھے، بلرام پور میں طاعون کی وبا پھیلی تھی۔ وبا کے خوف سے گائوں میں افراتفری کا ماحول تھا۔ لوگ گائوں چھوڑ کر محفو ظ مقامات پر منتقل ہو رہے تھے۔ اسی وجہ سے ان کا اسکول بھی بلرام پور سے جی ٹی روڈپر واقع گارڈن کے قریب منتقل کر دیاگیاتھا۔ یہاں وبا کا اثر نہیں تھا۔ تقریباً ایک سال تک وہ اپنے گائوں سے ۵۔ ۴؍ کلومیٹر کا پیدل سفر طے کر اسکول آتے جاتے تھے۔ اسکول میں بھی حفاظتی اقدامات کے تحت بچوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جاتا تھا۔ آج بھی گائوں جانے پر اس راستے گزرتے وقت وبا کے وہ مناظر آنکھوں میں گردش کرنے لگتے ہیں ۔
اس دور میں محمد رفیع کے گائوں میں علی حسن نقوی اور مہدی حسن نامی ۲؍ زمینداروں کا طوطی بولتا تھا۔ ان کی اجازت کے بغیر لوگ گائوں میں کوئی کام نہیں کرسکتے تھے۔ بیرونی شہروں سے گائوں آنے والے پہلے ان کی دہلیز پر فرشی سلام پیش کرتے تھے، اس کے بعد ہی گائوں میں داخل ہونے کی انہیں اجازت ہوتی تھی۔ جو ایسا نہیں کرتا، اسے سزا کامرتکب ٹھہرایا جاتا۔ ایک مرتبہ محمد رفیع کے گاؤں میں ممبئی سے ایک مہمان آئے تھے۔ ان کایکہ مقامی زمیندار کے گھر پر رُکے بغیر آگے بڑھ گیا تھا۔ یہ منظر دیکھتے ہی زمیند ارنے اپنے ملازم سے کہا کہ یہ کون شخص تھا جو بغیر اجازت گائوں میں داخل ہوگیا۔ ملازم نے بتایا کہ وہ فلاں شخص کا داماد ہے۔ زمیندار نے ملازم کے ذریعے اس شخص کو بلا کر کہا کہ آپ کاداماد بغیر سلامی دیئے یہاں سے کیسے گزر گیا ؟جس پر اس شخص نے کہا کہ اس سے غیردانستہ طور پر غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ معاف کر دیں ، جس پر زمیند ار نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن اسے اچھی طرح سمجھا دیں ، آئندہ ایسی غلطی نہیں ہونی چاہئے۔ ان کے ساتھ تو خیر زمیندار نے کچھ نہیں کہا لیکن ایک مرتبہ اسی طرح کی’ غلطی‘ پر زمیند ار کو’مجرم‘ کی کمر پر ہکا رکھ کر پیتے ہوئے گاؤں والوں نے دیکھا تھا جس کی وجہ سے اس کی دہشت بیٹھ گئی تھی۔
محمد رفیع کی شادی کے دور میں بارات یکے پر جاتی تھی۔ عزیزوں اور باراتیوں کی تعداد کے مطابق یکوں کا انتظام کر کےخواتین کے یکوں پر پردہ باندھ دیا جاتا تھا۔ پردے والے یکوں پر خواتین اور بغیر پردے والے یکوں پر مرد حضرات لڑکی کے گھر جاتے تھے۔ وہاں بڑی سادگی سے نکاح ہوتا تھا۔ نکاح کے بعد ضیافت کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ کھانے میں استطاعت کے مطابق نان، گوشت، پلائو اور زردے وغیرہ کا انتظام ہوتا جبکہجہیز میں گھریلو ضروری اشیا ء دی جاتی تھی۔ اسی یکے پر دلہن سسرال آتی۔ اس دور میں بجلی نہ ہونے سے رات کے وقت ہونے والی شادی میں گیس لیمپ کا استعمال کیا جاتا تھا۔ شادی کارڈ کا رواج نہیں تھا۔ دعوت زبانی یا قریبی رشتےداروں کے گھروں پر ہلدی کا ایک ٹکڑا بھیج کر دی جاتی تھی۔